صبر و تحمل

دورِحاضر میں انسان میں صبر و تحمل ختم ہو گیا ہے، آئے روز کے جھگڑوں کی ایک وجہ بھی یہی ہے، ہر کوئی کسی دوسرے کو روند کر آگے نکلنا چاہتا ہے۔ اسی لئے سب سے زیادہ ضرورت بھی صبر کرنے کی ہے۔ صبرکے لغوی معنی ہیں روکنا، برداشت کرنا، ثابت قدم رہنا یا باندھ دینا۔ اوراس کا مفہوم ہے کہ ناخوشگوار حالات میں اپنے نفس پر قابو رکھنا، پریشانی، بیماری، تکلیف اور صدمے کی حالت میں ثابت قدمی اور ہمت قائم رکھتے ہوئے اپنے مالک وخالق پر مکمل بھروسہ رکھنا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”اللہ صابروں کو دوست رکھتاہے‘‘۔ اللہ تعالیٰ صبر کی فضیلت یوں بیان فرماتے ہیں ”یقینا اللہ تعالیٰ صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘۔ دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”اورجو مصیبت آپ کو پیش آئے، اس پر صبرکرو، یہ بڑے عزم اور حوصلے کی بات ہے‘‘۔ ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے پیغمبرﷺ سے فرمایا ”اور (اے رسولؐ) صبر کیجئے جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا‘‘۔ اسی طرح سورۃ النساء آیت نمبر 200 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”اے ایمان والو! خود بھی صبرکرو اور دوسروں کو بھی صبر کی تلقین کرو‘‘۔ لوگوں نے حضور نبی کریمﷺ سے پوچھا کہ ایمان کیا چیز ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا صبر۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے صبر کو جہاد، عدل اور یقین کے ساتھ ملاتے ہوئے فرمایا: اسلام چار ستونوں پر مبنی ہے (۱) یقین، (۲) صبر، (۳) جہاد، (۴) عدل۔

حضرت ابی بن کعبؓ نے فرمایا، مومن چار حالتوں کے درمیان رہتا ہے، اگر کسی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو صبر کرتا ہے اور اگر کوئی نعمت ملتی ہے تو شکر کرتا ہے اور اگر بات کرتا ہے تو سچ بولتا ہے اور اگر کوئی فیصلہ کرتا ہے تو انصاف والا فیصلہ کرتا ہے اور ایسے مومن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { نُــوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ} (سورئہ نور ، آیت : ۳۵)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: