میاں اور نیک سیرت بیوی

ان کی شادی کو زیادہ دیر نہیں گزری تھی بس چند گھنٹے ہی گزرے تھے میاں بیوی رات کا کھانا کھانے بیٹھے اچانک کسی نے دروازے پر دستک دی خاوند کو بڑا غصہ آیا کون ہماری خلوت میں مخل ہو رہا ہے نیک سیرت بیوی نے کہا کوئی بات نہیں کوئی ضرورت مند ہو گا اچھا میں دیکھتی ہوں دروازے کی اوٹ سے اس نے پوچھا کون ہے جواب ملا کہ فقیر ہوں بھوکا ہوں اگر کھانا کھلا دو تو بڑا شکر گزار ہوں گا۔

بیوی واپس آئی خاوند نے غصے سے پوچھا دروازے پر کون ہے جواب دیا کوئی فقیر ہے کھانے کا طلبگار ہے۔ خاوند بڑبڑایا بھلا یہ کون ہے اس وقت ہمارا دروازہ کھٹکھٹانے والا وہ تاؤ میں آ کر باہر نکلا اور اس فقیر کو مارنا شروع کر دیا وہ بیچارا معذرت کرتا رہا مگر اس کا پارہ چڑھا ہوا تھا یہ اس کی پٹائی کرتا رہا فقیر ہانپتا کانپتا واپس چلا گیا اس کے جسم پر خراشیں آچکی تھی بھوک بھی بڑی سخت لگی ہوئی تھی آج تک ایسا نہیں ہوا تھا کہ وہ کسی دروازے پر گیا ہو اور اس کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک ہوا ہو مگر کیا کیا جائے یہ قسمت کی بات ہے۔خاوند واپس آ گیا اب اس کا موڈ آف ہو چکا تھا وہ بڑبڑاتا ہوا کھانے پر بیٹھ گیا اس کی دلہن بھی پریشان نظر آ رہی تھی۔ پھر اچانک شوہر کی طبیعت خراب ہو گئی اسے چکر آنے لگے اسے یوں محسوس ہوا جیسے کسی ان دیکھی قوت نے اسے دبوچ لیا ہے وہ بری طرح چلا رہا تھا اسی حالت میں وہ گھر سے باہر نکل گیا اس کی دلہن نہایت غمگین ہوئی اور پریشانی کے عالم میں خاوند کا انتظار کرتی رہی مگر وہ گدھے کے سینگ کی مانند اس طرح غائب ہوا کہ پھر نہ آیا ایک دن نہیں کئی ہفتے گزر گئے اس کی تلاش جاری رہی رشتہ دار اقربا سب پریشان ہوگئے ہر جگہ تلاش کیا مگر بے سود اور پھر مہینے نہیں کئی سال بیت گئے اس کی بیوی اس کا مسلسل بےسود انتظار کرتی رہی۔

طویل انتظار کے بعد اس نے قاضی کی عدالت میں مقدمہ دائر کردیا کہ میرا خاوند کی برسوں سے مفقود الخجر ہے لہذا میرے مستقبل کافیصلہ کیا جائے چنانچہ عدالت نے شریعت مطہرہ کی روشنی میں اس کا نکاح فسخ کر دیا۔ پھر اس کی شادی ایک نیک دل شخص کے ساتھ ہوگی شادی کو چند دن گزرے تھے کہ پھر وہی حالت پیش آئی جو اب سے کئی سال پہلے پیش آئی تھی بیوی نے دسترخوان پر کھانا لگایا اورکھانے پر بیٹھا ابھی چند لقمے ہی لیے تھے کہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا شوہر بولا یہ کون ہے جو اس وقت ہماری خلوت میں مخل ہوا ہے؟ اچھامیں دیکھتا ہوں اس کی بیوی کہنے لگی آپ بیٹھے رہیے میں جاتی ہوں پھر اس نے دروازے کی اوٹ سے پوچھا تم کون ہو اور کیا چاہتے ہو دستک دینے والے نے کہا میں فقیر ہوں کئی دنوں سے بھوکا ہوں کوئی مجھے کھانا کھلا دے بیوی واپس آئیں خاوند کو بتایا کہ ایک فقیر ہے کئی دن سے بھوکا ہے اور کھانا مانگ رہا ہے خاوند نے اسی وقت دسترخوان سے کھانا اٹھایا اور بیوی سے کہا جاؤ اسے دے دو اور کہو خوب پیٹ بھر کر کھانا کھالے اگر کھانا بچ گیا تو ہم بھی کھالیں گے ورنہ اور کھانا پکا لیں گے۔

بیوی کھانا لے گئی اس فقیر کو پیش کیا پھر لوٹ آئیں اب اس کی آنکھوں میں آنسو تھے وہ رو رہی تھی خاوند نے پوچھا کیا ہوا کیوں رو رہی ہو کیا اس وقت فقیر نے کوئی سخت بات کہہ دی ہے۔بیوی نے روتے ہوئے جواب دیا نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں یہ فقیر جواب تمہارے دروازے پر کھانا بیٹھ کر کھانا کھا رہا ہے درحقیقت یہ وہی شخص ہے جو کئی سال پہلے میرا خاوند تھا میری اس سے شادی ہوئی پہلی ہی رات ایک سائل ہمارے دروازے پر آیا اس نے کھانا مانگا میرا یہ خاوند غصے میں آ کر اٹھا اور فقیر کو خوب مارا تھا تاکہ اس کا خون نکل آیا وہ فقیر نڈھال ہو کر چلا گیا پھر اچانک میرے خاوند کو یوں محسوس ہوا گویا کہ کسی نادیدہ طاقت نے اس کے حواس سلب کر لیے ہوں وہ گھر سے بھاگ گیا ہم نے اسے بہت تلاش کیا مگر وہ نہ ملا اب مدتوں بعد میں نے اسے سائل کی حیثیت سے دیکھا ہے کہ وہ میرے دروازے پر کھڑا ہے اور بھیک مانگ رہا ہے اس کے خاوند نے یہ بات سنی تو وہ بھی رونے لگا۔ بیوی نے حیران ہو کر پوچھا تم کیوں رو رہے ہو

وہ بولا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے سابقہ خاوند جس آدمی کو مارا تھا وہ کون ہے وہ کہنے لگی تم ہی بتاؤ کہ وہ کون تھا شوہر نے کہا میں ہی وہ شخص تھا جسے اس نے اس دن مارا تھا پاک ہے وہ ہستی جس نے ایک متکبر شخص سے ایک فقیر اور مسکین کا بدلہ لے لیا مجھ سے اس نے جو سفاکانہ سلوک کیا جس طرح میری بےعزتی کی اور مجھ بھوکے پیاسے پر جو گزری اللہ نے یہ سارا ماجرا خوب دیکھا اس نے اس ظلم کو پسند نہ کیا اور اس شخص پر اپنا عذاب نازل کیا جس نے انسانیت کی توہین کی تھی رب کریم نے بدلہ دیا میں نے مار کھائی صبر کیا ہاتھ نہ اٹھایا زبان سے اف بھی نہ کہا اللہ نے مجھ پر کرم فرمایا اور مجھے اپنے فضل سے غنی کر دیا اور اس ظالم شخص کو یہ سزا دی کہ اس کی عقل اور مال چھین لیا اب وہ دربدر مارا مارا پھرتا ہے اب وہ ایک فقیر ہے میں اس اللہ کے صدقے کیوں نہ جاؤ جس نے تمہارے صبر کا اتنا میٹھا پھل دیا کہ تمہیں سابقہ ظالم خاوند سے نجات دے کر اس کے بدلے میں ایک اچھا شوہر عطا فرمایا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔” ہم ان دنوں کو لوگوں کے درمیان ادل بدل کرتے رہتے ہیں۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: