بیٹی،اس کا بوائے فرینڈاور مجبور ماں چوکیدار – زبیر منصوری

پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور شوہربرمنگھم میں رات گئے تھکا ہارا گھر لوٹا بچوں کی روزی روٹی کی جدوجہد اسے یہاں لے آئی تھی اور اب دن بھر کی محنت سے وہ بیٹی کی مہنگی تعلیم اور گھر کے خرچ کی گاڑی کھینچ رہا تھا

اندر داخل ہوا تو بیوی دروازے پر ہی موجود تھی ،اسےاپنے کمرے میں لے گئی، کھانا کھلایا اور جلدی سے سلا دیا وہ دراصل خوفزدہ تھی ،چوکیداری کر رہی تھی اپنی بیٹی کی جو اوپر کمرے میں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ تھی ،کہیں ایسا نہ ہو اس کے باپ کو پتہ چل جائے اور وہ ایسا کچھ کر بیٹھے جس کے بعد بیٹی گھر سے چلی جائے ،شوہر جیل چلا جائے اور اس کا گھر برباد ہو جائے
کیونکہ قانونا باپ بیٹی کو کچھ نہیں کہہ سکتا تھا

حمیت غیرت حیا شرم وغیرہ جیسے الفاظ مغرب میں ویسے بھی نا مانوس ہوتے جاتے ہیں اور آخری بات۔۔۔!علامہ اقبال کا ناخلف پوتا ولید اقبال اور شیریں مزاری جیسی عورتیں دراصل اس اوپر کےدکھ بھرے مگر سچے واقعے کو کراچی لاہور پشاور وغیرہ میں دہرانا چاہتی ہیں وہاں کے قانون کا چربہ خوشنما الفاظ کے پردے میں یہاں نافذ کرنا چاہتی ہین یہ ہے گھریلو تشدد نامی بل میں چھپا اصل بد صورت مقصد
(مگر خیر چھوڑئیے صاحب یہ بتائیے کہ مولانا طارق مسعود اور انجنئیر مرزا صاحب کا مناظرہ کب ہے ؟ ہوگیا ؟ کون ہارا کون جیتا؟)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: