فرعون کا لشکر اور موسیٰ علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ سے مکالمہ

روایت ہے کہ جب فرعون مع اپنے لشکر کے دریائے نیل میں غرق ہو گیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے ساتھ مصر میں قرار نصیب ہوا تو ایک دن موسیٰ علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ سے اس طرح مکالمہ شروع ہوا

۔حضرت موسیٰ علیہ السلام: خداوند! تیرے بندوں میں سب سے زیادہ تجھ کو محبوب کون سا بندہ ہے اللہ تعالیٰ : جو میرا ذکر کرتا ہے اور مجھے کبھی فراموش نہ کرے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام: سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہے؟ اللہ تعالیٰ : جو حق کے ساتھ فیصلہ کرے اور کبھی بھی خواہش انسانی کی پیروی نہ کرے حضرت موسیٰ علیہ السلام: تیرے بندوں میں سب سے زیادہ علم والا کون ہے؟ اللہ تعالیٰ : جو ہمیشہ اپنے علم کے ساتھ دوسروں سے علم سیکھتا رہے تاکہ اس طرح اُسے کوئی ایک ایسی بات مل جائے جو اُسے ہدایت کی طرف راہنمائی کرے یا اس کو ہلاکت سے بچا لے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام: اگر تیرے بندوں میں کوئی مجھ سے زیادہ علم والا ہو تو مجھے اس کا پتا بتا دے؟ اللہ تعالیٰ : خضر تم سے زیادہ علم والے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام: میں انہیں کہاں تلاش کروں؟ اللہ تعالیٰ : ساحل سمندر پر چٹان کے پاس۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام: میں وہاں کیسے اور کس طرح پہنچوں؟اللہ تعالیٰ : تم ایک ٹوکری میں ایک مچھلی لے کر سفر کرو۔

جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے بس وہیں خضر سے تمہاری ملاقات ہو گی۔اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم اور شاگرد حضرت یوشع بن نون بن افرائیم بن یوسف علیہم السلام کو اپنا رفیق سفر بنا کر مجمع البحرین کا سفر فرمایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام چلتے چلتے جب بہت دور چلے گئے تو ایک جگہ سو گئے۔ اُسی جگہ مچھلی ٹوکری میں سے تڑپ کر سمندر میں کود گئی۔ اور جس جگہ پانی میں ڈوبی وہاں پانی میں ایک سوراخ بن گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نیند سے بیدار ہو کر چلنے لگے۔ جب دوپہر کے کھانے کا وقت ہوا تو آپ نے اپنے شاگرد حضرت یوشع بن نون علیہ السلام سے مچھلی طلب فرمائی تو انہوں نے عرض کیا کہ چٹان کے پاس جہاں آپ سو گئے تھے ،مچھلی کود کر سمندر میں چلی گئی اور میں آپ کو بتانا بھول گیا۔ آپ نے فرمایا کہ ہمیں تو اس جگہ کی تلاش تھی۔ بہرحال پھر آپ اپنے قدموں کے نشانات کو تلاش کرتے ہوئے اُس جگہ پہنچ گئے جہاں حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات کی جگہ بتائی گئی تھی۔وہاں پہنچ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ ایک بزرگ کپڑوں میں لپٹے ہوئے بیٹھے ہیں۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اُن کو سلام کیا تو انہوں نے تعجب سے فرمایا کہ اس زمین میں سلام کرنے والے کہاں سے آگئے؟ پھر انہوں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ میں موسیٰ ہوں۔ تو انہوں نے دریافت کیا کہ کون موسیٰ؟ کیا آپ بنی اسرائیل کے موسیٰ ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ جی ہاں تو حضرت خضر علیہ السلام نے کہا کہ اے موسیٰ! مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا علم دیا ہے جس کو آپ نہیں جانتے۔ اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایسا علم دیا جس کو میں نہیں جانتا۔ مطلب یہ تھا کہ میں علم اسرار جانتا ہوں۔

جس کا آپ کو علم نہیں اور آپ علم الشرائع جانتے ہیں جس کو میں نہیں جانتا۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے خضر! کیا آپ مجھے اس کی اجازت دیتے ہیں کہ میں آپ کے پیچھے پیچھے چلوں تاکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو علوم دیئے ہیں آپ کچھ مجھے بھی تعلیم دیں۔ تو حضرت خضر علیہ السلام نے کہا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہ کرسکیں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں ان شاء اللہ تعالیٰ صبر کروں گا۔ اور کبھی بھی کوئی نافرمانی نہیں کروں گا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے کہا کہ شرط یہ ہے کہ آپ مجھ سے کسی بات کے متعلق کوئی سوال نہ کریں۔ یہاں تک کہ میں خود آپ کو بتا دوں۔ غرض اس عہد و معاہدہ کے بعد حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰ اور یوشع بن نون علیہما السلام کو اپنے ساتھ لے کر سمندر کے کنارے کنارے چلنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ ایک کشتی پر نظر پڑی۔ اور کشتی والوں نے ان تینوں صاحبان کو کشتی پر سوار کرلیا اور کشتی کا کرایہ بھی نہیں مانگا۔ جب یہ لوگ کشتی میں بیٹھ گئے تو حضرت خضر علیہ السلام نے اپنے جَھولے میں سے کلہاڑی نکالی اور کشتی کو پھاڑ کر اُس کا ایک تختہ نکال کر سمندر میں پھینک دیا۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام برداشت نہ کرسکے اور حضرت خضر علیہ السلام سے یہ سوال کربیٹھے کہ:۔کیا تم نے اسے اس لئے چیرا کہ اس کے سواروں کو ڈبا دو بیشک یہ تم نے بُری بات کی۔حضرت خضر علیہ السلام نے کہا کہ کیا میں نے آپ سے کہہ نہیں دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہ کرسکیں گے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے معذرت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے بھول کر سوال کردیا۔ لہٰذا آپ میری بھول پر گرفت نہ کیجئے اور میرے کام میں مشکل نہ ڈالئے۔پھر یہ حضرات کچھ دور آگے کو چلے۔ تو حضرت خضر علیہ السلام نے ایک نابالغ بچے کو دیکھا جو اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے گلا دبا کر اور زمین پر پٹک کر اُس بچے کو ق ت ل کرڈالا یہ ہوش رُبا خونی منظر دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام میں صبر کی تاب نہ رہی اور آپ نے ذرا سخت لہجے میں حضرت خضر علیہ السلام سے کہہ دیا:موسیٰ نے کہا کیا تم نے ایک ستھری جان بے کسی جان کے بدلے ق ت ل کردی بیشک تم نے بہت بری بات کی۔حضرت خضر علیہ السلام نے پھر یہی جواب دیا کہ کیا میں نے آپ سے یہ نہیں کہہ دیا تھا کہ آپ ہرگز میرے ساتھ صبر نہ کرسکیں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اچھا اب اگر اس کے بعد میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ میرے ساتھ نہ رہیے گا۔ اس میں شک نہیں کہ میری طرف سے آپ کا عذر پورا ہوچکا ہے۔پھر اس کے بعد ان حضرات نے ساتھ ساتھ چلنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ یہ لوگ ایک گاؤں میں پہنچے اور گاؤں والوں سے کھانا طلب کیا۔ مگر گاؤں والوں میں سے کسی نے بھی ان صالحین کی دعوت نہیں کی۔ پھر ان دونوں نے گاؤں میں ایک گرتی ہوئی دیوار پائی تو حضرت خضر علیہ السلام نے اسم اعظم پڑھ کر دیوار سیدھی کردی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام گاؤں والوں کی بداخلاقی سے بیزار تھے ہی ،آپ کو غصہ آگیا، برداشت نہ کرسکے اور یہ فرمایا:ترجمہ :۔تم چاہتے تو اس پر کچھ مزدوری لے لیتے۔یہ سن کر حضرت خضر علیہ السلام نے کہہ دیا کہ اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی ہے اور جن چیزوں کو دیکھ کر آپ صبر نہ کرسکے اُن کا راز میں آپ کو بتادوں گا۔

سنئے جو کشتی میں نے پھاڑ ڈالی وہ چند مسکینوں کی تھی جس کی آمدنی سے وہ لوگ گزر بسر کرتے تھے اور آگے ایک ظالم بادشاہ رہتا تھا جو سالم اور اچھی کشتیوں کو چھین لیا کرتا تھا اور عیب دار کشتیوں کو چھوڑ دیا کرتا تھا تو میں نے قصداً ایک تختہ نکال کر اُس کشتی کو عیب دار کردیا تاکہ ظالم بادشاہ کے غضب سے محفوظ رہے۔ اور جس لڑکے کو میں نے ق ت ل کردیا اس کے والدین بہت نیک اور صالح تھے۔ اور یہ لڑکا پیدائشی کافر تھا اور والدین اس لڑکے سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور اُس کی ہر خواہش پوری کرتے تھے تو ہمیں یہ خوف و خطرہ نظر آیا کہ وہ لڑکا کہیں اپنے والدین کو کفر میں نہ مبتلا کردے۔ اس لئے میں نے اُس لڑکے کو ق ت ل کر کے اُس کے والدین کو کفر سے بچا لیا۔ اب اُس کے والدین صبر کریں گے تو اللہ تعالیٰ اُس لڑکے کے بدلے میں اس کے والدین کو ایک بیٹی عطا فرمائے گا، جو ایک نبی سے بیاہی جائے گی اور اس کے شکم سے ایک نبی پیدا ہو گا جو ایک امت کو ہدایت کریگا۔ اور گرتی ہوئی دیوار کو سیدھی کرنے کا راز یہ تھا کہ یہ دیوار دو یتیم بچوں کی تھی جس کے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا اور ان دونوں کا باپ ایک صالح اور نیک آدمی تھا۔ اگر ابھی یہ دیوار گرجاتی تو ان یتیموں کا خزانہ گاؤں والے لے لیتے۔ اس لئے آپ کے پروردگار نے یہ چاہا کہ یہ دونوں یتیم بچے جوان ہو کر اپنا خزانہ نکال لیں ،اس لئے ابھی میں نے دیوار کو گرنے نہیں دیا۔ یہ خداوند تعالیٰ کی ان بچوں پر مہربانی ہے اور اے موسیٰ علیہ السلام!آپ یقین و اطمینان رکھیں کہ میں نے جو کچھ بھی کیا ہے اپنی طرف سے نہیں کیا ہے بلکہ میں نے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا ہے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے وطن واپس چلے آئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: