جرمنی کی پارسی لڑکی اور عمر بن خطابؓ

ایک جرمنی کی پارسی لڑکی اس واقعہ کی وجہ سے حضرت عمر ؓ بن خطاب سے اس قدر متاثر ہوئی کہ اس نے سیرت سیدنا عمرؓ پر 7000 انگریزی کی کتب جمع کیں اور ایک انٹرنیشنل لائبریری بنائی اور اس نے ایک بین الاقوامی سیمینار منعقد کیا .

جس میں 1000 دنیا کے بڑے دانشوروں نے شرکت کی اس نے مقالہ پیش کیا جسمیں یہ اعتراف کیا گیا کہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار سیدنا عمر بن خطابؓ ہے کیونکہ حضرت عمرؓ نے انسانوں کو تمام بنیادی حقوق دئیے اورآپ ؓ کے ان الفاظ ” اے عمروبن العاصؓ تمھیں کیا ہوگیا ؟لوگوں کو تم نے کب سے اپنا غلام بنانا شروع کردیا ہے ؟ ” نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا۔٭ایک مرتبہ حضرت سیدنا عمر فاروق ؓ گلیوں میں گشت کر رہے تھے ایک بوڑھی عورت آپؓ سے ملی اس نے شکوہ شروع کردیا کہ میں بہت پریشان ہوں میرا کوئی پرسان حال نہیں خلیفہ میرا خیال نہیں رکھتا ، میری خبر گیری نہیں کر رہا ۔ وہ عورت نہیں جانتی تھی کہ یہ شخص جس سے میں بات کر رہی ہوں وہی مسلمانوں کے خلیفہ ہیں ، حضرت عمرؓ نے اس عورت سے پوچھا کہ اماں جی آپ نے حضرت عمر ؓ کو اپنے حالات سے آگاہ کیا ہےکبھی ؟اس پر عورت نے جواب دیا کہ میں کیوں بتاؤں ۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ اماں جی اگر آپ عمرؓ کو نہیں بتائیں گی تو عمرؓ کو کس طرح علم ہوگا اورآپ کا مسٔلہ کیسے حل ہوگا ؟ عورت نے جواب دیا کہ

اگر عمر ؓمیرے حالات کی خبر نہیں رکھ سکتا تو اس کو کس نے کہا تھا کہ مسلمانوں کا خلیفہ بنے؟اس جواب پر حضرت سیدنا عمرابن خطاب ؓچونک گئے اور فوری اس کی شکایت کا ازالہ کیا اور خبر گیری کی مہم اور تیز کردی ۔ ( آج کرہ ارض پر نبی اکرم ؐ،صحابہ کرام ؓ کا قائم کردہ نظام خلافت نہیں ہے تو مسلمانوں کے بڑے بڑے مسائل کی خبر گیری کرنے والا اس وقت کوئی نہیں ، مسلمان مسائل کی آگ میں بھسم ہوکر رہ گئے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں کیا مقدر والا تھا وہ دور جب ہر انسان کو اس کے بنیادی حقوق اس کی دہلیز پر ملتے تھے اس کے برعکس انسان آج بنیادی حقوق سے اس قدر محروم ہیں کہ انسانیت شرم کے مارے منہ چھپاتی پھر رہی ہے ۔)٭ایک مرتبہ خلیفۂ دوئم سیدنا حضرت عمرؓ کھانا نوش فرمارہے تھے ۔ غلام نے آکر عرض کیا عتبہ ؓ بن ابی فرقد حاضر ہوئے ہیں ۔ آپؓ نے اندر آنے کی اجازت فرمائی اور کھانے کی تواضع فرمائی ۔ وہ شریک ہوگئے تو ایسا موٹا کھانا تھا کہ نگلا نہ گیا ۔ انہوں نے عرض کیا کہ چھنے ہوئے آٹے کا کھانا بھی تو ہوسکتا تھا۔ آپؓ نے فرمایا کیا سب مسلمان میدہ کھا سکتے ہیں ۔ عرض کیا سب تو نہیں کھا سکتے ۔ فرمایا افسوس تم یہ چاہتے ہو کہ میں اپنی ساری لذتیں دنیا ہی میں ختم کردوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: