آپ ﷺ اور صحابہ کرام کے درمیان گفتگو

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کی اور منبر پر تشریف لائے ارشاد ہوا ہر شخص اپنی جگہ بیٹھے رہے پھر دریافت فرمایا جانتے ہو میں نے تمہیں بیٹھے رہنے کے لئے کیوں کہا ہےصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا:” میں نے تمہیں شوق دلانے یا ڈرانے کے لئے جمع نہیں کیا۔

“تمہیں جمع کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ تمیم داری جو پہلے نصرانی تھا اب اس نے اسلام قبول کر لیا ہے اس نے بیعت بھی کی ہے پھر اس نے مجھ سے ایک ایسی بات بیان کی ہے جو میرے اس بیان کے مطابق ہے جو میں تم سے مسیح دجال کے بارے میں کیا کرتا تھا اب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمیم داری کی زبانی بیان کردہ بات سنانا شروع کی۔

میں لخم اور جذام قبائل کے تیس آدمیوں کے ساتھ سمندر میں چوبی جہاز پر سوار تھا ایک بڑی موج آئی اور جہاز کو بہا لے گئی۔ سمندری طوفان میں ہمارا جہاز ایک مہینے تک ادھر ادھر لڑھکتا اور بھٹکتا رہا پھر اس کا رخ ایک جزیرے کی طرف ہو گیا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا جزیرے کے قریب پہنچ کر ہم ایک چھوٹی سی کشتی میں سوار ہوگئے پھر جزیرے میں داخل ہوگئے ہم نے وہاں ایک گھنے اور کھردرے بالوں والا چو پایا دیکھا بالوں کی بہتات کی وجہ سے اس کی اگلی اور پچھلی جانب کا کوئی پتہ ہی نہیں چلتا تھا۔

لوگوں نے اس سے پوچھا تمہارے لئے بربادی ہو تم کون ہو؟ وہ کہنے لگا میں جساسہ ہوں۔ پوچھا جساسہ کیا بلا ہے؟وہ بولا: اے قوم ایسا کرو اس گرجا گھر میں ایک شخص رہتا ہے اس کے پاس چلے جاؤ وہ تمہیں بڑے شوق سے ساری بات بتائے گا اورتمہاری بات بھی سنے گا وہ تمہارے بارے میں جاننے کا بہت مشتاق ہے۔جب اس نے ہمیں متذکرہ آدمی کے بارے میں بتلایا تو ہمیں اس چوپائے کے بارے میں شیطان ہونے کا خوف ہوا ہم لوگ جلدی سے اس آدمی کی طرف چل دیے اور گرجے میں داخل ہو گئے وہاں ایک آدمی تھا بہت لمبا تڑنگا تھا اس کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ اوردونوں زانو دونوں ٹخنوں تک لوہے کی زنجیر سے جڑے ہوئے تھے ہم نے اتنی سختی سے جکڑا ہوا آدمی کبھی نہ دیکھا تھا ہم نے پوچھا ارے کمبخت تو کیا چیز ہے؟

وہ بولا: تم لوگ اب میری خبر پر قابو پا ہی لو گے پہلے تم بتاؤ کہ تم کون لوگ ہو ہم نے کہا ہم عرب لوگ ہیں ہمیں ایک سمندری جہاز میں سوار ہوئے سمندر کی موج ہم سے ایک مہینے تک کھیلتی رہی اور ہم کسی نہ کسی طرح تیرے ٹاپو سے آ لگے پھر ہم ایک چھوٹی سی کشتی میں بیٹھ کر ٹاپو میں داخل ہوئے یہاں ہمیں ایک بھاری دم کا بہت گھنے بالوں والا جانور ملا بالوں کی کثرت سے اس کے اگلے پچھلے حصے کی شناخت ہی نہیں ہو پا رہی تھی ہم نے پوچھا ارے کمبخت توکیا بلا ہے وہ بولا میں جساسہ ہو ہم نے پوچھا یہ جساسہ کیا ہے اس نے جواب دیا تم لوگ اس آدمی کے پاس چلے جاؤ جو گرجے کے اندر ہے وہ تمھاری خبر کا بے حد مشتاق ہے چنانچہ ہم لوگ تیزی سے دوڑتے ہوئے تیرے پاس آ پہنچے اور ڈرے کے مبادا تو کوئی بھوت پریت ہے۔

زنجیروں میں جکڑے ہوئے آدمی نے پوچھا اچھا تم لوگ مجھے بیسان کے نخلستان کے بارے میں تو بتاؤ ہم نے کہا تو اس نخلستان کے بارے میں کیا پوچھنا چاہتا ہے وہ بولا میں اس نخلستان کے بارے میں پوچھتا ہوں کہ کیا وہ پھلتا پھولتا ہے ہم نے کہا ہاں پھلتا پھولتا ہے اس نے کہا اب عنقریب وہ نہیں پھلے پھولے گا پھر اس نے کہا مجھے طبرستان کے سمندر کے بارے میں بتاؤ ہم نے کہا اس کے بارے میں تو کیا پوچھنا چاہتا ہے اس نے سوال کیا ہے اس کا پانی سوکھ جائے گا پھر اس نے کہا مجھے زغر کے چشمہ کے متعلق معلومات دو ہم نے کہا تو اس چشمہ کے بارے میں کیا جاننا چاہتا ہے کہنے لگا کیا اس میں پانی ہے اور کیا وہاں کے لوگ اس پانی سے کھیتی باڑی کرتے ہیں۔

ہم نے بتایا اس میں بہت پانی ہے وہاں کے لوگ اس کے پانی سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور کھیتی باڑی کرتے ہیں۔وہ پوچھنے لگا مجھے نبی الامی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتاؤ کہ وہ کیا کر رہے ہیں ہم نے کہا وہ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لا چکے ہیں اس نے دریافت کیا کیا ان سے عربوں نے لڑائی کی ہے ہم نے کہا ہاں پوچھا اس کا نتیجہ کیا نکلا ہم نے کہا انہوں نے قرب و جوار کے عربوں پر قبضہ پا لیا ہے اور عربوں نے ان کی اطاعت قبول کر لی ہے۔

کہنے لگا کیا ایسا ہوگیا ہے ہم نے کہا وہ کہنے لگا یہ عربوں کے حق میں بہت اچھا ہے کہ اس کی اطاعت کریں لواب میں تمہیں اپنے بارے میں بتاتا ہوں۔میں مسیح دجال ہوں اب وقت آیا ہی چاہتا ہے کہ مجھے یہاں سے نکلنے کی اجازت مل جائے گی جب میں نکلوں گا تو ساری دنیا میں گھوموں گا تمام چھوٹی بڑی بستیوں کا چالیس دنوں میں دورہ کر لوں گا ہاں میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو پاؤں گا کیونکہ ان دونوں شہروں میں میرے لئے داخل ہونا حرام ہے۔ جب بھی میں ان دونوں شہروں یا ان میں سے کسی ایک شہر میں داخل ہونے کی کوشش کروں گا ایک فرشتہ ننگی تلوار سونتے ہوئے میرا استقبال کرے گا اور مجھے شہر میں داخل ہونے سے روک دے گا ان شہروں کے ہر راستے پر فرشتے ہیں جو ان کی حفاظت کرتے ہیں۔

اس حدیث کی راویہ فاطمہ بنت قیس ہیں جو ضحاک بن قیس کی بہن ہے وہ کہتی ہیں کہ اس موقع پراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے تھے آپ نے اپنے عصا سے منبر پر ٹیک لگائی اور فرمایا:” یہ طیبہ ہے یہ طیبہ ہے یہ طیبہ ہے۔” یعنی مدینہ۔ پھر فرمایا:”کیا میں نے تمہیں یہ باتیں نہیں بتائ تھیں؟”لوگوں نے جواب دیا بے شک بتائی تھیں۔ارشاد ہوا: جب مجھ سے تمیم نے یہ اوپر والی باتیں بیان کی تو یہی باتیں تھیں جن کا میں تم سے ذکر کرچکا ہوں اور مکہ اور مدینہ کے بارے میں بتا چکا ہوں۔” آگاہ رہو دجال بحر شام یا بحریمن میں نہیں بلکہ وہ مشرق کی جانب سے آئے گا۔”پھر آپ نے مشرق کی طرف اشارہ فرمایا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: