حضور اکرمؐ کے چچا عباس رضی اللہ عنہ کا پرنالہ

حضرت فاروق اعظم عمر بن خطاب رضی اللہ نے جب مسجد نبوی کی توسیع کا ارادہ فرمایا تو آس پاس کے بعض مکانات خرید لیئے، جنوبی طرف حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا مکان مسجد سے متصل تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ سے کہا : اے ابو الفضل ! مسلمانوں کی مسجد تنگ ہوگئی ہے توسیع کے لیئے میں نے آس پاس کے مکانات خرید لیئے ہیں ، آپ بھی اپنا مکان فروخت کردیں ،

اور جتنا معاوضہ کہیں میں بیت المال سے ادا کروں گا، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں یہ کام نہیں کرسکتا، دوبارہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تین باتوں میں سے ایک بات مان لیں ، یا تواسے فروخت کردیں اور معاوضہ جتنا چاہیں لے لیں، یا مدینہ میں جہاں آپ کہیں وہاں آپ کے لیئے مکان بنوا دوں، یا پھر مسلمانوں کی نفع رسانی اور مسجد کی توسیع کے لیئے وقف کردیں، حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہا: مجھے ان میں سے کوئی بات بھی منظور نہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا مسلہ حل ہونے والا نہیں ، تو آپ جسے چاہیں فیصل مقرر کردیں، وہ ہمارے اس معاملہ کا تصنیفہ کردے، حضرت عباس نے کہا: میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو فیصل بناتا ہوں، دونوں حضرت اٹھے اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مکان پر پہنچے حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے
دیکھا تو ان کے اعزاز میں تکیہ وغیرہ لگوایا اور دونوں بزرگوں کو بٹھا لیا،۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے کہا : ابو الفضل! آپ اپنی بات کہیئے ، حضرت عباس نے کہا: یہ زمین جس پر میرا مکان ہے خود رسول اللہ ﷺ کی عطا کردہ ہے ،

یہ مکان میں نے بنایا اور خود رسول اللہ ﷺ بنفس نفیس اس کی تعمیر میں شریک رہے بخدا یہ پرنالہ خود رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ کا لگایا ہوا ہے اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بات کی ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا، آپ دونوں اجازت دیں تو میں رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث سناؤں، دونوں بزرگوں نے عرض کیا بیشک سنایئے ۔ حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ اسلام کو حکم دیا کہ میرے لیئے ایک گھر تعمیر کروجس میں مجھے یاد کیا جائے ، اور میری عبادت کی جائے ، چنانچہ جہاں پر مسجد اقصی واقع ہے وہاں من جانب اللہ زمین نشان زدکردی گئی ، نشان مربع نہ تھا ایک گوشہ پر ایک اسرائیل کا مکان تھا حضرت داؤد علیہ اسلام نے اس سے بات کی اور کہا: اس مکان کو فروخت کردوتاکہ اللہ کا گھر بنایا جاسکے ، اس نے انکار کردیا، داؤد علیہ اسلام نے اپنے جی میں سوچا: یہ گوشہ زبرستی لے لیا جائے اللہ تعالیٰ کا عتاب نازل ہوا ، اے داؤد(علیہ اسلام)! میں نے آپ کو اپنی عبادت گاہ بنانے کے لیئے کہا تھا ، اور آپ اس میں زورو زبردستی کو شامل کرنا چاہتے ہیں، یہ میری شان کے خلاف ہے ، اب آپ کی یہ سزا ہے کہ میرا گھر بنانے کا ارادہ ترک کردیں،

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جس ارادے سے آیا تھا آپ نے اس سے بھی سخت بات کہہ دی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کو مسجد نبوی شریف ﷺ میں لے آئے ، وہاں کچھ صحابہ حلقہ بنائے ہوئے بیٹھے تھے ، حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے کہا میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، اگر کسی نے رسول اللہ ﷺ سے حضرت داؤد علیہ اسلام کے بیت المقدس تعمیر کرنے والی حدیث کو سنا ہے ، ایک اور صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے سنا ہے ، اب حضرت ابی رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا عمر(رضی اللہ عنہ )! آپ نے مجھ کو رسول اللہ ﷺ کی حدیث کے بارے میں تہمت دیتے ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بخدا، اے ابو المنذر! میں نے آپ پر کوئی تہمت نہیں لگائی ، میں چاہتا تھا رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث بالکل واضح ہوجائے ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہوئے اور کہا: جایئے میں اب آپ سے آپ کے مکان کے بارے میں کچھ نہ کہوں گا، حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہا: جب آپ نے ایسی بات کہہ دی تو اب میں اپنا مکان توسیع مسجد کے لیئے بلامعاوضہ پیش کرتا ہوں، لیکن اگر آپ حکما لینا چاہیں گے تو نہیں دوں گا،

اس کےبعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں دوسری جگہ پر بیت المال کے خرچ سے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے لیئے ، مکان بنوا دیا، ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮔﮭﺮ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﻏﺼﮧ ﺁﯾﺎ ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍَ ﻗﺎﺿﯽ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺍﺑﯽ ﺍﺑﻦ ﮐﻌﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﺟﻮﻉ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﻓﺮﻣﺎﮞ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﭼﭽﺎ ﻧﮯ ﺁﭖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻣﻘﺪﻣﮧ ﺩﺍﺋﺮ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﻘﺮﺭﮦ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﻮ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺪﻣﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺣﻀﺮ ﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻣﻘﺮﺭﮦ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﯽ ﺑﻦ ﮐﻌﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻣﮑﺎﻥ ﭘﺮ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﮔﺌﮯ ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻦ ﺑﻦ ﮐﻌﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺣﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺗﮭﮯ.ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮ ﻧﺎ ﭘﮍﺍ۔.ﻣﻘﺪﻣﮧ ﭘﯿﺶ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ نے کچھ ﮐﮩﻨﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺑﯽ ﺑﻦ ﮐﻌﺐ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺭﻭﮎ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﺪﻋﯽ ﮐﺎ ﺣﻖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻋﻮﯼ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﮮ ۔ ﻣﻘﺪﻣﮯ ﮐﯽ ﮐﺎﺭرﻭﺍﺋﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﻋﺎﻟﯽ ! ﻣﯿﺮﮮ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﺎ ﻧﺎﻟﮧ ﺷﺮﻭﻉ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼؐ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﮭﺎ ،

ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮ ﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﺧﻼﻓﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﺪﻡ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﻟﮧ ﺍﮐﮭﮍﻭﺍ ﺩﯾﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﯽ ﺑﻦ ﮐﻌﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺑﮯ ﺷﮏ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎتھ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮨﻮﮔﺎ ، ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ؓ! ﺁﭖ ﺍﭘﻨﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ کچھ ﮐﮩﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ؟ ﻗﺎﺿﯽ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ : ﻗﺎﺿﯽ ﺻﺎﺣﺐ ، ﺍﺱ ﭘﺮﻧﺎﻟﮯ ﺳﮯ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﭼﮭﯿﻨﭩﯿﮟ ﺍﮌ ﮐﺮ ﻧﻤﺎﺯﯾﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﮍﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ۔ ﻧﻤﺎﺯﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﺮﻧﺎﻟﮧ ﺍﮐﮭﮍﻭﺍ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺍﺑﯽ ﺍﺑﻦ ﮐﻌﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ؟ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ : ﻗﺎﺿﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﺻﻞ ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝؐ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﮭﮍﯼ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﺸﺎﻥ ﻟﮕﺎ ﮐﺮﺩﺋﯿﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﻘﺸﮯ ﭘﮧ ﻣﮑﺎﻥ ﺑﻨﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ ۔ ﭘﺮﻧﺎﻟﮧ ﺧﻮﺩ ﺣﻀﻮﺭؐ ﻧﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﻧﺼﺐ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺣﻀﻮﺭؐ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﭖؐ ﮐﮯ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮ ﮐﺮ ﯾﮩﺎﮞ ﭘﺮﻧﺎﻟﮧ ﻟﮕﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﭖؐ ﮐﮯ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﯿﺎ ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻀﻮﺭؐ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢؐ ﮐﮯ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﭘﺮﻧﺎﻟﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﻟﮕﺎﯾﺎ

جہاں ﺳﮯ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦؓ ﻧﮯ ﺍﮐﮭﮍﻭﺍ ﺩﯾﺎ ۔ ﻗﺎﺿﯽ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺁﭖ ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻮﺍﮦ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ؟ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻓﻮﺭﺍَ ﺑﺎﮨﺮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﻨﺪ ﺍﻧﺼﺎﺭ ﮐﻮ ﺳﺎتھ ﻻﺋﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯼ ﮐﮧ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﯾﮧ ﭘﺮﻧﺎﻟﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺣﻀﻮﺭؐ ﮐﮯ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻧﺼﺐ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﻘﺪﻣﮯ ﮐﯽ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﮐﮯ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﺑﻌﺪ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﻗﺖ ﻧﮕﺎﮨﯿﮟ ﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ﻋﺎﺟﺰﺍﻧﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺳﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﯾﮧ ﻭﮦ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ کے ﺭﻋﺐ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﻑ ﺳﮯ ﻗﯿﺼﺮ ﻭ ﮐﺴﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﮈﺭﺗﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ” ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻗﺼﻮﺭ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﺩﻭ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻧﺎﻟﮧ ﺧﻮﺩ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢؐ ﻧﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﻟﮕﻮﺍﯾﺎ ﮨﮯ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮯ ﻧﮧ ﺍﮐﮭﮍﻭﺍﺗﺎ ۔ ﺟﻮ ﻏﻠﻄﯽ مجھ ﺳﮯ ﮨﻮﺋﯽ ﻭﮦ ﻻﻋﻠﻤﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ﺁﭖ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﭘﮧ ﭼﮍﮪ ﮐﺮﯾﮧ ﻧﺎﻟﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﻟﮕﺎﺩﯾﮟ ۔” ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﮨﺎﮞ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﺎ ﺗﻘﺎﺿﮧ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺗﻨﯽ ﻭﺳﯿﻊ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﭘﮧ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﻣﮩﯿﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﺎﻟﮧ ﻧﺼﺐ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﺗﮭﮯ۔

ﭘﺮ ﻧﺎﻟﮧ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻓﻮﺭﺍَ ﻧﯿﭽﮯ ﺍﺗﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦؓ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮ کچھ ﮐﯿﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﻖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ، ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﭘﺴﻨﺪﯼ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺍﺩﺑﯽ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺣﻀﺮ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﮑﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﻒ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﮐﻮ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﮑﺎﻥ ﮔِﺮﺍ ﮐﺮ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﮕﮧ ﮐﯽ ﺗﻨﮕﯽ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮨﻮﺋﯽ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺩﻋﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻋﺪﺍﻟﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺣﻖ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺑﮭﯽ ﺩے ﺟﻮ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﺳﮯ ﺑﺎﻻﺗﺮ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮭﯿﮟ ۔ ﺁﻣﯿﻦ ۔ عثمانیہ دور کے بعد بھی پرنالہ کی جگہ کو قائم رکھا گیا جس پر سورۃ البقرہ کی آیات کریمہ تحریر کی گئی ہے ، جو اس واقعہ کی یاد دہانی بھی کرواتی ہے اور درس بھی دیتی ہے
، وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْـرٍ يَّعْلَمْهُ اللّـٰهُ ۗ وَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْـرَ الزَّادِ التَّقْوٰى ۚ وَاتَّقُوْنِ يَآ اُولِى الْاَلْبَابِ (197) ترجمہ اور تم جو نیکی کرتے ہو اللہ اس کو جانتا ہے، اور زادِ راہ لے لیا کرو اور بہترین زادِ راہ پرہیزگاری ہے ، اور اے عقل مندوں مجھ سے ڈرو ۔ وفاءالوفاءبااخباردارالمصطفیٰ ص 462 صحابہ رضوان اللہ اجمعین کے مکانات ص 68

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: