ہمارے نبی ﷺ اور بارش

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ بارش شروع ہوگئی آپﷺ نے اپنے جسم مبارک کو بارش میں بھیگنے دیا اور فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ سے گفتگو ہے بارش کا سب سے پہلافائدہ یہ ہے کہ یہ دھوئیں گردو غبار اور مختلف آلودگی پھیلانے والی اشیاء سے مزین ہوا کو فلٹر کر کے صاف ستھر کر دیتی ہے بارش کے بعد جہاں تمام چیزیں دھل کر نکھری نکھری محسوس ہوتی ہیں۔

وہیں ہوا بھی نہایت صاف ستھری اور آلودگی سے پاک ہوجاتی ہے اس ہوا میں چہل قدمی کرنا اور اس میں سانس لینا نہایت فرحت بخش احساس ہوتاہےاور یہ تازہ ہوا سر سے پاؤں تک جسم میں سکون بھر دیتی ہے اور یہ ہوا جلد کے اندر موجود مضرمادوں میں کمی کر کے اسے تازگی بخشتی ہے اور جلد نکھری نکھری سی محسوس ہوتی ہے بارشوں میں مٹی سے آنے والی سوندی سوندی خوشبو دل و دماغ پرحیران کن اثرات مرتب کرتی ہے اور آپ تمام دباؤ اور پریشانیوں سے آزاد ہوکر خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگتے ہیں

اسی طرح انٹرنیشنل جرنل آف سپورٹس میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق سرد اور نم موسم میں چہل قدمی کرنا عام موسم میں چہل قدمی کرنے کے مقابلے میں زیادہ وزن میں کمی کرتا ہے اس موسم میں جسم سے اضافی چربی کا تیزی سے اخراج ہوتا ہےاور یوں بارش کا موسم آپ کے وزن میں کمی کا سبب بھی بن جاتا ہے بارش میں بھیگنے سے ڈپریشن سے نجات ملتی ہے بارش کی خوشبو اور اس کی آواز نہایت ہی پرسکون ہوتی ہے اور آپ کی توجہ منفی چیزوں سے ہٹا کر مثبت چیزوں کی طرف مبذول کردیتی ہے بارش میں تمام مصروفیات زندگی ماند پڑ جاتی ہیں سڑکیں خالی اور صاف ستھر ی ہوجاتی ہیں نکھرے نکھرے دھلے دھلائے درخت خاموشی یہ سب آپ کے اندر نئے احساسات کو جنم دیتی ہیں بارش میں آپ چیزوں کو عام دنوں سے ہٹ کر ایک نئے زاویئے سے دیکھتے ہیں یہ آپ کے اندر دبی ہوئی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارتی ہے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: