بئر حاء باغ کی محبت

یہ ایک حقیقت ہے کہ صحابہ اکرام (رضوان اللہ اجمعین ) کی مقدس جماعت بھی آخری نبی ﷺ کا زندہ معجزہ تھی ، اپنے آقا کے اشارے پر مر مٹنے والی اور اپنا سب کچھ قربان کردینے کو اپنی سعادت اور اپنی زندگی کا واحد مقصد سمجھنے والی کوئی جماعت صحابہ اکرام (رضوان اللہ اجمین ) کے علاوہ کب کس نے دیکھی ہے ؟

باری تعالیٰ کی طرف سے جب کوئی آیات مبارکہ نازل ہوتی تو صحابہ اکرام (رضوان اللہ اجمعین ) اسے لپک کر لیتے ، اس کے الفاظ یاد کرتے ، اس کے معانی غور کرکے اس کے اوپر پورا پورا عمل کرتے اور اسی میں دونوں جہان کی سرخروئی کا عقیدہ رکھتے ۔ حضرت ابو طلحہ انصاری (رضٰی اللہ عنہ ) اسی جاں نثار جماعت کے ایک مثالی فرد تھے اسی باغ بیرحاء کا قصہ ہے کہ جب آیت ( لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ) نازل ہوئی تو حضرت ابو طلحہ انصاری (رضٰی اللہ عنہ ) نے اس باغ کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی راہ میں صدقہ کردیا ، بخاری شریف کی روایت ہے حضرت انس ( رضٰی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں : مدینہ منورہ میں سب سے زیادہ کھجور کے درخت حضرت ابو طلحہ انصاری (رضٰی اللہ عنہ ) کے تھے ” بئر حاء ” نام کا ان کا ایک باغ تھا جو ان کو سب سے زیادہ محبوب تھا اور مسجد نبوی کے قریب ، بالکل اس کے سامنے واقع تھا ، آنحضرت ﷺ بھی اس باغ میں تشریف لاتے اور اس کا پانی نوش فرماتے ، اس کا پانی بڑا شیریں اور خوشبو دار تھا ، جب آیات ( لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ )

( تم نیکی کے کامل درجہ تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنے محبوب مالوں سے خرچ نہ کرو ) نازل ہوئی تو حضرت ابو طلحہ انصاری (رضی اللہ عنہ ) اٹھے اور کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! مجھے اپنا بئر حاء باغ سب سے زیادہ محبوب ہے میں اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں اس امید پر کہ اس کا اجروثواب مجھے آخرت میں ملے گا ، آپ ﷺ جہاں مناسب سمجھیں خرچ کریں ، حضور اقدس ﷺ نے بہت زیادہ مسرت کا اظہار فرمایا اور فرمایا : ” بخ ذلک مال رائع ، ذلک مال رائع ، شاباش ، بہت عمدہ مال ہے بہت عمدہ مال ہے ، اس کے بعد فرمایا : جو تم نے کہا میں نے سن لیا ، میں مناسب یہ سمجھتا ہوں کہ تم باغ کو اپنے ہی قرابت داروں میں تقسیم کر دو چنانچہ ابو طلحہ انصاری (رضی اللہ عنہ ) نے حضور اکرام ﷺ کی ہدایت کے مطابق اپنے عزیزوں میں تقسیم کردیا ، دوسری سعودی توسیع کے دوران یہ باغ اور کنواں مسجد کے اندر آگیا ، اب اس کی جگہ باب ملک فہد دروازہ نمبر 21 کے اندر چند قدم کے فاصلے پر بائیں طرف قالینوں کے نیچے ہیں ، تصویر سے اس کی جگہ کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ ، (صحیح البخاری ، تفسیر القرآن ، باب لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: