حضرت لاپو لاپو رحمۃ اللہ علیہ تاریخ اسلام کا ایک غیور مجاہد – محمد سلیم

اچھا جی، یہ جو مشاہیر اور اکابریں ہوتے ہیں ناں، یہ صرف برصغیر پاک و ہند میں ہی نہیں پائے جاتے، برصغیر سے باہر بھی ہوتے ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے مشاہیر کے بارے میں تو پاس مارکس کیلئے پڑھ لیتے ہیں، باہر والوں کو پڑھ کر کیوں اپنی روزی روٹی کھوٹی کریں؟

ویسے اب اگر میں جناب لاپو لاپو ( Lapu Lapu ) کے ساتھ حضرت اور رحمۃ اللہ علیہ کا تڑکا لگا کر آپ لوگوں کو یہاں تک لے ہی آیا ہوں تو یہ بھی پڑھتے ہی جائیے ۔ عرب تاجر اور قرون اولیٰ کے مسلمان ہمیشہ سے ہی فلپائن اور اس کے جزیروں کو جانتے ہیں ۔ عرب ان جزیروں کو مہاراجہ کے جزیرے کہتے تھے۔ یہاں پر 1380 میں اسلام چین اور سومطرہ سے واپس آتے مسلمانوں کے ہاتھوں پھیلا ۔ یہاں ہسپانوی تسلط سے پہلے اسلام منیلا کی حدود تک پہنچ چکا تھا ۔ فلپائن کا 7000 چھوٹے بڑے جزیوروں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے کچھ جزیرے مسلمان ہوئے تو کچھ تک اسلام کی روشنی نا پہنچ سکی تھی ۔ 1521 میں ہسپانوی اپنے قائد اور سیاح “فرنینڈڈ میگلان” کی قیادت میں یہاں پہلی بار پہنچے، انہوں نے اپنا پڑاؤ جزیرہ سیبو میں ڈالا ۔ یہاں کے حاکم سے معاہدہ کیا کہ وہ اگر یہاں کے لوگوں کو عیسائی بنانے میں مدد کرے تو بدلے میں اسے یہاں کا اور آس پاس کے جزیروں کا ہسپانوی تاج کے سایہ میں بادشاہ مقرر کر دیا جائے گا ۔ یہاں سے مطمئن ہو کر ہسپانوی چند میل کے فاصلے پر واقع جزیرہ مکتان گئے ۔

جو مسلمان حاکم جناب لاپو لاپو کے زیر سایہ تھا۔ جزیرے پر مذہب اسلام کے راج کا سن کر، انہوں نے مار دھاڑ کی، عورتوں کو بھگایا اور چار دیواری کو پامال کیا۔ حاکم کو پیغام بھجوایا کہ “میں مسیح کے نام پر تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اپنے آپ کو میرے حوالے کر دو، کیونکہ ہم گورے لوگ، بہتر تہذیب و تمدن والے، تم سے زیادہ اس سر زمین پر حاکمیت کی فوقیت رکھتے ہیں” ۔ لاپو لاپو نے جواب بھجوایا “ہم اللہ کے دین پر کاربند اور اس اللہ کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں جس نے رنگ و نسل سے بالا تر ہر ایک کو پیدا کیا”۔ میگلان نے اس انکار کو اپنی عسکری قوت کی دھاک بٹھانے کیلئے ایک سنہری موقع جانا اور اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ مکتان پر دھاوا بول دیا۔ وہ چاہتا تھا کہ لاپو لاپو کو اپنے ہاتھوں قتل کرے تاکہ دوبارہ کوئی مائی کا لعل کسی ایسے حکم کی عدولی کا سوچ بھی نا سکے مگر قسمت کو کچھ منظور تھا اور میگلان بذات خود کام آ گیا اور لاپو لاپو کے ہاتھوں مارا گیا۔ میگلان کی فوج کو شکست فاش ہوئی اور وہ اپنے قائد کی لاش کو میدان میں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ میگلان کی قبر تاحال وہیں پر ہے۔ فلپائن کے لوگ لاپو لاپو کو اپنا ہیرو اور قائد مانتے ہیں

کیونکہ وہ پہلا ایسا شخص ہے جس نے خارجی یلغار کے خلاف جنگ کا فیصلہ کیا اور کامیاب ہوا۔ آج بھی فلیپائن میں کئی مقامات پر لاپو لاپو کے مجسمے موجود ہیں۔ فلپائن کی پولیس کے بیج پر لاپو لاپو کی تصویر بہادری کی ضرب المثل کے طور پر ببنی ہوتی ہے۔ سکے، ڈاک کے ٹکٹ اور تمغے لاپو لاپو کی تصویر سے سجائے جاتے ہیں۔ فلپائن کے کئی تاریخی نوادرات تصاویر میں لاپو لاپو کو میگلان کے ساتھ جنگ کرتا ہوا دکھایا گیا ہے۔ تاریخ کا قلم جن ہاتھوں میں ہے انہوں نے میگلان کو تو ہیرو بنا کر پیش کیا مگر وہ عظیم شخص جس کے ہاتھوں میگلان لقمہ اجل بنا اس کا نام تک مٹانے کی کوشش کی۔ سر زمین فلپائن پر آج بھی کسی کو بہادری میں یکتا کہنا ہو تو اسلام کے اس جری بہادر اور غیور مجاہد کے نام پر لاپو لاپو کہہ کر پکارتے ہیں۔
اللہ پاک اس مومن کی قبر کو فسیح جنات بنائیں اور اس پر ہزاروں رحمتیں نازل فرمائیں۔ آمین۔ لاپو لاپو کے بارے میں ویکیپیڈیا پر پڑھیں
https://en.wikipedia.org/wiki/Lapu-Lapu
میگلان کے بارے میں ویکیپیڈیا پر پڑھیں
https://goo.gl/HHDCqV
میگلان کے بارے میں ویکیپیڈیا پر پڑھیں
https://en.wikipedia.org/wiki/Ferdinand_Magellan ی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: