زندگی کے گڑھے ۔ ریاض علی خٹک

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم زندگی کی دوڑ میں اتنے کھو جاتے ہیں کہ اپنے گھر اپنے کمرے میں رہتے بھی ہم اس کو دیکھ نہیں پاتے. جب اس دوڑ میں ہم کہیں ٹھوکر کھا کر گرتے ہیں. سمٹ کر جب اپنے گھر کو دیکھتے ہیں تو سب کچھ بے ترتیب اور بگڑا ہوا ہوتا ہے. ہم مزید مایوس ہو جاتے ہیں. اور کہتے ہیں میری زندگی میں تو کچھ بھی اچھا نہیں.

معاشرتی نفسیات میں اسے pratfall ایفیکٹ کہتے ہیں. جیسے ہمارے اباواجداد جنگل میں شکار کیلئے گڑھا کھود کر اسے شاخوں سے چھپا دیتے تھے. جانور اس میں گر کر شکار ہو جاتا. بلکل ایسے ہی ہم اپنی زندگی میں بار بار اسکا شکار ہوتے ہیں. لیکن جب ہم اپنے گڑھے میں محدود ہوجائیں اور وہاں بھی اچھا محسوس نہ کریں تو ہم اپنا وہ اعتماد بھی کھو دیتے ہیں جو ہمیں اٹھنے کا حوصلہ دیتا ہے. ہمارا دماغ ہمارا گھر ہے. جیسے عدم توجہ پر گھر بے ترتیب ہوتے ہیں ایسے ہی خود کو توجہ نہیں دیں گے تو آپ کی شخصیت بھی بے ترتیب ہو جاتی ہے. پتہ تب چلتا ہے جب آپ کبھی مایوس ہو کر اپنی ذات میں سمٹ جاتے ہیں. جیسے گھر کو ترتیب دی جاتی ہے ایسے ہی اپنی شخصیت پر محنت کر کے اسے ترتیب سے کیا جاتا ہے. یعنی صحت پر محنت، غذا پر توجہ، لباس عادات اٹھنا بیٹھنا بولنا سیکھنا سب شخصیت کی ترتیبات ہیں. رہ گیا گرنا، ٹھوکر کھانا تو یہ کوئی مسئلہ نہیں. ہم سب نے گر کر ٹھوکریں کھا کر چلنا سیکھا ہے. آخری سانس تک ہم سیکھ ہی رہے ہوتے ہیں. ہم اس پر بچوں کی طرح ہنستے ہیں جو گرتا ہے لیکن اسی سے محبت بھی کرتے ہیں. اسے اپنے جیسا سمجھتے ہیں. یہ جو سمجھتے ہیں کہ ہم پرفیکٹ ہیں ہم نے گرنا نہیں یہ لوگ پھر زندگیاں تنہا گزارتے ہیں. لوگ بھی ان سے دور دور رہتے ہیں. کیونکہ وہ ان کو اپنے جیسا سمجھتے ہی نہیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: