ہر اونٹ پہلے قربان ہونا چاہتا تھا

حجۃ الوداع کے موقع پر ایک عجیب و غریب واقعہ دیکھنے کو آیا کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جن سو اونٹوں کو قربانی کے لیے ساتھ لے آئے تھے انہیں نحر کرنے کے لئے آپ نے سر اٹھایا۔ جب چھڑا لے کر اونٹ نحر کرنے کے لیے آگے بڑھے تو ہر اونٹ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آگے بڑھ رہا تھا تاکہ سب سے پہلے اس کی قربانی ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پہلے اسی کی گردن پر چھری چلا چلے۔

سبحان اللہ یہ ہے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت جس کی اہمیت و اصلیت کو اونٹوں نے پہچان لیا تھا اور اللہ کی راہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں قربان ہونا چاہتے تھے۔ یہی وہ سچی محبت ہے جو اللہ تعالی نے دلوں میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے رکھی ہے چناچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں فضا میں پرندے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے گن گاتے ہیں ممبر فرط محبت میں بچے کی طرح روتی ہے مگر افسوس ان لوگوں پر جو رات دن مسلمان کا دعوی کرتے ہیں اسلام اسلام پکارتے ہیں محبت رسول کی آواز بلند کرتے ہیں لیکن عملی طور پر نہ جانے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر کتنا خون کر چکے ہیں

کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا تقاضا یہی ہے کہ صرف محبت کا دعوی کیا جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت پر اپنی خواہشات اور بدعت اور رسم کی قربانی پیش نہ کی جائے۔ ذرا دیکھۓ ہر اونٹ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آگے بڑھ کر اپنے آپ کو پیش کر رہا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کر نہر کرتے جا رہے ہیں اور 63 اونٹوں کو نحر کرنے کے بعد رک جاتے ہیں اس میں اللہ تعالی کی حکمت یہ تھی کہ 62 سال آپ کی عمر مقدر ہوچکی ہے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب کو دے دیا اور فقیہ انہوں نے نحر کئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: