خوش بخت لوگ

چہرۂ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زیارت عبادت ہے : جس خوش بخت نے اُس رُخِ والضحیٰ کو ایمان کی حالت میں جاگتے ہوئے دیکھا یا ان کی صحبت سے فیض یاب ہوا اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا وہ صحابی کہلایا اور جس نے خواب میں اُس رُخِ روشن کو دیکھا وہ بھی برکتوں اور رحمتوں سے محروم نہ رہا۔
.
جیساکہ حکیم الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : خیال رہے کہ حُضورِ اَنور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا چہرہ دیکھنا بھی اعلیٰ عبادت ہے جیسے قرآنِ مجید کا دیکھنا بھی عبادت ہے بلکہ قرآنِ مجیدکو دیکھنے سے چہرۂ انور دیکھنا اعلیٰ و افضل ہے کہ قرآن کو دیکھ کر مسلمان صحابی نہیں بنتا حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا چہرہ دیکھ کر صحابی بن جاتا ہے ، اُن کا نام مسلمان بنائے ، اُن کا چہرہ صحابی بنائے اور اُن کا تصوُّر عارِف بناتا ہے۔
.
فِرِشتے قَبْر میں وہ چہرہ ہی دکھاتے ہیں ، پہچان کراتے ہیں ، قرآنِ مجید یا کعبۂ معظمہ نہیں دکھاتے۔ انہیں کے چہرے کی شناخت پر قبر میں بیڑا پار ہوتا ہے۔ [1]
.
نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کےچہرہ ٔانورکا حسن و جمال اتنا بے مثال تھا کہ صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان کی خواہش ہوتی کہ ہر وقت اس خوبصورت و نورانی چہرے کو دیکھتے رہیں ، صحابَۂ کرام نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کےچہرۂ انورکے دیدارِ فرحت آثار سے کس طرح اپنی آنکھوں کوٹھنڈک اور دِلوں کوراحت پہنچاتے تھے اسے اس واقعہ سے سمجھا جا سکتا ہے : ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس ایک صحابی رضی اللہُ عنہ آپ کو یوں دیکھ رہے تھےکہ نظر ہٹاتے ہی نہیں تھے۔ پُرنور چہرے کو ٹکٹکی باندھے دیکھتے ہی رہتے تھے۔

رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :
اس کی کیا وجہ ہے ؟ تو انہوں نے عرض کی : بِاَبِي اَنْتَ وَاُمِّي اَتَمَتَّعُ مِنَ النَّظَرِ اِلَيْكَ یعنی میرے ماں باپ آپ پر قربان! میں آپ کے چہرۂ انور کی زیارت سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔ [2]
.
[1] مراٰۃ المناجیح ، 8 / 60
[2] الشفا ، 2 / 20 مختصراً

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: