وہ کیا ہے جو قرآن میں نہیں ہے

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک عیسائی اور ایک یہودی آیا اور آپ کو لاجواب کرنے کیلئے دو سوال کئیے ؟ آپ یہ بتاؤ وہ کونسی چیز ہے جو ہم دیکھتے ہیں لیکن اللّه نہیں دیکھتا ؟ آپ کہتے ہو قرآن میں ہر چیز کا علم ہے وہ کیا ہے جو قرآن میں نہیں ہے ؟

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ مسکرائے اور آپ نے کہا : اللّه خواب نہیں دیکھتا، کیونکہ اللّه کو نیند نہیں آتی، قرآن میں سب کچھ لکھا ہے جھوٹ نہیں لکھا ایک شخص نے بادشاہ کی خدمت کا اِرادہ کِیا۔بادشاہ نے کہا: ” جاؤ عِلم حاصل کرو حتیٰ کہ تم میں میری خدمت کی صلاحیت پیدا ہو جائے۔ ” جب وہ عِلم کے حصول میں مشغول ہُوا،عِلم کی لذّت چکھی تو بادشاہ نے اس کی طرف پیغام بھیجا۔اس نے کہا: ” اب تعلیم کو خیر آباد کہہ دو۔تم میری خدمت کے قابل ہو گئے ہو۔ ” اس شخص نے جواب دیا: ” میں اُس وقت تیری خدمت کا اہل تھا جب تُو مجھے اس کا مستحق نہیں سمجھتا تھا،اب تُو مجھے اپنی خدمت کا اہل سمجھتاہے مگر میں خود کو اللّہ تعالیٰ کی خدمت اہل سمجھتا ہوں۔کیونکہ میں اپنی جہالت سے صرف یہی سمجھتا تھا کہ دروازہ صرف تیرا ہی ہے۔

مگر اب مجھے عِلم سے معلوم ہُوا ہے کہ حقیقی دروازہ میرے ربّ کا دروازہ ہے۔ ”حضرت عمرؓ کے رومال کی تاثیر بھی عجیب سیدنا عمر بن خطابؓ کے دور خلافت میں مدینہ طیبہ میں ایک مرتبہ آگ نکلی‘ حضرت عمرؓ نے حضرت تمیم داریؓ کو بھیج دیا‘ انہوں نے اپنے رومال کو چابک کی طرح بنا لیا اور اس رومال کو آگ پر مارنا شروع کر دیا‘ آگ اس طرح پیچھے ہٹی جیسے چابک کے لگنے سے جانور بھاگ رہا ہوتا ہے چونکہ محبوبﷺ کی ان کو دعائیں تھیں اس لئے اللہ تعالٰ نے اس کپڑے میں ایسی تاثیر رکھ دی کہ اس کی برکت سے آگ ہٹتی ہٹتی جہاں سے آئی تھی بالآخر وہیں پہنچ گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: