تمہاری حکومت کے زوال کا سبب کیا تھا

ایک آدمی نے بنو امیہ کے کسی حکیم و دانا سے پوچھا” تمہاری حکومت کے زوال کا سبب کیا تھا؟”حکیم نے جواب دیا” تم نے مجھ سے یہ سوال پوچھ ہی لیا ہے تو اب میری باتیں غور سے سنو میری باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نہ نکالنا بلکہ جو کچھ میں بتاؤں اسے اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرنا”پھر اس دانا آدمی نے سائل کے اہم سوال کا معقول جواب دیا بنو امیہ کے زوال کے جو بنیادی اسباب تھے۔

انہیں انتہائی انصاف کے ساتھ بے کم و کاست بیان کیا اس نے بنو امیہ کی حکومت کے اسباب زوال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:” جس بنیادی چیز کی ہمیں تلاش تھی اور جس کا اہتمام ہم پر شرط لازم تھا اسے ہم نے بالائے طاق رکھ دیا اس کے برعکس ہم اپنے خواہشات نفس کی تکمیل کے لئے بے قابوہوگئے غیر ضروری چیزوں میں الجھ کر رہ گئے ہم نے اپنے وزراء پر اندھا دھند اعتماد کرنا شروع کر دیا اور وہ اس اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھانے لگے ہماری منفعت کی طرف توجہ دینے کی بجائے ہمارے ساتھ چپکے رہنے کو ترجیح دینے لگے اپنا سارا زور اسی بات پر لگانے لگے کہ کسی طرح ہم سے پیوستہ ہی رہیں تاکہ اس پیوستگی کے پس پردہ اپنے مفادات پورے کرتے رہیں چنانچہ ایسا ہی ہوا ان وزراء نے ہمیں اجازت کے بغیر طرح طرح کے قابل اعتراض کام کیے جن کا ہمیں علم بھی نہیں تھا۔ اس طرح رعایا پر ظلم و زیادتی کا ریلا آیا اور ہمارے بارے میں ان کے جذبات میں خیر کا زرہ بھی باقی نہ رہا بلکہ ہمارے لئے ان کی نیتوں میں فتور نے جنم لیا جب عوام ہمارے انصاف سے محروم ہوگئے تو اپنی راحت کے لئے ہمارے مخالفین کا ساتھ دینے لگے جب ان کی اقتصادی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہوگئی تو پھر ہمارے بیت المال پر بوجھ پڑا اور بیت المال بھی آہستہ آہستہ اپنی اہمیت کھو بیٹھا ہم اپنے لشکریوں کی مناسب حوصلہ افزائی نہ کر سکے ان کی تنخواہوں میں تاخیر ہونے لگے۔

اس لئے ان کی طرف سے فرماں برداری میں ڈھیل ہونے لگی نوبت بایں جارسید کہ جب ہمارے دشمنوں نے ہمارے ہی رعایا کو ہمارے خلاف ورغلایا تو وہ ہمارے خلاف آمادہ جنگ ہوگی اور ہمارے مخالفین سے تعاون کرنے لگے اس وقت جبکہ ہم اپنے ہی مسائل حل کرنے سے عاجز تھے ہمارے دشمن ہم پر مقابلے کے لیے چڑھ دوڑے ایک طرف دشمنوں کی قوت اور دوسری طرف ہماری بے بسی اس صورتحال میں بھلا ہم کیا کرسکتے تھے اور لشکر کی طرف سے ہمیں تعاون کی کوئی امید نہ رہی جو کہ ہر فرد ہمارے عدل و انصاف سے مایوس ہو چکا تھا اس لیے ہم نے دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے ہی میں عافیت سمجھی ہمارے زوال کا پہلا اور بنیادی سبب یہ تھا کہ ہم لوگوں کے درمیان عدل و انصاف قائم نہ کر سکے ہم سے عوام کے حالات اور مشکلات پوشیدہ رکھے گئے اور ہمیں حقیقت تک رسائی کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: