ایک بدو اور آپ ﷺ

ایک بدو آپ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوا اور کہا یا رسول اللہﷺ میں ہل۔اک ہوگیا آپﷺ نے فرمایا کیا ہوا اس نے کہا میں روزہ کی حالت میں بیوی کے قریب چلا گیا میرا کیا بنے گا آپﷺ نے فرمایا تو غلام آزاد کرکفارہ دے ۔

عرض کیا میں صرف اپنی گردن کا مالک ہوں غلام آزاد کیسے کروں میرے پاس کچھ نہیں ۔ آپﷺ نے فرمایا ساٹھ غریبوں کو کھانا کھلا دے اس نے کہا مجھ سے زیادہ غریب مدینے میں کوئی نہیں میں کہاں سے لاؤں پھرآپﷺ نے فرمایا تو ساٹھ روزے رکھ اس نے کہا ایک روزہ میں چاند چڑھا دیا ہے

ساٹھ روزوں کو میں کیسے رکھوں گا کہا تو بیٹھ جا میں تیرا انتظام کرتا ہوں ہو بیٹھ گیا اتنے میں ایک انصاری آیا وہ ایک تھیلا لے کر آیا کہ یا رسول اللہﷺ یہ کھجوریں ہیں صدقہ کی ہاں بھی تم بیٹھے ہو فرمایا جی ہاں پھر فرمایا یہ تھیلا لے جاؤ اور مدینے کے ساٹھ فقراء میں تقسیم کردو یہ مجرم ہے اور یہ جرمانا ہے بدو نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ خدام کی قسم مدینے میں مجھ سے زیادہ غریب کوئی نہیں ہے۔

یہ جرمانا مجھے ہی دے دیں تو ہمارے نبیﷺ نے مسکر ا کر فرماتے ہیں جاتو ہی لے جا لیکن یہ رعایت تیرے لیے ہے کسی اور کیلئے نہیں دنیا کی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا کہ کسی مجرم کو جرمانا مل گیا ہو یہ اس امت کے اللہ نے لاڈاٹھائے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: