عالم کو یہ دوہری سزا کیوں ؟

عالم کو یہ دوہرا عذاب اس لئے دیا گیا کیونکہ وہ جانتے ہوئے نافرمانی کا مرتکب ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے۔( تحقیق منافق لوگ آگ کے زیریں درجے میں ہوں گے)۔ یہ اس سبب کے انہوں نے جان لینے کے بعد انکار کیا اور یہ خود کو نصاری سے زیادہ شریر کہا گیا ہے

حالانکہ نصاری نے اللہ کا بیٹا بنا دیا اور کہنے لگے تین میں تیسرا اور انہوں نے یعنی یہود نے پہچان لینے کے بعد انکار کیا جیسے کہ فرمایا گیا ہے۔ ( وہ اس کو پہچانتے ہیں جس طرح کے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں)۔ نیز فرمایا ہے۔( پس جب وہ ان کے پاس تشریف فرما ہوا جسے انہوں نے پہچان لیا تھا تو اس کے انکار کر دیا پس لعنت ہے کافروں پر اللہ کی)۔ اور اللہ نے بلعم بن باعور کا واقعہ یوں بیان فرمایا ہے۔ ( اور ان پر اس کے بارے میں خبر بیان کرو جسے ہم نے اپنی نشانیاں عطا فرمائے پس وہ ان سے نکل گیا اس کو شیطان نے اپنا پیروکار بنایا اور وہ ہوگیا گمراہ ہو جانے والوں میں سے)۔ پھر اسی کے بارے میں یوں فرمایا ہے۔ ( پس مثال اس کی مانند کتے کے ہے کہ اس پر تو بوجھ ڈالے تو زبان کو لٹکاتا ہے اور اگر اس کو تو چھوڑ دے تو بھی زبان ہی لٹکائے)۔ پس عالم سوء کا انجام یہ ہے کیونکہ بلعم بن باعور کو اللہ نے علم کتاب عطا فرمایا تھا لیکن شہوتوں میں غرق ہو گیا لہذا اسے کتے سے مشابہت دی گئی ہے یعنی اس کو خواہ حکمت کی بات بتاۓ یا نہ بتائے وہ شہوات میں ہی غرق رہے گا۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا ہے علماء سوء کی مثال ایسی ہے پتھر کے مانند جو نہر کے دہانے پر گر جائے نہ وہ خود پانی پیتا ہے اور نہ ہی کھیتی کے واسطے پانی چھوڑتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: