غم کو اپنی طاقت بنائیے

ایک دفعہ سب حیران ہو گئے جب اس شخص نے اعلان کیا کہ میں ساری دنیا کے گرد چکرلگائوں گا۔ اس کے گرد کھڑے لوگ طرح طرح کی باتیں کرنے لگ گئے ۔ بظاہر تو سب کا نظریہ ٹھیک تھا کہ یہ شخص وہیل چیئرپر ہے ٹانگوں سے مفلوج ہے یہ کیسے دنیا کے گرد چکر لگائے گا۔

انہی لمحات میں ایک صحافی نے سوال کر ڈالا ، جناب یہ آپ نے کیا بات کہہ ڈالی ۔ آپ تو ٹانگوں سے مفلوج ہیں۔ پھر اتنا بڑا دعوی ٰکیسے ممکن ہو گا؟تو اس شخص نے کہا” الحمد للہ میں دماغ سے مفلوج نہیں ہوں۔ جسم کے اعضا ء سلامت ہوں مگر انسان دماغی طور پر فیل ہو جائے تو وہ حقیقی ناکام ہوتا ہے۔‘‘ ہماری زندگی ایسے بہت سے مسائل سے بھری پڑی ہے کوئی نہ کوئی ایسا غم اور روگ ہمارے اردگرد ہوتا ہے جو ہمیں بری طرح دماغی مفلوج کر سکتا ہے مگر ہم اس موقع پر اگر اس غم کو اپنی سب سے بڑی طاقت بنا لیں تو ہم دنیا کے ان نامور لوگوں میں شامل ہو سکتے ہیں جن کی کامیابی کی بنیاد ان کا غم ہی تھا۔ غموں کی تشہیر کر کے ان کو جان کا روگ بنانے سے بہتر ہے ان سے بہترین انتقام لیں اور بہترین انتقام یہ ہے کہ آپ کو جس کے ناقابل سمجھا گیا آپ اس کے قابل بن کر دکھائیں۔ مولانا رومیؒ لکھتے ہیں کہ” زخم کا سوراخ وہ دروازہ ہے جہاں سے روشنی آپ کے اندر داخل ہوتی ہے۔‘‘ دُکھ وہ ایندھن ہے جو انسان کو مالک کے قریب کرتا ہے۔ اللہ ٹوٹے ہوئے دلوں میں رہتا ہے۔ دکھ اس کے قرب کا ذریعہ ہے۔ غم وہ ٹانک ہے جو انسان کو دنیا اور اس کی تکلیفوں سے بے نیاز کر دیتا ہے ل.

یکن کچھ غم صرف ہمارے ذہن میں ہوتے ہیں حقیقت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا ایسے خود ساختہ غم منفی سوچ کے حاوی ہونے کا نتیجہ ہیں۔ غالب بھی اسی نظرئیے کے تھے تبھی تو انہوں نے کہا . رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج – مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
غالب نے ایک جگہ اور کہا – عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا – درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
دنیا میں سب سے زیادہ دکھ جس جذبے کے ہاتھوں انسان نے کھائے ہیں وہ ”جذبۂ محبت‘‘ہے۔ محبت میں ناکامی کا دکھ انسان کو پاگل کر دیتا ہے۔ ایک طرف تو پاگل خانوں میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو محبت میں ناکام ہوئے۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو ایسے لوگ بھی نظر آتے ہیں جنہوں نے محبت کوروگ نہیں بنایا بلکہ اس جذبے کو ایندھن کو اس توانائی کو، اس پیٹرول کو چینلائز کر لیا۔ ایک بڑا نام وارث شاہ کا ہے ان کو اگر بھاگ بھری سے جدائی نہ سہنی پڑتی تو وہ کبھی ہیر وارث شاہ جیسا شاہکار نہ لکھتے۔ ہیروارث شاہ کے بغیر پنجابی ادب ادھوراہے۔ ایک نامور شخصیت مادام کیوری ہیں ان کو جس لڑکے سے محبت تھی اس کی ماں نے انہیں دھکے دے کر گھر سے باہر نکال دیا۔ مادام کیوری نے اسے دل کا روگ نہیں بنایا بلکہ اسے آگ کی بھٹی میں جھونک دیا پھر دنیا کو تابکاری کا تحفہ دیا۔

میلکم ایکس کو بھی دیکھا جا سکتا ہے جنہوں نے ”کالوں سے نفرت کے غم کو‘‘کیسے کمال انداز میں ڈیل کیا کہ ان کے لہجے کی گرج آج بھی دنیا کے دل پگھلاتی ہے۔ قائد اعظم ؒتمام تر مخالفتوں اور مشکلات کے باوجود ہمیں آزادسر زمین دے گئے۔ مارٹن لوتھر کنگ کا کارنامہ کہ اپنے خواب کو حسرت بنا کہ نہیں بیٹھ گئے بلکہ ایسی خوبصورت تقریر کی سب کو ہلا کے رکھ دیا۔ ہم سب کے پیارے عبدالستار ایدھی کو دیکھ لیں جنہوں نے کچرے سے ملنے والے بچوں کے غم کو ایک آئیڈیا میں چینلائز کیا اور عملی طور پر کر کے دکھایا۔ سینکڑوں نام ہیں جن سے اسی”درد‘‘ نے دنیائیں تسخیر کرادیں۔تو ثابت ہوا یہ غم انسانی زندگی میں وہ دو دھاری تلوار کی طرح ہے کہ اگر اس سے مثبت کام نہیں لیں گے تو یہ آپ کو کاٹ کے رکھ دے گا۔ اور اگر اس کو سیڑھی بنا کر کامیابی کے زینے طے کیے جائیں تو شاندار کامیابی آپ کی منتظر ہو گی۔ اپنے غموں کو اپنی کمزوری نہ بنائیے یہی آپ کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ خود سے بات کیجیے اور فائنل کیجیے آپ کیا کرنا چاہتے ہیں اور خود کو موقع دیجئے رسک لیجیے اور کر ڈالیے۔
کتاب” کامیاب زندگی کے راز ‘‘سے انتخاب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: