عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ کی زندگی

خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ کا شمار خلافت امویہ کے امراء ورؤسا میں ہوتا تھا وہ ایک دن میں کئی کئی دفعہ لباس زیب تن کرتے تھے سونے چاندی کے برتن ان کے پاس موجود تھے نوکروں اور محلات کی کوئی کمی نہ تھی کھانے پینے کی فراوانی تھی غرض یہ کہ انہیں جس چیز کی بھی آرزو ہو سکتی تھی وہ ان کے پاس موجود تھی مگر جو ہی انہوں نے منصب خلافت سنبھالا اور مسلمانوں کے مسائل و معاملات کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر آپڑی تو انہوں نے نازونعم کی تمام اشیاء یک قلم ترک کردیں اور تمام اسباب راحت سے سبکدوش ہوگئے۔

انہیں موت کی سنگینی کا احساس شدت سے ہونے لگا قبر کی پہلی رات کا تصور انہیں چین کی نیند نہیں سونے دیتا تھا۔خلافت کے لئے جب عمر بن عبدالعزیز کا انتخاب عمل میں آگیا اور پوری امت نے ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی تو جمعے کے روز وہ منبر پر کھڑے ہو کر رونے لگے اس وقت ان کے ارد گرد امراء وذرا علماء وشعراء اور سپہ سالاروں کا بڑا مجمع موجود تھا انہوں نے سامعین سے فرمایا:” تم لوگ مجھ سے اپنی بیعت واپس لے لو”
حاضرین یک زبان ہو کر بول اٹھے۔” ہم آپ ہی کو اپنا خلیفہ مقرر کرنا چاہتے ہیں”۔غرض خلافت کا عہدہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی خواہش کے علی الرغم انہیں کو سونپ دیا گیا خلافت کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ابھی صرف ایک ہی ہفتہ گزرا تھا کہ وہ انتہائی کمزور ہوگئے ان کا جسم لاغر اور رنگ فق ہو گیا ان کے پاس صرف ایک ہی جوڑا باقی رہ گیا جسے وہ روزانہ پہنتے تھے۔

لوگوں نے ان کی بیوی سے دریافت کیا امیر المومنین کو کیا ہو گیا ہے؟ بیوی نے جواب دیا:” اللہ کی قسم وہ رات کو نہیں سوتے اللہ کی قسم وہ اپنے بستر کا سہارا نہیں لیتے ہیں وہ اپنے بستر پر اس طرح پلٹیاں کھاتے ہیں جیسے آگ کے انگاروں پر لوٹ رہے ہوں وہ کہتے ہیں آہ امت محمدیہ کی ذمہ داری میرے ناتواں کاندھوں پر آپڑی قیامت کے دن فقراء اور مساکین بچے اور بیوگان سبھی میرا گریبان پکڑیں گے۔”ایک عالم نے ان سے پوچھا اے امیر المومنین مکہ میں ہم نے آپ کو خلافت کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے نازونعم اور صحت و عافیت کے ساتھ دیکھا تھا لیکن کیا وجہ ہے کہ آپ بالکل بدل گئے ہیں۔

یہ سوال سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے اس عالم سے کہا اے ابن زیاد جب تم مجھے قبر میں دفن کیے جانے کے تین دن بعد دیکھو گے جب کہ میں تمام دوست احباب سے جدا ہو کر کپڑوں سے بے نیاز ہو کر ننگا ہوچکا ہوگا اور میرا بدن مٹی میں پڑا ہو گا تو بتاؤ میں کیسا لگوں گا؟ ” اللہ کی قسم ایسا منظر نظر آئے گا جو تجھے پسند نہیں آئے گا۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: