نمرود کی چھوٹی بیٹی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام

نمرود کی چھوٹی بیٹی نے کہا اے میرے باپ مجھے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آگ میں جو حالت
ہے دیکھنے دیجئے جب اس نے دیکھا تو آپ صحیح و سالم نظر آئے۔آپ کو آگ کیوں نہیں جلاتی ۔

آپ نے فرمایا جس کی زبان پر بسم اللہ الرحمن الرحیم ھو اور اس کے دل میں معرفت الہی ہوں اسے آگ نہیں جلاسکتیں ۔اس نے کہا میں بھی آپ کے پاس آنے کا مقصد رکھتی ہوں آپ نے فرمایا پڑھیے ہے لا الہ الا اللہ ابراہیم رسول اللہ اس نے پڑھا اور آگ میں داخل ہوئی اس کے لئے بھی آگ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو گئی ۔

پھر جب آگ سے باہر نکل کراپنے باپ نمرود کے پاس آئی تو اس نے دین ابراہیم کی طرف آنے کی دعوت دی مگرنمرود نے کہا اگر تم نے دین ابراہیم کو نہ چھوڑا تو تجھے سخت ترین عذاب دیا جائے گا۔ پھر اللہ تعالی کے حکم سے حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے اور اس لڑکی کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا دیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے سے اس کا عقد فرمادیا ۔جس سے اللہ تعالی نے 20 نبی عطا فرمائے ۔

حضرت امام ثعلی علیہ رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کتاب العرائیس اوراس میں لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ وسلم کا ارشاد ہے جن دنوں میں آگ میں ڈالا گیا تھا ان سے زیادہ آرام و سکون کے دن مجھے کبھی میسر نہیں ہوئے حضرت سدی علیہ الرحمتہ کا قول ہے کہ آپ آتش نمرود میں نو دن رہے جبکہ بعض نے چالیس دن بیان کیے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: