دجال سیریز حصہ دوم

دجال کون ہے؟ کیسا ہوگا؟
حصہ_دوئم
دجال عربی زبان کا لفظ ہے جو کہ دجل سے نکلا ہے جسکا مطلب ہے دھوکہ فریب،مکاری اور دجال کا مطلب ہوا دھوکے باز، مکار، فریبی۔ کیونکہ دجال سے تعلق رکھنے والی ہر چیز جھوٹ دھوکہ اور فریب سے بھری ہے۔

شیطان نے جنت سے نکالے جانے کے بعد اللہ پاک سے کہا تھا کہ میں رہتی دنیا تک تیرےبندوں کو بھٹکاتا رہوں گا تو ربِ غفورُورحیم نے فرمایا کہ میرا بندہ جب تک مجھ سےتوبہ کرتا رہےگا میں بھی اسے معاف کرتا رہوں گا۔
جنت سے دھتکار دئیےجانے کے بعد سے اب تک شیطان انسان کو اللہ کی راہ سے بھٹکانے کے لیے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتا آیا ہے تاکہ انسان اللہ پاک کو چھوڑ کر اسکی جانب بڑھیں اسکی پرستش کریں یا کم از کم صحیح راہ سے ضرور بھٹک جائیں کہیں مال و دولت، کہیں عورت کا لالچ تو کہیں اقتدار کی ہوس۔ یہ تنیوں چیز انسان کی انتہائی درجے کی کمزور ی ہیں۔ اللہ پاک نے قرآن مجید فرقانِ حمید میں سورت البقرہ آیت نمبر 168 میں شیطان کو انسان کے لیے کھلا دشمن قرار دیا ہے ۔

شیطان کی انسان سے دشمنی کا عالم یہ ہے کہ شیطان چاہتا ہےکہ ہرشخص اللہ کا نافرمان ہوکر جہنم میں جائے۔اسی لیے ہی شیطان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ جب کسی صاحبِ ایمان شخص پہ نزع کی حالت طاری ہوتی ہے تو شیطان اس میں بھی پوری پوری کوشش کرتا ہےکہ آخری وقت میں بھی صاحبِ ایمان کو ایمان سے محروم کردے۔

اسی لیے قیامت سے پہلے بھی شیطان کی کوشش ہے کہ اللہ پاک کا مقابلہ کیاجائے اور قیامت سے پہلے جس قدر انسانوں کو اللہ پاک کی وحدانیت کا منکر کرسکے کرتا رہے اور اسی کوشش کا سب سے بڑا ہتھیار وہ ہے “دجال”۔ مذہب کے لحاظ سے دجال یہودی ہوگا اور یہودیوں کے جمع کردہ سارے مال و لشکر اسکے ساتھ ہونگے۔

گزشتہ روز پہلے حصے میں احادیثِ مبارکہ کی رو سے آپکو بتایاتھا کہ نبیِ پاک ﷺنے دجال کو فتنہِ اکبر قرار دیا۔ دجال کی آمد سے چند سال پہلے انتہائی مشکل اور اذیت ناک ہونگے، جنگیں ہوں گی، قحط سالی، بیماریاں، بھوک افلاس، دُولت سمٹ کر چند لوگوں کے ہاتھوں میں چلی جائے گی، اس بات کا اندازہ آپ اس سے لگالیں کہ اس وقت شیطان کے پجاری اور دجال کی آمد کے لیے تیاریوں میں مصروف 13 خاندان جو پوری دُنیا کی 98 سے99 فیصد دولت اور وسائل پر راج کررہے ہیں جبکہ باقی دُنیا صرف ایک یا دو فیصد دولت کے لیے ہی لڑ جھگڑ رہی ہے۔

یہ سب کچھ صرف اورصرف دجال کے لیے اور دجال کو خدا ثابت کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ دُنیامیں لوگوں پہ زندگی اس قدرتنگ کردی جائےگی کہ لوگ اپنی چھوٹی سی ضرورت کے لیے کسی کے آگے بھی جھکنے کو تیار ہوجائیں گے۔

خیر یہاں دُنیا جہاں کی دولت کو سمیٹنے کے اور بھی کئی مقاصد ہیں جنہیں ان شاءاللہ آگے 13 خاندانوں، فری میسنز اورالومیناٹی تنظیموں کے ذکر میں تفصیل سےبیان کرونگا یہ خاندان اس قدر امیر اور طاقتور ہیں کہ امریکہ اور تمام یورپی ممالک کی ان کے نزدیک حیثیت کسی غلام سے ذیادہ نہیں۔

آخیر وقتوں میں مسلمانوں کے متعلق ارشادات بیان فرمائے گئے تھے کہ وہ لوگ جو دجال کو اور دجال کی نہیں مانیں گے ان پہ بڑا مشکل وقت ہوگا ۔جیسا کہ خاص کر مسلمانوں کےلیے زندگی تنگ کی جارہی ہےاسلام کو دہشتگرد اور شدت پسند قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دُنیا میں اس وقت تین مذاہب اسلام، یہودیت اور عیسائیت یہ تینوں آسمانی مذاہب ہیں ان میں اسلام ایک طرف جبکہ یہودی اور عیسائی دوسری طرف، یہودیوں کی اسلام دشمنی ہمیشہ سے واضح رہی ہے اور جیسے یہودی دجال کی آمد کے منتظر ہیں ویسے ہی عیسائی بھی منتظر ہیں اسکی وجہ آپکو آگے کسی حصے میں بتاؤں گا۔

دجال دیکھنے میں کیسا ہوگا اسکا جسمانی خاکہ کیسا ہوگا؟
رسول مقبولؐ نے خواب میں دیکھا کہ وہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں کہ اس دوران انہیں دجال دکھایا گیا۔ آپﷺ نےفرمایا” وہ بھاری بھرکم جسم، سرخ رنگت، گھنگھریالے بال اور ایک آنکھ سے نابینا ہے۔ اس کی آنکھ لٹکے ہوئے انگور کے دانے جیسی ہے۔”صحیح البخاری، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، حدیث نمبر: 6709

یہی نشانیاں حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ نے بھی آپﷺ کی خدمت میں بیان فرمائیں جب انہوں نے ایک جزیرہ پہ دجال سے ملاقات کی ۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم نے بھاری بھرکم قدکاٹھ کا ایک آدمی دیکھا جس کے گھٹنوں سے ٹخنوں تک بندھی ایک لوہے کی زنجیر تھی اور اس کے ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ بندھے تھے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دجال آج سے نہیں 1400 سال پہلے سے اس دُنیا میں موجود ہے ان شاءاللہ اگلے حصے دجال کہاں ہے اور دجال کا ظہور کہاں سے ہوگا میں آپکو اس کے متعلق بتاؤں گا۔ حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کی دجال سے ملاقات اس بات پہ مہر ثبت کر دیتی ہے کہ دجال موجود ہے اور آج کل جو ویڈیوز شئیر کی جارہی ہیں ایک آنکھ والا بچہ وغیرہ وغیرہ وہ سب جعلی اور محض پروپگنڈہ ہے.

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” جو دجال کی خبر سن لے وہ اس سے دور رہے۔ اللہ کی قسم! آدمی اپنے آپ کو مومن سمجھ کر اس کے پاس آئے گا اور پھر اسکے پیدا کردہ شبہات میں اس کی پیروی کرے گا۔ سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال، حدیث نمبر : 321

دجال اپنے آپ کو سب سے پہلے نبی کہے گا، پھر خدائی کا دعویٰ کریگا۔ اپنے پیدا کردہ زبردست شکوک و شبہات میں انسانیت کو پھانستا چلا جائے گا۔ وہ اپنے آپکو دجال نہیں بلکہ خدا کہے گا کیونکہ دجال کا مطلب جھوٹ اور دھوکہ ہے اس لیے وہ خود کو دجال نہیں کہے گا بلکہ خود کو خدا اور مسیحا کہے گا اور ایسی ایسی شعبدہ بازیاں دکھائے گا کہ سامنے والا طاقتور سےطاقتور ایمان رکھنے والا بھی ڈگمگا جائے گا لہذا جب دجال خدائی کا عویٰ کرے گا تو مسلمانوں کے پاس بڑی ٹھوس دلیلیں موجود ہیں.

سب سے بڑی دلیل خود اللہ سبحان وتعالیٰ کی اپنی ذات مبارکہ ہے کہ انسان جنت میں جانے سے پہلے اللہ پاک کا دیدار نہیں کرسکتا جبکہ دجال بذاتِ خود انسان کے سامنے موجود ہوگا۔
دوسری بات دجال کانا ہوگا جو کہ ایک عیب ہے جبکہ اللہ پاک ہر قسم کے عیب سے پاک ہیں۔
دجال کے دونوں آنکھوں کے درمیان “ک ا ف ر” لکھا ہوگا جسے ہر شخص پڑھ لے گا چاہے وہ ان پڑھ ہو یا پڑھا لکھا، مومن ہو یا کافر۔

دجال انتہائی بدصورت ہوگا اتنا بدصورت کہ اس سے دیکھ کر ہی انسان کو اس سے شدید کراہت ہوگی آج ایک آنکھ سے لیکر آج طرح طرح سے بدنما صورتوں کو تب ہی جگہ جگہ پروموٹ کیا جا رہا ہے کہ انسان ان کا عادی ہوجائے اور دجال سے مانوس ہوجائے لیکن ہماری قوم ان نشانیوں کو دیکھ اتنی مانوس ہوچکی ہے کہ فیشن سمجھ کر اپنا رہی ہیں. جاری ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: