کیا عورت ناپاکی کی حالت میں قرآن کی کوئی آیت پڑھ سکتی ہے ؟

سوال:کیا عورت ناپاکی کی حالت میں قرآن کی کوئی آیت جیسے آیۃ الکرسی معوذ تیں وغیرہ بطور وظیفہ کے پڑھ سکتی ہے فتویٰ نمبر:103 الجواب حامداً و مصلیاً حیض و نفاس اور جنابت کی حالت میں قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا جائز نہیں ۔

البتہ جو آیات دعا کے مضمون پر مشتمل ہوں یا حمد و ثنا ء کے مضمون پر مشتمل ہوں انہیں دعا وظيفہ یا حمد و ثنا ء کی نیت سے پڑھنا جائز ہے تلاوت کی نیت سے پڑھنا ان آیات کو بھی جائز نہیں ۔ اور اگر کسی کیلئے کو حمد و ثناء اور دعاپر مشتمل آیات اور دوسری آیات میں فرق کرنا دشوار ہو تووہ حیض و نفاس یا جنابت کی حالت میں قرآنی آیات پڑھنے سے ہی احتراز کرے ۔ لہذا حیض کی حالت میں آیت الکرسی ، سورۃ فاتحہ، سورۃ لاخلاص ، سورۃ الفلق اور سورۃا لناس حمد وثناء ، وظیفہ اور دعا کی نیت سے پڑھنا جائز ہے ، کیونکہ ان سورتوں کے مضامین حمد وثناء اور دعا کے ہیں ۔ لیکن سورۃ الکافرون کا مضمون چونکہ حمد و ثناء یا دعاپر مشتمل نہیں ہے اس لئے سورۂ کافرون کو حیض کی حالت میں کسی بھی نیت سے پڑھنا جائز نہیں ۔ تنبیہ : حضراتِ فقہاءِ کرام ؒ کی عبارات کی روشنی میں حیض کی حالت میں معوذتین ، سورۂ اخلاص ، سورۂ فاتحہ اور آیۃ الکرسی پڑھنے کا اصولی حکم وہی ہے جو اوپر ذکر کیا گیا ہے ۔ اس حکم کا مدار آیات کے مضمون اور نیت پر ہے کہ اگر آیات کا مضمون دعا و ثناء والا ہو اور پڑھنے والے کی نیت بھی دعا و ثناء کی ہو توپڑھنا جائز ہے ورنہ نہیں ۔

اس فرق کو مدِ نظر رکھنا اور اس کے مطابق اپنی نیت کا استحضار کرنا اہلِ عرب کے لئے آسان ہے ۔ لیکن عجمی خواتین کے لئے آیات کے مضامین کا فرق کرنا اور اس کے مطابق اپنی نیت کا استحضار کرنا مشکل ہے ، کیونکہ عجمی خواتین ایک سے زائد آیات عام طورپرتلاوت ہی کی نیت سے پڑھتی ہیں اس لئے عجم کی جو خواتین اس تفصیل کو ملحوظ نہ رکھ سکیں ان کو حیض و نفاس کی حالت میں مذکورہ سورتیں اور آیۃ الکرسی پڑھنے سے بچنا چاہئے اسی میں احتیاط ہے ۔ ہاں جو خواتین آیات کے مضامین سے پوری طرح واقف ہوں اور پڑھتے ہوئے بآسانی دعا و ثناء کی نیت کا استحضاربھی کرسکیں ان کے لئے حمد و ثناء اور دعا کی نیت سے مذکورہ سوتیں پڑھنے کی گنجائش ہوگی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: