عمر بیٹی، بیٹی ہوتی ہے چاہے

حاتم طائی کی بیٹی قید ہو کر بارگاہ رسالت میں آئی اور تھوڑا سا سر سے دوپٹہ سرک گیا.سر کے چند بال یا ایک بال نظر آ رہا تھا۔ آپ ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرمایا عمر بیٹی کے سر پے دوپٹہ دو. حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ کافر کی بیٹی ہے. آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے رو کر فرمایا عمر بیٹی، بیٹی ہوتی ہے چاہے کافر کی ہو یا مسلمان کی. آپ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے .

اور چادر اُٹھا کر بچی کے سر پر رکھی فرمایا بیٹا میرے صحابہ آپ کو قید کر کے لائے ہیں میرے پاس رہنا چاہو تو رہو واپس جانا چاہو تو جا سکتی ہو وہ لڑکی کہتی ہے میں واپس جانا چاہتی ہوں. آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں قربان میرے ماں باپ بھی قربان آپ کے فیصلوں سے آپ نے صحابہ کی ڈیوٹی لگائی دو دن اور دو راتوں کے بعد آپ کے پاک اصحاب دروازے پر پہنچے دروازہ کھٹکھٹایا. اندر سے اطعی بن حاتم یعنی حاتم کا بیٹا باہر آیا جب بہن کو غیر محرم صحابہ کے ساتھ دیکھا تو غصہ میں آ گیا پہلا سوال بہن سے پوچھا مسلمانوں کا نبی کیسا ہے؟

بہن بھاگ کر آگے ہوئی بھائی کے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہتی ہے بھائی غلط لفظ منہ سے نہ نکالنا میرا باپ بھی میری عزت کی حفاظت نہیں کر سکتا جو محمد عربی نے کی ہے. اس نے پوچھا یہ صحابہ کا کردار کیسا ہے.؟ کہنے لگی نماز کا ٹائم ہوتا تھا یہ نماز پڑھتے تھے میں نے ان کا چہرہ نہیں دیکھا انہوں نے میرا نہیں دیکھا. غصہ ٹھنڈا ہو گیا کہنے لگا اگر مسلمانوں کا نبی اتنا اچھا ہے تو مسلمان کیوں نہیں ہوئی. کہنے لگی دل چاہتا تھا مسلمان ہو جاؤں پھر سوچا کہیں بھائی جہنمی ہو کر نہ مر جائے تمہیں لینے آئی ہوں آؤ دونوں بہن بھائی نبی کے قدموں کو چوم کر جنت کی بہاریں نہ لوٹ لیں؟ میں ہاتھ جوڑتا ہوں مجھے بتاؤ میرا نبی تو کافر کی بیٹی کو عزت دیتا ہے تم ایک آدم کی اولاد ایک مسلمان بہن کے ساتھ وقت پاس کر رہے ہو مجھے بتاؤ کل کو حسین کے نانا نے پوچھ لیا تو کیا جواب دو گے.

وہ کملی والا کافر کی بیٹی کے سر کا دوپٹہ نہیں گرتا دیکھ سکتا تم اپنی مسلمان بہنوں کی عزت سے کھیلتے ہو. وہ کالی زلفوں والا سوہنا نبی اس کے صحابہ دو دن دو رات کے بعد ایک نا محرم کو بنا دیکھے گھر پہنچاتے ہیں تم ہر وقت اپنی مسلمان نا محرم بہن کو دیکھنے کے طلب گار ہو کوئی بہن بیٹی سڑک پر سکول کالج میں اپنے کسی مقصد میں اپنی کسی مجبوری میں کام پر جا رہی ہے تو تم ایک گندی لومڑی کی طرح کی نظروں سے اسے دیکھ رہے ہو. جو نبی کافر کی بیٹی کو پوچھتا ہے بیٹا جانا چاہو تو جا سکتی ہو رہنا چاہو تو میں تمہارا باپ ہوں تم اس نبی کے امتی ہو کر اپنی مسلمان بہن کو سارا سارا دن ناجائز تعلقات سے باتیں کر رہے ہو۔۲وءےت

مجھے صرف یہ بتا دو کہ کل کو کملی والے نے پوچھ لیا کے میں تو یہ سبق دے کر آیا تھا تم نے کیا کیا؟.تو کیا جواب دو گے.. ان بہنوں سے بھی کہوں گا اپنے والدین کی عزتیں ان کی قدریں رکھیں غیر محرم مرد سے آپ کا صرف ایک رشتہ بنتا ہے نکاح کا رشتہ ورنہ یہ سب تمہاری عزتوں کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں میرے بھائیوں بہنوں اللہ سے معافی مانگ لو وہ مہربان ہے بہت بخشنے والا ہے پاکیزہ زندگی گزارو یہی حق ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: