” حضور نبی اکرم ﷺ کی قدر و منزلت ”

اِبنِ عساکر رحمتہ اللّہ علیہ نے حضرت سلمان فارسی رضی اللّہ عنہُ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ سے کسی نے دریافت کِیا کہ:
” اللّہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السّلام کو کلام سے سرفراز کِیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کو رُوح القدس سے پیدا کِیا اور حضرت اِبراہیم علیہ السّلام کو خلیل بنایا اور حضرت آدم علیہ السّلام کو اصطفاء سے نوازا،تو آپ کو کون سی فضیلت عطا کی گئی؟ ”

اسی وقت حضرت جبرئیل علیہ السّلام نازل ہوئے اور عرض کِیا کہ: ” آپ ﷺ کا ربّ فرماتا ہے اگر میں نے اِبراہیم علیہ السّلام کو خلیل بنایا تو میں نے آپ کو اپنا حبیب بنایا اور اگر میں نے موسیٰ علیہ السّلام سے زمین پر کلام کِیا تو میں نے آپ سے آسمان پر کلام کِیا اور اگر میں نے عیسیٰ کو رُوح القدس پیدا کِیا تو میں نے آپ کے نام کو تمام مخلوق کے پیدا کرنے سے دو ہزار سال پہلے پیدا کِیا اور آپ آسمان میں وہاں تک پہنچے کہ آپ سے پہلے کوئی مخلوق وہاں تک نہ پہنچی اور نہ کوئی آپ کے بعد پہنچے گی۔ اور اگر میں نے آدم کو صفی کِیا تو میں نے آپ پر سلسلہ نبوّت کو ختم کِیا اور کوئی مخلوق ساری کائنات کی آپ سے زیادہ مکرم میں نے پیدا نہیں کی اور آپ کو حوضِ کوثر، شفاعت ناقہ ، شمشیرِ تاج ، عصا ، حج ، عمرہ اور ماہِ رمضان عطا فرمایا اور تمام شفاعت آپ ہی کی ہے۔ حتیٰ کہ روزِ قیامت میرے عرش کا سایہ آپ پر دراز ہو گا اور حمد کا تاج آپ کے سر پر بندھا ہو گا اور آپ کا نام میں نے اپنے ساتھ مِلایا تو جس جگہ بھی میرا ذِکر کِیا جائے گا میرے ساتھ آپ کا ذِکر ضرور ہو گا اور میں نے دنیا کو اور اس کے رہنے والوں کو اسی لیے پیدا کِیا ہے کہ میرے نزدیک جو آپ کی قدر و منزلت ہے سب اس کو پہچانیں اور اگر آپ نہ ہوتے تو میں دنیا کو پیدا نہ فرماتا۔ ”
نام کتاب = الخصائصُ الکبریٰ ( جِلد دوم ) صفحہ = 303 – مصنف = حضرت علامہ جلالُ الدّین عبدالرحمٰن سیُوطی رحمتہ اللّہ علیہ – مترجم = علامہ مُفتی سیّد غلام مُعین الدّین نعیمی رحمتہ اللّہ علیہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: