بُرا وقت آئے تو کیا کریں

وقت کا تعلق ہر انسان سے ہے۔اگر ہم وقت کو انسان کا دوسرا روپ کہیں تو غلط نہ ہو گا۔بیشک وقت اس طرح سے ہی گزرنا ہے جیسا انسان اسے گزارتا ہے۔اور آنے والے وقت میں انسان اپنے گزرے ہوے وقت سے پہچانا جاتا ہے۔ہر انسان پہ ہر طرح کا وقت آتا ہے اچھا بھی اور برا بھی لیکن برا وقت انسان کی سوچ اور عمل پہ بہت گہرے اثرات چھوڑ جاتا ہے۔جو اچھے بھی ہو سکتے اور برے بھی۔

یہاں بنیادی بات ایمان کی ہو رہی ہے کیونکہ نکھرتا وہی ہے جس کا ایمان مضبوط ہو اور اپنے حالات اور غلطیوں سے سیکھے بے شک ایمان بہت بڑی طاقت ہے اور یہی ہمیں اچھے برے وقت میں رہنمائی کرتی ہے۔ جن کا ایمان پختہ ہو وہ اپنے حالات کے تقاضوں پہ شکوے نہیں کرتے ہاں تکلیف سے تھوڑا بدل ضرورجا تے ہیں جس کا ایمان کمزور ہوتا ہے وہ شکرگزاری بہت کم کرتا ہے بلکہ شکایتیں کرتا ہے اور رونا روتا رہتا ہے کہ اس کے ساتھ ایسا کیوں ہوا ایسے وہ اپنی دوسری خوشیوں کا احساس بھی محسوس نہیں کرتا۔

دراصل قصور ہمارا اپنا ہے جو دن بدن زنگ آلود ہوتے جا رہے ہیں ظاہری اور باطنی طور سے۔ آگے سے آگے بڑھنے کی جستجو نے ہمارے دل مردہ کر دیے ہیں۔ اور پھر بار بار کہتے ہیں وقت بدل گیا ہے۔ وقت تو وہی ہے جو خالق کائنات نے روز اول بنایا وہی دن سے رات، رات سے دن کا سفر، وہی سورج کا طلوع و غروب ہونا ، وہی چاند کی چاندنی کا رات کی تایکی میں روشنی بکھیرنا۔

پرندوں کا رزق کی تلاش میں دن بھر ایک شاخ سے دوسری شاخ پر منڈلانا اور پھر شام کے سائے پھیلنے تک اپنے گھونسلوں کی جانب رخ کرنا بھی وہی ہے جو پہلے دن سے تھا ہم لوگ تو ان پرندوں سے بھی گئے گزرے ہو گئے ہیں جو اپنی پہچان ہی بھول گئے ہیں اور وقت کے بدلنے کا رونا روتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: