ایک عابد اور خوبصورت عورت کا ایمان فروز واقعہ

بنی اسرائیل کے ایک عابد نے سترسال اللہ کی اطاعت وبندگی میں بسر کیے ایک رات وہ اپنے عبادت خانے میں عبادت گزاری میں مشغول تھا کہ اچانک ایک خوبصورت عورت عبادت خانے کے دروازے پر پہنچی دستک دی اور سے دروازہ کھلوانا چاہا وہ رات بڑی سرد تھی پھر بھی عابد نے اس عورت کو ناقابل توجہ سمجھا ذرا بھی التفات نہ کیا بس عبادت میں مگن رہا۔

عورت مجبور ہو کر واپس جانے لگی عابد نے دروازہ کھول کر دیکھا تو اس عورت پر نگاہ پڑی اس کا حسن اس غضب کا تھا کہ وہ اسے جی جان سے بھاگ گئی اسے بڑاجھٹکا لگا بس اب کیا تھا جوں جوں وہ عورت کو واپس جاتا دیکھ رہا تھا اس کا دل اس کے دام محبت میں گرفتارہوتا جاتا تھا اس کا دماغ عورت کے آنچل کی مہک سے معطر ہونے کے لیے بے تاب ہو گیا عبادت اور ریاضت کو بالائے طاق رکھا ۔

اور جھٹ اس عورت کے پیچھے چل دیا عورت کے قریب پہنچ کر دھیرے سے پوچھا کہاں جا رہی ہو عورت نے جواب دیا جہاں مرضی چلی جاؤ عابد بولا:”چھوڑو اب کہاں جانا اور کیسا جانا تم جس کی طلب میں آئی تھی وہ تو تمہارا دلدادہ ہو چکا اب وہ آزاد ہوتے ہوئے بھی تمہاری غلامی قبول کرنے کو تیار ہے۔”عابد اس عورت کو بالآخر اپنے معبد میں لے گیا وہ عورت اس کے ساتھ سات دن تک مقیم رہیں اب عابد کو ہوش آیا کہ اس نے کس طرح ستر برس کی عبادت کو صرف 7 دن میں غارت کر دیا اور کس قدر گھناؤنے گناہ میں ملوث رہا ۔

چنانچہ زاروقطار رونے لگا یہاں تک کہ اس پر بے ہوشی طاری ہو گئی اور وہ غش کھا کر گر پڑا جب ہوش آیا توعورت نے کہا” اے عابد اللہ کی قسم تم نے میرے علاوہ کسی اور سے ایسا کام نہیں کیا جسے اللہ کی نافرمانی کہا جائے یہ تیری پہلی غلطی ہے اور میرا معاملہ بھی یہ ہے کہ میں نے بھی تیرے علاوہ کسی اور کے ساتھ کسی گناہ کا ارتکاب کر کے اللہ کی نافرمانی مول نہیں لیں میں تیرے چہرے پر نیکی و صلاح کا اثر دیکھتی ہوں اگر تجھے تیرے پروردگار نے پناہ دی تو میرے لیے بھی معافی کی درخواست کرنا۔”

اس کے بعد وہ عابد بھی اپنے معبد سے نکل گیا ادھر ادھر سرگرداں پھرنے لگا رات کو ایک کھنڈر میں پہنچا وہاں دس اندھے رہتے تھے ان کے قریب ہی ایک راہب رہتا تھا جو ہر رات ان کو 10 روٹیاں بیجھا کرتا تھا چنانچہ اس رات بھی راہب کا غلام حسب معمول اندھوں کے لئے دس روٹیاں تقسیم کرنے لگا تو اس گناہ گار عابد نے بھی ہاتھ بڑھا دیا ایک روٹی اسے بھی مل گئی جب ایک اندھے کی روٹی کم پڑ گئی تو اس نے پوچھا:” میری روٹی کدھر ہے۔”

غلام بولا:میں نے تو دس روٹیاں تمہارے درمیان تقسیم کر دی اندھے نے کہا واہ جی واہ کیا اب کیا میں بھوکے پیٹ ہی رات گزاروں گا؟یہ سن کر وہ عابد رونے لگا اور جو روٹی اس نے لے رکھی تھی اور اس اندھے کے حوالے کر دی اور کہنے لگا “میں بھوکے پیٹ رات گزارنے کا زیادہ مستحق ہوں کیونکہ میں گنہگار ہوں اور یہ اندھا اللہ کا فرماں بردار ہے۔”

پھر وہ بھوکے پیٹ ہی سو گیا اسی رات اس کی اجل آ پہنچی اللہ نے اس کی روح قبض کرنے کے لئے ملک الموت کو بھیجا اور وہ موت کے منہ میں چلا گیا اب اس کے بارے میں رحمت کےفرشتوں اور عذاب کے فرشتوں کے مابین اختلاف پیدا ہوگیا کہ اس شخص کو کہاں جانا چاہیےجہنم میں یا جنت میں؟ رحمت کے فرشتوں نے کہا یہ آدمی اپنے گناہ سے فرار ہو کر اللہ کی اطاعت کی جستجو میں آیا ہے عذاب کے فرشتوں نے کہا نہیں یہ تو بڑا گناہ گار آدمی ہے۔

اللہ نے ان فرشتوں کے پاس اسی وقت وحی بھیجیں کے تم اس عابد کی ستر برس کی عبادت اور سات دن کے گناہوں کا وزن کرو فرشتوں نے تعمیل کی اس عابد کی ستر سالہ عبادت کو سات دن کی معصیتیت کے مقابلے میں تولا تو گناہوں کا پلڑا عبادت کے پلڑے سے بھاری نکلا اب اللہ نے فرشتوں سے کہا اس کی وہ نیکی میری بارگاہ میں شرف قبولیت حاصل کر چکی ہے جب اس نے روٹی اندھے کے حوالے کر دی تھی۔

اور خود بھوکا سو گیا تھا چنانچہ فیصلہ رحمت کے فرشتوں کے حق میں صادر ہو گیا اور عابد کی روح ان رشتوں کے حوالے کر لیں اس عابد کی توبہ سچی تھی بس رب کریم نے اسے شرف قبولیت سے نوازا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: