ذوالحجہ کے آخری ایام میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا زندگی کا معمول

ذوالحجہ 23 ہجری کے آخری ایام میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نماز فجر کے لیے نکلے۔ آپ کا معمول تھا کہ جب تک مقتدیوں کی صفیں بالکل سیدھی نہ ہو جاتی تکبیر تحریمہ نہیں کہتے تھے آپ نماز پڑھانے کے لیے مصلی پر کھڑے ہوئے اچانک نمازیوں کی صفوں میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا مجوسی غلام ابو لؤلؤہ آپہنچا اس کے ہاتھ میں ایک خنجر تھا جس کے دونوں طرف دھار تھی وہ نمازیوں کے بیچ سے نکلا ہوا سیدھا امیر المومنین کے پاس پہنچا اور خنجر کے تابڑتوڑ وار کرنے لگا۔

کپڑے اس نے امیر المومنین پر چھ وار کیے ایک وار آپ کے زیر ناف کیا یہی وہ کاری ضرب تھی جس سے آپ جانبر نہ ہو سکے اور اللہ کو پیارے ہوگئے۔آپ کے پیچھے کلیب بن ابو الکبیر اللیشی رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے ابولؤلؤہ نے انہیں بھی خنجر مار دیا اس طرح ان کا بھی انتقال ہو گیا امیر المومنین کو خنجر کا زہر لگا تو آپ گر پڑے اسی حالت میں دریافت فرمایا کیا مقتدیوں میں عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ موجود ہیں؟
پھر آپ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھا دیا تاکہ وہ نماز پڑھائی حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ زمین پر پڑے رہے نماز کے بعد آپ رضی اللہ عنہا کو اٹھا کر گھر لایا گیا آپ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کو بلایا اور فرمایا:میں آپ کو ایک ذمہ داری دینا چاہتا ہوں۔

عبدالرحمن بن عوف: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ آپ مجھے خلافت قبول کرنے کا مشورہ تو نہیں دیں گے؟امیرالمومنین: اللہ کی قسم نہیں۔عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:اللہ کی قسم پھر تو میں خلافت کے پیچ و خم میں کبھی نہیں پھنسوں گا۔عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:بس اب اس سلسلے میں خاموش رہو کسی سے کوئی بات نہ کرو یہاں تک کہ میں ان لوگوں کو خلافت کی پیشکش کرو جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخر دم تک راضی تھے میرے پاس علی عثمان اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کو بلا لاؤ اور طلحہ رضی اللہ عنہ کا بھی انتظار کر لو اگر وہ بھی آجاتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ تم لوگ انہی میں سے کسی کو اپنا خلیفہ منتخب کر لو۔

پھر آپ رضی اللہ عنہ حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے علی میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں اگر تم مسلمانوں کے کسی کام کے ذمہ دار بنا تو اپنے خاندان کے افراد کو دوسرے لوگوں پر ترجیح مت دینا یہی بات آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان اور حضرت سعد بن رضی اللہ عنہ سے بھی کہیں پھر فرمایا تم لوگ ایک کو اپنا خلیفہ منتخب کر لو پھر آپ نے حضرت صہیب کو حکم دیا کہ وہ مسلمانوں کی نمازوں میں امامت کریں پھر حضرت ابو طلحہ انصاری کو بلاکر تاکید فرمائی کہ آپ یہاں دروازے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: