قرضہ لینے کے آداب

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو احسان کے لائق ہوں ان سے احسان کرتے رہو اس سےتمہارے دشمن ذلیل ورسوا ہوں گے۔ انسان کے ساتھ جب تک احسان نہ کیا جائے ، وہ غلام نہیں ہوتا۔ یہ بڑی سعادت کی بات ہے کہ بندہ ایسے لوگوں کے ساتھ نیکی اور احسان کرے جو اس کے اہل ہوں۔ جس کی عقل درست نہیں وہ اپنے خیال میں اصلاح کرتا ہے مگر درحقیقت وہ فساد برپا کرتا ہے۔

خدا سے مانگنا شجاعت ہے اگر دے تو رحمت اور نہ دے تو حکمت مخلوق سے مانگنا ذلت ہے اگر دے تو احسان اور اگر نہ دے تو شرمندگی۔ جو اپنے نفس کی حقیقت سے آگاہ نہیں وہ اپنے حال کی اصلاح سے بے نیار رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان سے اس وقت راضی ہوتا ہے۔ جب انسان اپنی تقدیر پر راضی ہوتا ہے۔ حسن خلق ایک نہایت عمدہ ساتھی ہے۔ جبکہ غرور تکبر اندرونی بیماری ہے۔ وعدہ کرو تو اسے پورا کرو۔ اور غ صہ میں زبان سے بے ہودہ الفا ظ مت نکالو۔ طویل امیدیں عمل کو بگاڑتی ہیں۔

اور زندگی کو فناء کرتی ہیں۔ اپنی زبان کو یوں محفوظ رکھو۔ جس طرح سونا اور چاندی کو محفوظ رکھتے ہو۔ تمہاری زبان وہی بات کرے گی۔ جس کا تم نے اسے عادی بنایا ہے۔نیک انسان کی زبان ہمیشہ یاد خداوندی میں مشغول رہتی ہے۔ حضرت علی سے کسی نے پوچھا: میں بہت کو شش کرتا ہوں، کہ صبح نماز پڑھوں مگر اٹھا نہیں جاتا؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ نیند کی وجہ نہیں بلکہ تم جو سارا دن گن اہ کرتے ہو، وہ تمہاری گردن میں توک ہاتھوں میں ہتھکڑی اور پاؤں میں بیڑیاں باندھ کر تمہیں اٹھنے نہیں دیتا۔ تمہار ا بہترین بھائی وہ ہے جس کےمرنے کے بعد تمہارا جینا محال ہو، اور اس کے بغیر زندگی وبال ہوجائے۔

زندگی کا زیادہ ہونا انسان کےلیے ایک قسم کاعذاب ہے ۔جب اللہ تعالیٰ کسی انسان سے محبت کرتا ہے۔ تو اسے یہ توفیق بخشتا ہے۔ کہ وہ زمانہ کہ واقعات سے عبرت حاصل کرے۔ زمانے سے تجربات حاصل ہوتے ہیں۔ اور دوستی نہایت قریبی رشتہ ہے۔ زینت اعمال کی درستگی کا نام ہے۔نہ کہ کپڑوں کی خوبصورتی کا۔ زہد دین کی جڑ ہے اور سچائی پرہیز گاروں کا لباس ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: