ایک غر یب لڑکی کی شادی اور آپ ﷺ

رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک مجلس میں تشریف فرماتھے، ایک عورت آئی اور اس نے اپنا نفس رسول اللہ ﷺ کے سپرد کردیا کہ اس کی جہاں چاہیں شادی کردیں۔ ایک غریب کنوارے صحابی وہاں موجود تھے ۔

انہوں نے کہا کہ یارسول اللہﷺ ! اس کی شادی آپ مجھ سے کردیجیے۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا:”تمہارے پاس اسے حق مہر دینے کےلیے کچھ ہے؟ ” ا س نے کہا کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ جاؤ اگر لوہے کی انگوٹھی ہی مل جائے تو لے آنا ہم وہی حق مہر بنا کر اس کا نکاح تجھ سے کردیں گے۔ وہ صحابی اپنے گھر گیا مگر غربت کا عالم یہ تھا کہ گھر سے لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہ ملی۔ اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! میرے پاس ایک چادر ہے ۔ اس میں آدھی میں حق مہر میں اسے دے دیتا ہوں اورآدھی خود رکھ لیتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”وہ آدھی نہ آپ کےکسی کام آئے گی اور نہ اس کے کام آئے گی۔

رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: ” وہ آدھی نہ آپ کے کسی کام آئے گی اور نہ اس کے کام آئے گی”۔ وہ خاموشی سے ایک طرف ہوکر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بیٹھا رہا مگر اٹھ کرجانے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور پوچھا:” تمہیں قرآن میں سے کچھ دیا ہے؟ “ اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے فلاں فلاں سورتیں یا د ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ میں نے ان سورتوں کے عوض تمہارے نکاح اس سے کردیا (یعی وہ سورتیں تم اسے یاد کروادینا)۔ حدیث سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دورنبوت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی غربت کا کیا عالم تھا۔ ایک صحابی کےپاس حق مہر دینے کے لیے جو کہ فرض تھا، ایک لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں تھی چاندی اورسونا تو دور رہا۔ رسول اللہﷺ نے مدینہ میں دس سال گزارے اورہر سال آپ نے قربانی کی حتیٰ کہ ایک سال سو اونٹ نحر کیے۔

آپ ﷺ نے ان دس سالوں میں کبھی یہ نہیں کہا کہ اس سال ہم قربانیاں نہیں کریں گے بلکہ قربانی کا پیسہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی پر خرچ کریں گے۔ اگر قربانی کے جانور ذبح کرنے کے بجائے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی پرپیسہ خرچ کرنا قربانی سے افضل ہوتا تو نبی کریمﷺ ضرور اس کا حکم دیتے مگر آپ نے شادی کی استطاعت نہ رکھنے والوں سے فرمایا: “اے نوجوان کی جماعت ! تم میں سے جو شادی کی استطاعت رکھتا ہے وہ شادی کرلے اور جو استطاعت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے، اس لیے کہ یہ روزہ اس لیے (گناہ سے بچنے کی) ڈھال ثابت ہوگا”۔

جوں جوں قربانی کے ایا م قریب آئیں گے ، غریبوں کے بہت سے خیر خواہ (لبرل ) اپنی بلوں سے نکلنا شروع ہوجائیں گے ۔ ان کا مقصد غریبوں کی حمایت نہیں بلکہ شعائر اسلام کی تحقیر ہوتا ہے ان کے دلوں میں شعائر اسلام کا بغض اور نفرت کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔ قربانی ایک عظیم عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہے۔ شکو ک و شبہات سے بچیے اور اللہ پا ک کے دیے ہوئے مال میں سے اللہ کی راہ میں جانور ذبح کیجیے۔ اسی میں خیر اور بھلائی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: