جونا خان محمد بن تغلق

جوناخان محمد بن تغلق 1325 تا 1351.
علم کا دلدادہ یہ بادشاہ بہت علم رکھتا تھا۔ مختلف علوم میں بے پناہ دسترس رکھتا تھا۔ لیکن تاریخ میں اس کو پڑھا لکھا بے وقوف بادشاہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ 27 سالہ دور حکومت میں چند ایسے فیصلے اس کی ناکامی کا سببب بنے۔
محمد تغلق غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک تھا۔

ان کے باوجود اس کو زندگی بھر مختلف مہمات میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ مشہور سیاح ابن بطوطہ جو اس کے اقتدار کے دوران ہندوستان آیا۔ جو تاریخ دان اور سفرنامے لکھنے کا ماہر تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ اس مخلص جواں ہمت بادشاہ کی ناکامی کے اسباب میں سب سے بڑا سبب اس میں متضاد خصلتوں کا اجتماع تھا۔ وہ ایک انتہا پسند بادشاہ تھا۔ اس میں نفسیاتی کمزوری تھی کہ وہ خود کو بہت عقلمند اور حاکم کل سمجھ کر اس طرح حکومت کرنا چاہتا تھا کہ اس کے کاموں پر کوئی تنقید نہ کرے۔ وہ اپنی ذاتی خواہش کی بنا پر منصوبے بنا کر ان کو مکمل کرنے کی کوشش کرتا۔ جن میں اس کے ذاتی نظریات اور جزبات پائے جاتے تھے۔ اور کسی سے مشوره کرنا نہیں چاہتا تھا۔ جس کے لئیے اس کو بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ لیکن وہ اپنی غلط منصوبہ بندی کا نہ کبھی اعتراف اور نہ تسلیم کیا۔ اور اس کی زمہ داری حالات کے سر پر ڈال دی۔ وہ عالم ہونے کے باوجود غیر مدبر تھا۔ اس لئے اس کو تاریخ میں عقلمند بے وقوف کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

محمد بن تغلق کے یو ٹرن : محمد تغلق نے فیصلہ کیا کہ دارلخلافہ دہلی کے بجائے دیر نگر ( دولت آباد) بنا دیا جائے کیونکہ اتنی بڑی سلطنت کا نظام ہندوستان کے درمیان ہونا چاہیئے ۔ اور محمد تغلق کا مرکز بھی دولت آباد مقرر کیا گیا۔ تمام امرا کو حکم دیا کہ تمام اپنے بیوی بچوں سمیت نئے دارالخلافہ پہنچیں ۔ بیشتر امرا نے حکم کی تعمیل کی۔ لیکن موسم کی تبدیلی اور نئی جگہ پر رہائش پزیر ہونا کافی مہنگا ثابت ہوا۔ امرا کو نئی جگہ راس نہیں آئی۔ اور یہ منصوبہ ناکام ہوا اور دوبارہ امرا کو دہلی جانے کا حکم دیا جس سے خزانے پر بہت بوجھ پڑا۔ اور نقل و حرکت میں کئی امرا کو جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔ چین پر حملہ کرنے کا منصوبہ اور اس پر عمل درآمد کیا گیا۔ اس کے لئے ایک لاکھ فوج تیار کی گئی اور براستہ نیپال روانہ کی۔ مہم کے دوران موسم تبدیل ہو گیا۔ شدید برفباری شروع ہو گئی۔ اور فوج کئی حصوں میں بٹ گئی۔ اور برفیلے پہاڑوں پر آسمانی آفات کی نظر ہو گئی۔ اور کچھ چینی فوج کے ہاتھوں ماری گئی۔ اس میں زبردست نقصان اٹھانا پڑا۔

جدید سکے جن میں بیشتر تانبے کے تھے ۔ بد قسمتی سے جدید سکوں کا اجرا بادشاہ کے لئے زیادہ سود مند ثابت نہ ہوا ۔ تاہم اس نے اپنے ہر منصوبے پر عمل کرنے کی کوشش کی ۔ جو اس کے ذہن میں آیا ۔ بادشاہ نے اپنے منصوبوں کی تکمیل کے لئے سرکاری خزانے سے بے پناہ رقم تباہ و برباد کی ۔ اس کے دماغ میں فاتح دنیا بننے کا جو سیاسی شعور پیدا ہوا تھا۔ حالات کی بنا پر پورا نہ ہو سکا ۔ انہیں منصوبوں میں سے ایک خراسان اور بہت سے علاقوں کو فتح کرنے کا تھا۔ اور وہ پوری دنیا کو فتح کرنے کا خواب دیکھتا تھا ۔ لیکن منگولوں کے پے در پے حملوں کی وجہ سے اس کا خواب پورا نہ ہو سکا ۔ اور انہیں سازشوں میں وہ ٹھٹھہ سے 30 میل دور بیمار ہو کر فوت ہو گیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: