حضرت ابراہیم ؑ کا ایک کڑا امتحان

حضرت ابراہیم ؑ کا ایک کڑا امتحان اللّٰہ تعالی کی طرف سے اور قربانی کی شروعات کیسے ہوئی ،آپؑ کی کوئی اولاد نہیں تھی ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مصر کے بادشاہ کی بیٹی یعنی کہ حضرت حاجرہ رضی اللّٰہ عنہا سے شادی کی۔ اللّٰہ تعالی جے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسماعیل علیہ السلام سے نوازا۔

جب حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے اور اللّٰہ تعالی کے حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اور ان کی والدہ محترمہ حضرت حاجرہ رضی اللّٰہ عنہا کو میلوں دور ایک پہاڑی پر چھوڑنے کا حکم آیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اللّٰه تعالیٰ کا حکم مانتے ہوئے اپنے بیٹے اور اپنی بیوی کو دور ایک پہاڑی پر چھوڑ آئے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کبھی کبھی ان سے ملنے آتے تھے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی بڑے ہو گئے تھے ۔ طوفان نوح علیہ السلام سے کعبہ کی دیواریں باقی نہ رہی ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے تعمیر کرنے کیا حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی ان کے ساتھ ساتھ رہیں اور اپنے والد کی اس عظیم کام میں مدد کرتے رہیے ۔
قربانی کا عمل : حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے کی قربانی کا خواب دیکھنا ۔ کعبہ کی تکمیل کے بعد جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک دن اپنے خواب میں دیکھا کے وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد جو کہ بہت عرصے بعد ہوئی ایک قول کے مطابق 80 سال بعد ہوئی۔ آپؑ سے رہا نہیں گیا تو انہوں نے یہ خواب اپنے بیٹے سے بیان کیا۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کہا اگر یہ حکم الٰہی ہے تو مجھے اللّٰہ تعالی کی راہ میں قربان کر دیجیے۔ آپؑ نے کہا میں اوندھے منہ زمین پر لیٹوں گا آپ میری گردن پر چاکو چلا دیجیے گا ۔ آپ بلکل نہ پیچھے ہٹیے گا یہ اللّٰه تعالیٰ کا حکم ہے اسے پورا ہونا چاہیے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بلکل ویسا کیا جیسا انہوں نے کہا تھا ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب انہیں قربان کرنے لگے تو اللّٰه تعالیٰ نے ان کی جگہ ایک دنبہ قربان کے لیے بھیج دیا ۔ اس کے بعد عید الاضحی پر ہر صاحب استطاعت پر قربانی واجب ہے۔ *قربانی کے جانور کے پاس قربانی کے وقت کھڑا ہونا کیسا جب کوئی شخص قربانی کے جانور کی قربانی کے وقت اس کے پاس کھڑا رہیے ۔ اللّٰہ تعالی اس قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے میں پاس کھڑے ہونے والے شخص کے گناہوں کو معاف کرتا ہے۔ قربانی کے گوشت کی تقسیم کس طرح کرنی چاہیے ۔ قربانی کے جانور میں مشترکہ اور اپنے آنے والے حصے میں جو کچھ آتا ہے ۔ اسے بھی برابر تین حصوں میں تقسیم کرنا چاہیے ۔ ایک اپنے لیے ، دوسرا رشتہ دارو کے لیے اور تیسرا مستحق لوگوں کے لیے جو قربانی نہیں دیتے ۔ ہمیں غریب لوگوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: