جبل صفاء پر پہلا خطبہ

جبل صفا پر پہلا خطبہ :- حضرت عبداللہ ابن عباس (رضی اللہ عنہ ) سے مروی ہے کہ جب آیت ” وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ” ( اور اپنے سب سے قریب کے رشتہ داروں کو ڈرایئے ) نازل کی گئی تو رسول اللہ ﷺ کوہِ صفا پر تشریف لے گئے اور فرمایا : اے گروہِ قریش !

قریش نے کہا محمد ﷺ کوہِ صفا پر تشریف فرما ہو کر پکار رہے ہیں ۔ سب لوگ آئے جمع ہوگئے اور کہا اے محمد ﷺ! آپ کو کیا ہوا ہے ؟ فرمایا : اگر میں تمہیں یہ خبردوں کہ ایک لشکر اس پہاڑ کی جڑ میں ہے تو کیا تم لوگ میری تصدیق کروگے ۔ لوگوں نے کہا جی ہاں ۔ آپ ہمارے نزدیک غیر متہم ہیں ( اپ پر کبھی کوئی تہمت کزب کی بھی نہیں لگائی گئی ) ۔ اور ہم نے کبھی آپ کے کزب کا تجربہ نہیں کیا ۔ آپ ﷺ نے کہا : میں تمہیں ایک عزابِ شدید سے ڈرانے والا ہوں ۔ اے بنی عبدالمطلب اے بنی عبد مناف اے بنی زہرہ ( یہاں تک کے آپ ﷺ نے قبیلہ قریش کی تمام شاخوں کو گن ڈالا ) اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اپنے سب سے زیادہ قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤں اور میں نہ تو دنیا کی تمہاری کسی منفعت پر قادر ہوں ، اور آخرت کے کسی حصہ پر سوائے اس کے تم لا الٰہ الا اللہ کہو ۔ ابو لہب کہنے لگا : تبالک سائر الیوم الھذا جمعتنا ( دن بھر آپ کی بربادی ہو ، کیا اسی لیئے آپ نے ہمیں جمع کیا تھا ) اللہ تبارک وتعالیٰ نے پوری سورت ( تبت یدآابی لھب) نازل فرمائی ( ابو لہب ہی کے دونوں ہاتھ تباہ ہوگئے ) یعقوب بن عتبہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب نے مکہ میں اسلام کو ظاہر کیا ،

آپ کا کام پھیل گیا ، بعض نے بعض کو دعوت دی ، ابوبکر(رضی اللہ عنہ ) ایک کنارے خفیہ طور پر دعوت دیتے تھے سعید بن زید (رضی اللہ عنہ ) بھی اسی طرح تھے ، عثمان (رضی اللہ عنہ ) بھی اسی طرح کرتے تھے ، عمر (رضی اللہ عنہ) علانیہ دعوت حق دیتے تھے ، حمزہ بن عبدالمطلب و ابو عبیدہ بن الجرح (رضی اللہ عنہ ) بھی قریش اس سے سخت غصہ ہوئے ، رسول اللہ ﷺ کے لیئے حسد و بغاوت کو ظہور ہوا ، بعض لوگ آپ کی بدگوئی کرتے تھے وہ کھلم کھلا آپ سے عداوت کرتے تھے ، دوسرے لوگ پوشیدہ رہتے تھے حالانکہ وہ بھی اسی رائے پر تھے مگر وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عداوت کرنے اور اس کا بیڑا اٹھانے سے اپنی براءت کرتے تھے ۔
طبقات ابن سعد جلد 1 ص 212

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: