دجال سیریز حصہ اول

نبیِ مکرم ﷺ نے دجال کو فتنہِ عظیم قرار دیا ہے اور اس وقت دُنیا میں جو موجودہ حالات ہیں جن میں جنگیں ہوں، نت نئی بیماریاں ہوں، معاشی وسماجی تباہ کاریاں ہوں غرض آپکو انسانی تباہ کاریوں کے جہاں جہاں جو جو آثار نظر آرہے ہیں انکے پیچھے دجال کی آمد کی تیاریاں ہیں اور دجال جتنا بڑا فتنہ ہے اس کی آمد کے لیے جاری تیاریاں بھی اسی قدر ہولناک و درناک ہیں اور اسکی آمد کی تیاریوں میں مصروف اس کے چیلے اس کی خوشنودی کے لیے کسی بھی قسم کے اقدام سے پرہیز نہیں کرتے اسکا ثبوت دُنیا میں موجودہ حالات ہیں۔

یوں تو ہم مسلمانوں کے لیے دجال کے متعلق آگاہی اور اس کی آمد کی سچائی کو ماننے کے لیےکسی دلیل کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ اس کے متعلق آگاہ کرنے والے صادقُ العالمین و نبی المرسلین حضرت محمدﷺ کا اس کو فتنہِ عظیم کہہ دینا ہی کافی تھا لیکن آج کا ہمارا کچھ ذیادہ ماڈرن اور جدت پسند طقبہ دجال کو محض ایک دقیانوسی اور پرانی سُوچ کہہ کر نظر انداز کرتا ہے حالانکہ سرکارِ دوجہاںﷺ کے ارشادات کے بعد ہمیں دجال کی آمد کے سلسلے میں کسی حجت کی ضرورت نہ پڑتی جس طرح یہودیوں کو دجال کا اس قدر علم نہ تھا جو انہوں نے حضورپاکﷺ کی مسلمانوں کو خبردار کرنے سے متعلق احادیث سے اخذ کرلیا.

آج یہودی دجال کی آمد کے لیے صدیوں سے منتظر رہنے کے بعد شدت سے پکار رہے ہیں انہیں یہ یقین ہو چلا ہے کہ انکی دجال کے حوالے سے تمام تر تیاریاں مکمل ہیں لیکن دوسری جانب جن مسلمانوں کو آگاہ کیا گیا تھا وہ یا تو دجال کے ذکر کو محض پرانی باتیں قرار دیتے ہیں اور یا پھر اس کے ذکر سے خوف محسوس کرتے ہوئے اس پہ بات کرنا گوارہ نہیں کرتے اور یا انہیں دجال کا ذکر کرتےشرم سی محسوس ہوتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے وغیرہ وغیرہ۔

خیر آج کی تحریر کا مقصد دجال کے متعلق احادیث مبارکہ کی رو سے ان لوگوں کو آگاہی دینا ہے جنکے خیال میں دجال نامی کوئی چیز وجود ہی نہیں رکھتی یا رکھتی ہے تو یہ باتیں پرانی ہیں تو احادیث کی رو سے دجال کی آمد کو ثابت کرتے ہیں اور گزارش ہے کہ اب وقت آن پہنچا ہے کہ آپ دجال کو پڑھیں اسے سمجھیں اور اس فتنے سے آگاہ رہیں۔

حدیث مبارکہ ۔1
ابو ودک سے روایت ہے کہ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا: کیا خوارج دجال کے ظہور کا اقرار کرتے ہیں؟ میں نے کہا: جی نہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ایک ہزار بلکہ اس سے زائد نبیوں کے بعد آیا ہوں، ہر نبی، جس کی پیروی کی گئی، نے اپنی امت کو دجال سے خبردار کیا ہے، لیکن مجھے اس کی ایسی ایسی علامتیں بیان کی گئی ہیں جو کسی دوسرے نبی کو نہیں بتلائیں گئی تھیں، (یاد رکھو کہ) دجال کانا ہو گا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے، دجال کی داہنی آنکھ بھینگی اور اس طرح نمایاں ہوگی جیسے کسی چونہ گچ دیوار پر بلغم یا کھنکار کا نشان ہو اور اس کی بائیں آنکھ چمکتے ہوئے تارے کی مانند ہوگی، ہر زبان بولنے والے اس کے ساتھ ہوں گے، اس کے پاس جنت کے مشابہ سرسبز باغ ہوگا، جس میں پانی بہہ رہا ہوگا اور جہنم کے مشابہ بھی ایک سیاہ چیز ہو گی، جو دھواں چھوڑ رہی ہو گی۔ مسندِ احمد جلد 12 حدیث مبارکہ 12987

2۔سیدہ اسماء بنت یزید سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر میں موجود تھے، کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ظہور دجال سے تین سال قبل آسمان ایک تہائی پانی اور زمین ایک تہائی فصل رو ک لے گی، جب دوسرا سال آئے گا تو آسمان دو تہائی پانی اور زمین دو تہائی فصلیں روک لے گی، پھر جب تیسرا سال شروع ہو گا تو آسمان مکمل طور پر اپنا پانی اور زمین مکمل طور پر اپنی فصلیں روک لے گی، ٹاپوں (والے اونٹ) اور کھروں (والے گائے، بیل، بھیڑ بکری اور گھوڑے گدھے) سب ہلاک ہو جائیں گے۔ اتنے میں اُدھر دجال پہنچ کر ایک دیہاتی آدمی سے کہے گا: اگر میں تمہاری اونٹنیوں کو موٹی تازہ اور دودھ سے بھری تھنوں کی صورت میں پیدا کرکے دکھاؤں تو کیا تم مان جاؤ گے کہ میں تمہار اربّ ہوں؟ وہ کہے گا: ہاں بالکل۔
اس کے بعد شیطان اس آدمی کے اونٹوں کی شکل اختیار کریں گے تو وہ آدمی اس کے پیچھے لگ جائے گا۔ اسی طرح وہ دجال ایک اور آدمی سے کہے گا: اگر میں تمہارے باپ، بیٹے اور اور تم اپنے خاندان کے جن لوگوں کو پہچانتے ہو، سب کو زندہ کر دوں تو کیا تم یقین کر لو گے کہ میں تمہارا ربّ ہوں؟ وہ کہے گا: ہاں بالکل، پھر وہ شیطانوں کو ان لوگوں کی شکل میں پیش کر دے گا تو وہ بھی اس کے پیچھے چلا جائے گا۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر چلے گئے اور گھر میں موجود سارے لوگ رونے لگ گئے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس تشریف لائے تو ہم سب رو رہے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تم لوگ کیوں رو رہے ہو؟ میں (اسماء) نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے دجال کے متعلق جو کچھ بیان کیا، اس کی وجہ سے.

ایک روایت میں ہے: آپ نے تو دجال کا ذکر کرکے ہمارے دلوں کو ہلا دیاہے، اللہ کی قسم! میرے اہل کی ایک لونڈی ہے، جب وہ آٹا گوندھتی ہے تو ابھی تک اپنا کام پورا نہیں کرتی کہ بھوک کی وجہ سے ٹوٹنے لگ جاتی ہے۔ ایک روایت میں ہے: جب ہم آٹا گوندھتی ہیں تو ابھی تک روٹی نہیں پکاتی کہ بھوک لگی ہوتی ہے، تو اُس وقت ہم کیا کریں گے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس وقت اہل ایمان کو کھانے پینے کی بجائے تکبیر، تسبیح اور تحمید کفایت کریں گے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم لوگ نہ روؤو، کیونکہ اگر میری موجودگی میں دجال کا ظہور ہو گیا تو میں اس کا مقابلہ کر لوں گا اور اگر میرے بعد ہوا تو ہر مسلمان پر خلیفہ اللہ تعالیٰ خود ہو گا۔
مسندِ احمد جلد 12 حدہث مبارکہ 12969

  1. ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
    “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح دعا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ومن عذاب النار،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ومن فتنة المحيا والممات،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ومن فتنة المسيح ال دجال »”اے اللہ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور دوزخ کے عذاب سے اور زندگی اور موت کی آزمائشوں سے اور کانے دجال کی بلا سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔
    صحیح بخاری شریف حدیث مبارکہ 1377
  2. مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح دعا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ومن عذاب النار،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ومن فتنة المحيا والممات،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ومن فتنة المسيح ال دجال » ”اے اللہ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور دوزخ کے عذاب سے اور زندگی اور موت کی آزمائشوں سے اور کانے دجال کی بلا سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔صحیح بخاری شریف حدیث مبارکہ 1377
  3. اسحٰق نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی ایسا شہر نہیں ملے گا جسے دجال پامال نہ کرے گا، سوائے مکہ اور مدینہ کے، ان کے ہر راستے پر صف بستہ فرشتے کھڑے ہوں گے جو ان کی حفاظت کریں گے پھر مدینہ کی زمین تین مرتبہ کانپے گی جس سے ایک ایک کافر اور منافق کو اللہ تعالیٰ اس میں سے باہر کر دے گا.”صحیح بخاری شریف حدیث مبارکہ 1881
  4. ابونعیم نے بیان کیا، ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے ابوسلمہ نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیوں نہ میں تمہیں دجال کے متعلق ایک ایسی بات بتا دوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو اب تک نہیں بتائی۔ وہ کانا ہو گا اور جنت اور جہنم جیسی چیز لائے گا۔ پس جسے وہ جنت کہے گا درحقیقت وہی دوزخ ہو گی اور میں تمہیں اس کے فتنے سے اسی طرح ڈراتا ہوں، جیسے نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا۔“صحیح بخاری شریف حدیث مبارکہ 3338
  5. فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
    “میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کو پکارتے سنا: لوگو! نماز کے لیے جمع ہو جاؤ ، تو میں نکلی اور جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی، پھر جب آپ نے نماز ختم فرمائی تو ہنستے ہوئے منبر پر جا بیٹھے، اور فرمایا: ہر شخص اپنی جگہ پر بیٹھا رہے پھر فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے میں نے تمہیں کیوں اکٹھا کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں جہنم سے ڈرانے اور جنت کا شوق دلانے کے لیے نہیں اکٹھا کیا ہے، بلکہ میں نے تمہیں یہ بتلانے کے لیے اکٹھا کیا ہے کہ تمیم داری نے جو نصرانی شخص تھے آ کر مجھ سے بیعت کی ہے، اور اسلام لے آئے ہیں، انہوں نے مجھ سے ایک واقعہ بیان کیا ہے جو اس بات کے مطابق ہے جو میں نے تمہیں دجال کے متعلق بتائی ہے، انہوں نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ وہ ایک سمندری کشتی پر سوار ہوئے، ان کے ہمراہ قبیلہ لخم اور جذام کے تیس آدمی بھی تھے، تو پورے ایک مہینہ بھر سمندر کی لہریں ان کے ساتھ کھیلتی رہیں پھر سورج ڈوبتے وقت وہ ایک جزیرہ کے پاس جا لگے، وہاں سے چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر جزیرہ میں داخل ہوئے، وہاں انہیں ایک لمبی دم اور زیادہ بالوں والا ایک دابہ ( جانور ) ملا، لوگوں نے اس سے کہا: کم بخت تو کیا چیز ہے؟ اس نے جواب دیا: میں جساسہ ہوں، تم اس شخص کے پاس جاؤ جو اس گھر میں ہے، وہ تمہاری خبروں کا بہت مشتاق ہے، جب ہم سے اس نے اس شخص کا نام لیا تو ہم اس جانور سے ڈرے کہ کہیں یہ شیطان نہ ہو، پھر وہاں سے جلدی سے بھاگے اور اس گھر میں جا پہنچے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک عظیم الجثہ اور انتہائی طاقتور انسان ہے کہ اس جیسا انسان ہم نے کبھی نہیں دیکھا، جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے اور اس کے دونوں ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے ہیں، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی ۱؎ اور ان سے بیسان ۲؎ کے کھجوروں، اور زعر ۳؎ کے چشموں کا حال پوچھا، اور نبی امی کے متعلق دریافت کیا، پھر اس نے اپنے متعلق بتایا کہ میں مسیح دجال ہوں، اور قریب ہے کہ مجھے نکلنے کی اجازت دے دی جائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شام کے سمندر میں ہے، یا یمن کے سمندر میں، ( پھر آپ نے کہا: ) نہیں، بلکہ مشرق کی سمت میں ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے دو بار مشرق کی جانب اشارہ کیا۔ فاطمہ کہتی ہیں: یہ حدیث میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کی ہے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
    سنن ابی داؤد، جلد چہارم، حدیث مبارکہ 4326

دجال سے متعلق احادیث مبارکہ کی تعداد کافی ذیادہ ہے جنہیں یہاں شئیر نہیں کیا جاسکتا. ان چند احادیث مبارکہ کے ذکر کے بعد منکرینِ دجال کے لیے کوئی حجت باقی نہیں رہ جاتی کہ وہ دجال سے متعلق باتوں کا مذاق اڑائیں یا انکو پرانے زمانے کی باتیں کہہ کر نظرانداز کریں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: