طائف کا سفر

بعثت کے دسویں سال حضور اکرم مبلغ العظم ﷺ طائف تشریف لے گئے تھے ۔ آپ کے ساتھ آپ کے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ، طائف میں قبلیہ ثقیف آباد تھا ۔ آپ اس لیئے وہاں تشریف لے گئے کہ شائید وہ اسلام قبول کرلیں اور اسلام کی اشاعت میں آپ کے دست و بازو بنیں ۔

اور آپ کی قوم کی مخالفت میں آپ کے لیئے سدکندری ثابت ہوں۔ ” السیرۃ الحلبیہ ” میں ہے کہ جب قریش کی اذیتیں اور تکالیف آپ کی خاطر عاطر پر گراں گزریں تو آپ طائف تشریف لے گئے ۔ طائف پہنچ کر آپ بنو ثقیف کے تین سرداروں کے پاس گئے وہ تین بھائی تھے ۔ ان میں سے ایک عبد یا لیل تھا ۔ اس کا نام کنانہ تھا ۔ اس کا اسلام لانا معلوم نہیں ، دوسرے بھائی کو عبد کلال کہا جاتا تھا ، اس کا نام مسعود تھا ۔ اس کا اسلام بھی معلوم نہیں ۔ تیسرے بھائی کا نام حبیب تھا ۔ امام ذہبی نے فرمایا : کہ اس کی صحابیت میں بھی تردد ہے یہ تینوں عمر بن عمیر بن عوف ثقفی کی اولاد تھے ۔ حضور ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے ۔ ان کے ساتھ گفتگو فرمائی ، انہیں پیغام سنایا ان میں سے ایک نے کہا ” اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے تو میں غلاف کعبہ کو چاک کردوں گا ” ۔ دوسرے نے کہا ” کیا اللہ تعالیٰ کو آپ کے علاوہ اور کوئی شخص نہیں ملا جسے وہ رسول بنا کر بھیجتا ” تیسرے نے کہا ” میں آپ سے بات نہیں کروں گا اگر آپ واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں جس طرح آپ کہہ رہے ہیں تو آپ کی شان اس سے کہیں بلندو بالا ہے کہ میں آپ کی بات کا جواب دوں ۔ اگر (نعوذ باللہ ) آپ جھوٹے ہیں تو مجھے پھر بھی آپ سے بات نہیں کرنا چاہیئے ” ۔

حضور اکرم ﷺ ان کے پاس سے اٹھ کھڑے ہوئے ، آپ ان کی بھلائی سے مایوس ہوچکے تھے ۔ آپ نے ان سے فرمایا ” جو سلوک میرے ساتھ کیا ہے اسے مخفی رکھنا ”۔ آپ نے یہ ناپسند فرمایا کہ اہل طائف کا یہ رویہ قریش تک پہنچے اور ان کی اذیتیں شدت اختیار کر جائیں ، ان تینوں سرداروں نے کہا ” آپ ہمارے شہر سے نکل جائیں اور جہاں چاہیں چلے جائیں ، انہوں نے اپنے شہر کے اوباش اور احمق آپ پر مسلط کردیئے ۔ وہ آپ پر دشنام درازی کرتے ، شور کرتے ۔ حتیٰ کے اردگرد لوگ جمع ہوگئے انہوں نے آپ کے رستے پر دو صفیں بنا لیں جب آپ ان کی صفوں میں گزرتے آپ جس قدم مبارک کو زمین پر رکھتے تھے لوگ اس پر پتھروں کی بارش کردیتے حتٰی کہ قدمین شریفین سے خون بہنے لگا ، ایک اور روایت میں کے مطابق نعلین مبارک خون سے بھر گئے ۔ جب پتھر آپ کو لگتا آپ زمین پر بیٹھ جاتے وہ لوگ آگے بڑھتے ۔ آپ کو بازؤوں سے پکڑ کر اٹھاتے ۔ جب آپ چلتے تو پتھروں کی بارش کردیتے پھر قہقے لگاتے ۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اپنے آپ سے حضور ﷺ کا دفاع کرتے ۔

حتیٰ کہ ان کے سر پر بھی کئی زخم آئے ۔ آپ ﷺ نے تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : میں نے عبدی الیل کو دعوت حق دی ۔ مگر اس نے اس پر لبیک نہ کہا ۔ میں واپسی عازم سفر ہوا ، میں انتہائی غمزدہ اور مغموم تھا ۔ میں ” قرن الشعالب ” پہنچا تو میں نے اپنا سر اٹھایا ۔ تو مجھے بادل نظر آیا جو مجھ پر سایہ فگن تھا۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو مجھے جبرائیل علیہ اسلام نظر آئے انہوں نے مجھے آواز دی ۔ اللہ تعالیٰ نے بنو ثقیف کے تلخ جوابات اور انکار حق سن لیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے تاکہ آپ اس جو چاہیں حکم دیں ، حضور رحمۃ للعالمین ﷺ نے فرمایا ” مجھے پہاڑوں کے فرشتوں نے آواز دی ۔ اس نے مجھے سلام کا پھر کہا ” محمد عربی ﷺ اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کے اذیت ناک جوابات اور پیغام حق کی تردید سن لی ہے میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی بارگاہ میں بھیجا ہے اگر آپ مجھے حکم دیں تو میں انہیں ان دوپہاڑوں کے مابین پیس کر رکھ دوں ” حضور ﷺ نے فرمایا : نہیں ! بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو واحد لاشریک ذات کی عبادت کریں گے ” مجھے اس واقعہ سے آپ کا حلم ، درگزر ، شفقت ، عفو اور کرم کا آفتاب جہان تاب عیاں ہورہا ہے ۔
سیرۃ النبویہ 340

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: