معجزہ معراج نبی ﷺ

یہ ایک سیٹیلایٹ سے لی گئی تصویر ہے – اس میں ” نمبر ایک “مسجد الحرام یعنی کعبہ مشرفہ کی نشاندہی کر رہا ہے جبکہ” نمبر دو ” ایک پہاڑ اور ” نمبر تین ” ایک تاریخی مسجد کے مقام کو ظاہر کر رہا ہے – اگر ان تینون مقامات کو ملا کر دیکھا جاتے تو اس کا سلسلہ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے ایک عظیم معجزے سے جا ملتا ہے جسکو ہم سب فراموش کر بیٹھے ہیں۔

تا ہم آج کی سائنس اس معجزے کی حقانیت کو چیخ چیخ کے بیان کر رہی ہے – یاد رہے یہ پہاڑ اور یہ مسجد سعودی عرب کی حدود میں نہیں ہے اور رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم ان مقامات پر کبھی تشریف بھی نہی لیے گے لیکن انہون نے ان مقامات کے بارے میں اس وقت کے لوگوں کو جو بتایا وہ انکے لئے بھی حیرت کا باعت تھا اور آج کے انسانوں کے لیے بھی – اس پہاڑ اور اس مسجد کا کعبہ مشرفہ سے ایک انوکھا تعلق ہے جو صرف رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم ہی جانتے تھے – تصویر میں جس مقام پر دو کا ہندسہ درج ہے ، وہ ایک پہاڑ ہے جسکا نام ” جبل دیاں ” ہے اور یہ یمن کے دار الحکومت ” صنعا ” میں واقع ہے تصویر میں جس مقام پر تین درج ہے ، یہ ایک مسجد کا ہے جو یمن میں حضور صلی الله و سلّم کے کہنے پر بنائی گئی تھی اور جگہ کی نشاندہی بھی آپ صلی الله و سلّم نے فرما دی تھی- اس مسجد کا نام ” مسجد صنعا ” ہے – ان دونون مقامات کا کعبہ مشرفہ سے یہ تعلق ہے کہ اگر مسجد صنعا میں کھڑے ہوکر جبل دایان کی چوٹی کی جانب منہ کیا جایے، جو مسجد سے صاف نظر آتی ہے تو یہ سو فیصد درست قبلہ کا رخ بنتا ہے –

حضور صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کا یہ معجزہ عقل کو دنگ کر دیتا ہے کہ سن چھہ ہجری میں جب یمن کے لوگ اسلام قبول کر کے اسکی تعلیمات کے لیے حضور صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کے پاس آے تو حضور صلی الله علیہ و آلہ وسلّم نے ایک صحابی ” زیبر بن یونس” کو انکا معلم بنا کر یمن بھیجا – جب آپ حضور صلی الله علیہ وآلہ و سلّم سے دریافت کیا گیا کہ ہم مسجد بناکر قبلے کے رخ کا اندازہ کیسے لگائیں گے تو حضور صلی الله علیہ و آلہ و سلّم نے ارشاد فرمایا کہ ” آپ ” بیتھان” ( جگہ کا نام ہے ) میں اس طرح مسجد بنائیں کہ آپکے سامنے “جبل د ایان ” کی چوٹی ہو – یہ بالکل کعبہ کا سامنا ہوگا – حضور صلی الله علیہ وآلہ و سلّم کے فرمان پر جانیں قربان کرنے والے اصحاب نے یقین کامل کے ساتھ اس حکم پر عمل کیا لیکن عقلیں حیران تھیں کہ بغیر کسی آلات پیمائش کے آپ صلی الله و سلّم نے یہ کیسے بتادیا – لیکن آج کی سائنس اور گوگل ارتھ اس کو ثابت کر چکے ہیں کہ اگر مسجد صنعا سے “جبل د ایان ” کی چوٹی کی جانب کی سیدھا خط کھنیچا جایے اور پھر اسکو بالکل سیدھا اگے بڑھاتے جائیں تو یہ خط کعبہ مشرفہ کے بالکل وسط کو چھوتا ہے- الله اکبر.- الله اکبر- الله اکبر- یہ ایک زندہ معجزہ ہے ہمارے سچے اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا –

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: