اچھی ساس کیسے بننا ہے

اس مضمون کے کچھ حصے کیے جا رہے ہیں، شروع میں نارمل حالات میں ساس کے کردار میں بہتری کی کچھ یاد دہانیاں ہیں جبکہ آخری حصّے میں ٹیڑھی کھیر سے نبرد آزما ہونے کی تدابیر ہوں گی۔ ان شاء اللہ۔ جس طرح آپ اپنے بچے کی پیدائش کے ساتھ اسے بڑے ہو کر کامیاب انسان بننے کی تربیت دینا شروع کر دیتی ہیں، اسی طرح اگر آج آپ ماں بن چکی ہیں، تو ابھی سے، اپنے آپ کو ساس بنانے کی تربیت دینا شروع کر دینا چاہیے۔

اگر بیٹا یا بیٹی میں کوئی بھی ایک، یا بالکل اکلوتا ہے، جس میں آپ کی جان اور انگنت ارمان، اٹکے ہوئے ہیں تو، سب سے پہلے تو اس بچے کو اکلوتے لاڈلے ہونے کا اس شدت سے احساس نہ ہونے دیں اور خود کو بھی نارمل والدین جیسے رکھیے۔ والدین ارد گرد کے دوسرے بچوں پر اعتدال میں رہتے ہوئے اپنا وقت، مال اور محبت سبھی کچھ صرف کریں ساتھ ہی اپنے بچے کو اس شیئرنگ کا عادی بنائیں۔ بچے کو بھی خود انحصاری پر مائل رکھیں۔ ساتھ ہی خود بھی اس کی ضرورت سے زائد توجہ اور محبت پانے کی خواہش سے بچنے کی ممکنہ کوشش کریں۔

کیونکہ لڑکی ہو یا لڑکا کل کو اس ایک اکلوتے لاڈلے! لاڈلی کی شادی ہوگی، تب دوسروں سے اسے وقت، مال اور محبت سبھی کچھ ہر صورت بانٹنا ہی ہوں گے۔ بچے ایک سے زیادہ بھی ہوں تب بھی مندرجہ بالا احتیاط لازم ہے ساتھ ہی کھیل یا پڑھائی یا عام زندگی میں بچوں کو ہار تسلیم کر کے مثبت رہنے، اور جیت کر قابو میں رہنے کی تلقین کرتے رہیں۔ بچوں کی پیدائش کے ہر مرحلے پر آپ کو انگنت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا، راتوں کی نیند، دل کا چین سالہا سال کی بیقراری میں بدلتا گیا، کبھی اولاد کے لیے جھکنا پڑا تو کبھی، ٹوٹنا بکھرنا بھی پڑا، غرض اپنی اولاد کے، بیج سے کونپل، پھر پودا اور تن آور درخت بننے تک، جیسی باغبانی آپ نے کی، بالکل ایسا ہی سب کچھ، یا شاید اس سے کہیں زیادہ، ایک اور ماں بھی کرتی رہی۔ ۔ ۔ آپ کی بہو یا داماد کی ماں۔

اس بات کو کبھی فراموش نہ کریں کہ آپ کے ایک بچے پر دوسرا یعنی اس کا جوڑی دار، قدرت کی جانب سے آپ کو بالکل فری، فری، فری ملتا ہے، آپ کو سالہا سال اس کے لیے کوئی ایک بھی مشقت نہیں جھیلنی پڑتی، تو اگر اب خدانخواستہ بہو یا داماد سے کوئی خلاف منشا بات سرزد ہوتی بھی ہے، یا وہ آپ کی پسند کے ہی نہیں، تب بھی، جوڑ تو ان کا اللہ تعالیٰ نے ہی بنایا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کی اس تقسیم پر راضی رہیں اور سوچیں کہ کیا یہ آزمائش ان تمام تکالیف کے مقابلے میں کچھ بھی حیثیت رکھتی ہے جو لمحہ لمحہ کئی سال آپ کو اپنی ہی اولاد سے ملتی رہیں؟

تو کیا اس فری ملنے والے بچے اور اس کے والدین کی تکریم، ہم پر اخلاقی طور پر واجب نہیں ہوتی؟ کیا مسلمان کی آبرو، مال اور خون دوسرے مسلمان پر حرام نہیں؟ تو پھر کیوں ہم ان کی غیبت کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ یہ بھی کسی کی عزت کا حق مارنا ہے۔ طعنہ یعنی لفظوں کے نیزے سے حملہ کرتے وقت کیوں یاد نہیں رہتا کہ سامنے والا بھی مسلمان ہے اور بظاہر ہماری تلخ بات سے اس کا خون بہتا دکھائی نہ بھی دے لیکن جلتا کڑھتا تو ہوگا ہی۔

[جاری ہے]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: