اماں حاجرہ نے مجھے سکھایا

*اماں ہاجرہ نے مجھے سکھایا کہ میں صحراء اور بے آب وگیا زمین پر اہل خانہ سے دور اس یقین کے ساتھ رہ سکتی ہوں کہ اللہ مجھے کبھی ضائع نہیں کرے گا*۔

▪اماں ھاجرہ نے مجھے سکھایا کہ گھر شوہر کے بنا بھی خراب نہیں ہوتے، جب عورت اپنے رب پر توکل اور یقین رکھے۔

اماں ہاجرہ نے مجھے سکھایا کہ اللہ کا راستہ نفسانی خواہشات کے مخالف ہوتا ہے،

*”إن الجنة حفت بالمكاره”*

_بلاشبہ جنت ناپسندیدہ خواہشات سے ڈھانپ دی گئی ہے۔_

اماں ھاجرہ نے مجھے سکھایا کہ جب بھی میں کوئی اہم کام کروں اور کوئی مجھ سے اس کے کرنے کا سبب پوچھے تو میں کہوں: یقینا اس کام میں اللہ کی مشیت ہے۔

اماں ھاجرہ نے مجھے سکھایا کہ اللہ مجھ سے کوشش اور چاہتا ہے، جیسے اماں ھاجرہ نے پانی کے کوشش کی اور اللہ نے ان کے لیے زمزم کا چشمہ نکال دیا،
اور أيوب عليه السلام کو بھی کہا گیا
“اركض برجلك” اپنا پاؤں زمیں پر ماریے پانی نکل آئے گا۔۔۔
جس رب نے اسماعیل اور ایوب کے لیے صحراء میں چشمہ نکالا وہ آپ کو مشکلات سے نکالنے پر بھی قادر ہے۔

اماں ھاجرہ نے مجھے سکھایا کہ آپ کوشش کہیں اور کرتے ہیں لیکن آپ کی مشکل کہیں اور حل ہوتی ہے، اماں ھاجرہ نے کوشش تو صفا مروہ پر کری تھی لیکن چشمہ اسماعیل کے قدموں کے نیچے سے پھوٹا۔
آپ اپنے پاس موجودہ اسباب کے ساتھ کوشش کیجیے،
اللہ آپ کو وہ اسباب مہیا فرمائے گا جو آپ کے پاس موجود نہیں۔

اماں ھاجرہ نے مجھے سکھایا کہ یہ ضروری نہیں کہ آپ ابھی کوشش کر رہے ہوں اور آپ کی مشکل حل ہوجائے،
بلکہ کبھی کبھار یوں بھی ہوتا ہے کہ جب آپ اپنی کوشش اور لگن میں تھک ہار جاتے ہیں تو سامنے آسانی آپ کو welcome اور مرحبا کہہ رہی ہوتی ہے ۔۔۔
اماں ھاجرہ جب صفا مروہ کے سات چکر لگا کر تھک گئیں تو پانی بھی مل گیا۔۔۔

ماں ھاجرہ کے صفا مروہ کے بار بار چکر لگانے اور تکرار نے مجھے سکھایا کہ آپ آسانی کے بالکل قریب ہیں، تنگی جب اپنی انتہا کو پہنچ جائے تو سمجھو آسانی اس تنگی کا پیچھا کر رہی ہوتی ہے، یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ {إنّ مع العسر يُسرا}

اماں ھاجرہ کے صفا مروہ کے درمیان دوڑنے نے مجھے سکھایا کہ میں حسب استطاعت نفسانی خواہشات سے دور بھاگوں، اور بقدر استطاعت اپنے لیے حلال رزق کے لیے بھاگ دوڑ کروں۔

اماں ھاجرہ نے مجھے سکھایا کہ اچھا کام بھلے ہی عورت نے کیوں نہ شروع کیا ہو اللہ اس کام کے لیے پوری دنیا اس کے تابع کرسکتا ہے۔
اماں ھاجرہ نے پہلی بار صفا مروہ کی سعی کی جس کے بعد پوری امت مسلمہ کے لیے اس سعی کو حج اور عمرے کے شعائر میں سے بنادیا۔

الغرض کہ دوستو! اماں ھاجرہ نے ہمیں سکھایا کہ جو شخص اللہ کے ساتھ سچا اور وفادار رہتا ہے اللہ اس کے ذکر کو رہتی دنیا تک باقی رکھتا ہے

رحمك الله يا أم اسماعيل رحمة واسعة… آمين

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: