عشق اور علم

عشق الٰہی کے سلسلے میں ملامت کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے عشق وہی کام کرتا ۔ جو آگ کی بھٹی کرتی ہے فناکے بعد ہی بقا حاصل ہوتی ہے یاد رکھوغمِ عشق جاں گدار نہیں جان فزا ہے عاشق کے لیے غم موجب رحمت ہوتا ہے ، سمندر مرگ کےلیے
ہلاکت لیکن بطخ کےلیے باعث مسرت ہوتا ہے ۔

عشق کی پیدا کردہ کیفیات انسان میں نئی قسم کے جنون پیدا کرتی ہے ، جو کہ باعث صد رحمت ہوتے ہیں ۔ اگر میرا علم مجھے انسان سے محبت کرنا نہیں سکھاتا تو ایک جاہل مجھ سے ہزار درجہ بہتر ہے اور اچھا ساتھی وہ ہے جسے دیکھناتمہیں دیکھنا خدا کی یاد میں مصروف کر دے جس کی گفتگوتمہارے علم میں اضافہ کرےاور جس کا عمل آخرت کی یاد دلائے

علم کی فضیلت :قرآن و حدیث کی روشنی میں

علم کے ذریعے آدمی ایمان و یقین کی دنیا آباد کرتا ہے، بھٹکے ہوئے لوگوں کو سیدھا راستہ دکھاتا ہے، بروں کو اچھا بناتا ہے، دشمن کو دوست بناتا ہے، بے گانوں کو اپنا بناتا ہے اور دنیا میں امن و امان کی فضا پیدا کرتا ہے۔ علم کی فضیلت و عظمت، ترغیب و تاکید مذہب اسلام میں جس بلیغ و دلآویز انداز میں پائی جاتی ہے اس کی نظیر اور کہیں نہیں ملتی، تعلیم و تربیت، درس وتدریس تو گویا اس دین برحق کا جزو لاینفک ہے، کلام پاک کے تقریباً اٹھتر ہزار الفاظ میں سب سے پہلا لفظ جو پروردگار عالم جل شانہ نے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر نازل فرمایا وہ اِقرَاء ہے، یعنی پڑھ، اور قرآن پاک کی چھ ہزار آیتوں میں سب سے پہلے جو پانچ آیتیں نازل فرمائی گئیں ان سے بھی قلم کی اہمیت اور علم کی عظمت ظاہر ہوتی ہے، ارشاد ہے:

(۱) ترجمہ: پڑھ اور جان کہ تیرا رب کریم ہے، جس نے علم سکھایا قلم کے ذریعے سکھلایا آدمی کو جو وہ نہ جانتا تھا۔(سورة القلم آیت 4،5) گویا وحی الٰہی کے آغاز ہی میں جس چیز کی طرف سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے نوعِ بشر کو توجہ دلائی گئی،وہ لکھنا پڑھنا اور تعلیم و تربیت کے جواہر و زیور سے انسانی زندگی کو آراستہ کرنا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نبوت کے منصب عظیم سے نوازا گیا،اس وقت جزیرة العرب کی کیا حالت تھی؟ قتل و غارت گری، چوری، ڈکیتی،قتل اولاد، زنا،بت پرستی کون سی ایسی برائی تھی جو ان میں پائی نہ جاتی ہو۔ بعضے وقت بڑے فخریہ انداز میں اسے انجام دیا جاتا تھا۔ اللہ کے رسول نے ان کی تعلیم و تربیت اس انداز سے کی اور زندگی گزارنے کے ایسے اصول بتائے کہ دیکھتے ہی دیکھتے ان کی حالت یکسر بدل گئی اور تہذیبی قدروں سے آشنا ہو گئے۔ جہاں اور جدھر دیکھیے لوگ تعلیم و تعلم سے جڑ گئے اور قرآن و حدیث کی افہام و تفہیم میں مشغول ہو گئے۔

(۲) ترجمہ :اللہ تم میں سے ان لوگوں کے درجے بلند کر دے گا جو ایمان لائے، اور جنھوں نے علم حاصل کیا۔(سورة المجادلہ آیت 11)

(۳) دوسرے مقام پر فرمایا گیا ہے:”(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ دیجیے کیا علم رکھنے والے(عالم) اور علم نہ رکھنے والے (جاہل) برابر ہوسکتے ہیں۔نصیحت تو وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔(سورةالزمر آیت 9،سورةالرعد:آیت 16)

(۴) ایک اور آیت میں تاریکی اور روشنی کی مثال دے کر عالم اور جاہل کے فرق کو واضح کیا گیا ہے،چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:”کہہ دیجیے،کیا برابر ہوسکتے ہیں اندھا(جاہل) اور دیکھنے والا(عالم) یا کہیں برابر ہوسکتا ہے اندھیرا اور اجالا؟”۔(سورةالفاطر آیت 19،20)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: