ماحول یا تربیت ؟

وزیر کی جان پہ بنی ہوئی تھی، فقیر بات ہی نئیں سُن رہا تھا ، اۤخر طویل مِنت سماجت کے بعد فقیر نے سر اٹھایا۔ ہاں بول کیا کہنا ہے ؟ وزیر نے ہاتھ جوڑے اور بتانا شروع کیا؛ ایک مہینہ پہلے ہمارے بادشاہ سلامت نے اچانک دربار میں ایک سوال اُچھالا کہ کامیاب کردار کے لئے تربیت زیادہ کارآمد ہے یا ماحول؟

میرے ایک ہم منصب وزیر نے جھٹ کہا کہ عالی جاہ ! تربیت جبکہ میں نے اُجلت میں کہا جناب ! ماحول ، ماحول تربیت پر فوقیت رکھتا ہے۔ بادشاہ سلامت نے ہماری طرف رعونت سے دیکھا اور فرمایا تم دونوں کو اپنا اپنا جواب عملی طور پر ثابت کرنا ہو گا، جو ثابت نہ کر سکا اس کا سر قلم کر دیا جائے گا اور اس کے لئے ہمیں ایک ماہ کی مہلت دے دی۔ *ہم دونوں اپنے جواب کی عملی تعبیر تلاشنے میں لگ گئے ، میں سوچ سوچ کے پاگل ہونے کے قریب تھا، مگر کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ ٢۴ دن بعد اچانک میرے ہم منصب وزیر نے میری موت کے پروانے پر دستخط کرتے ہوئے دربار میں اپنے جواب کو عملی طور پر ثابت کرنے کی اجازت چاہی۔ اجازت ملنے پر اس نے دربار میں کھڑے ہو کر تالی بجائی تالی بجتے ہی ایک ایسا منظر سامنے آیا کہ بادشاہ سمیت تمام اہلِ دربار کی سانسیں سینہ میں اٹک گئیں۔ دربار کے ایک دروازے سے دس بِلیاں منہ میں پلیٹیں لئے جن میں جلتی ہوئی موم بتیاں تھیں ایک قطار میں خراماں خراماں چلتی دربار کے دوسرے دروازے سے نکل گئیں، نہ پلیٹیں گریں اور نہ موم بتیاں بجھیں۔ دربار تعریف و توصیف کے نعروں سے گونج اٹھا۔ میرے ہم منصب نے بادشاہ کی طرف دیکھا اور بولا ، حضور ! یہ سب تربیت ہی ہے کہ جس نے جانور تک کو اس درجہ نظم و ضبط کا عادی بنا دیا۔ بادشاہ نے میری جانب دیکھا، مجھے اپنی موت سامنے نظر آ رہی تھی، میں دربار سے نکل آیا۔ تبھی ایک شخص نے آپ کا نام لیا کہ میرے مسئلے کا حل آپ کے پاس ہی ہوسکتا ہے۔

میں دو دن کی مسافت کے بعد یہاں پہنچا ہوں ، دی گئی مدت میں سے چار دن باقی ہیں، اب میرا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ فقیر نے سر جھکایا اور آہستہ سے بولا، واپس جاؤ اور بادشاہ سے کہو کہ 30ویں دن تم بھرے دربار میں ماحول کی افادیت ثابت کرو گے ۔ مگر میں تو یہ کبھی نہ کر سکوں گا ۔ وزیر نے لا چارگی سے کہا؛ اۤخری دن مَیں خود دربار میں آؤں گا۔ فقیر نے سر جھکائے ہوئے کہا۔ وزیر مایوسی اور پریشانی کی حالت میں واپس دربار چلا آیا۔* *مقررہ مدت کا اۤخری دن تھا دربار کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ وزیر کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ سب کی نظریں بار بار دروازے کی طرف اٹھتی تھیں کہ اچانک ایک مفلوک الحال سا شخص اپنا مختصر سامان کا تھیلا اٹھائے دربار میں داخل ہوا۔ بادشاہ کی طرف دیکھا اور بولا ، وقت کم ہے میں نے واپس جانا ہے۔ اس وزیر سے کہو تربیت کی افادیت کا ثبوت دوبارہ پیش کرے۔ تھوڑی دیر بعد ہی دوسرے وزیر نے تالی بجائی اور دوبارہ وہی منظر پلٹا۔ دربار کے دروازہ سے دس بلیاں اسی کیفیت میں چلتی ہوئی سامنے والے دروازے کی طرف بڑھنے لگیں۔

سارا مجمع سانس روکے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ وزیر نے امید بھری نگاہوں سے فقیر کی طرف دیکھا۔ جب بلیاں عین دربار کے درمیان پہنچیں تو فقیر آگے بڑھا اور ان کے درمیان جا کے اپنا تھیلا اُلٹ دیا۔ تھیلے میں سے موٹے تازے چوہے نکلے اور دربار میں ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔ بلیوں کی نظر جیسے ہی چوہوں پر پڑی انہوں نے منہ کھول دیئے، پلیٹیں اور موم بتیاں دربار میں بکھر گئیں۔ ہر طرف بھگدڑ مچ گئی بلیاں چوہوں کے پیچھے لوگوں کی جھولیوں میں گھسنے لگیں۔ لوگ کرسیوں پر اچھلنے لگے دربار کا سارا نظام درہم برہم ہو گیا۔ فقیر نے بادشاہ کی طرف دیکھا بولا؛ آپ کسی جنس کی جیسی بھی اچھی تربیت کر لیں، اگر اس کے ساتھ اسے اچھا ماحول فراہم نہیں کریں گے تو تربیت کہیں نہ کہیں اپنا اثر کھو دے گی ۔ کامیاب کردار کے لئے تربیت کے ساتھ ساتھ بہتر ماحول بے حد ضروری ہے۔* *اس سے پہلے کہ بادشاہ اسے روکتا فقیر دربار کے دروازے سے نکل گیا تھا۔* *ہمارے ہاں ساری ذمہ داری استاد کی تربیت پر ڈال دی جاتی ہے، گھر وں کا کیا ماحول ہے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی .*
*پروفیسر ایم اے رفرف*
*جنرل مینیجر سیلز آدم جی انشورنس کمپنی*

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: