صبح و شام اللہ کی تسبیح کرو

میں نے پورے قرآن کریم کے اندر تسبيح / سبحان اللہ کے بارے میں تلاش کیا تو مجھے اس کے متعلق درج ذیل عجیب و غریب معلومات حاصل ہوئیں:

تسبیح پڑھنے سے اللہ تعالیٰ تقدیر کو بدل دیتا ہے جیسا کہ یونس علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ربانی ہے:
{فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ . لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ} (سورة الصافات 143-144)
ترجمہ : اگر یونس علیہ سلام تسبیح پڑھنے والوں میں سے نہ ہوتے تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں پڑے رہتے۔
اور یونس علیہ السلام ان الفاظ کے ذریعے اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے: “لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين ” .

تسبیح ایسا ذكرہے ہے جس کا ورد پہاڑ اور پرندے بھی اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کے ساتھ کیا کرتے تھے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
( وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُودَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ ۚ ) (سورة الأنبياء 79)
ترجمہ: داؤد ( علیہ السلام ) کے ساتھ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کر دیا تھا جو تسبیح کرتے تھے۔

تسبیح کائنات کی ساری مخلوقات کا ذکر ہے جیسا کہ اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے:
﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُسَبِّحُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ (النور/41)
ترجمہ: کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔

اور اللہ کے نبی زکریا علیہ السلام جب اپنے محراب سے نکلے تو انھوں نے اپنی قوم کو تسبیح پڑھنے کا حکم دیا۔ آیت کریمہ ہے:
(فَخَرَجَ عَلَىٰ قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرَابِ فَأَوْحَىٰ إِلَيْهِمْ أَن سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا (سورة مريم11)
ترجمہ: اب زکریا ( علیہ السلام ) اپنے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آکر انہیں اشارہ کرتے ہیں کہ تم صبح وشام اللہ تعالٰی کی تسبیح بیان کرو ۔

اور موسی علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے بطور خاص یہ دعا کی کہ ان کے بھائی ہارون علیہ السلام کو ان کا وزیر بنا دے تاکہ تسبیح اور ذکر و اذکار کرنے میں ان کے معاون اور مددگار ثابت ہوں۔ وہ دعا یہ ہے:
(وَاجْعَلْ لِي وَزِيرًا مِنْ أَهْلِي (29) هَارُونَ أَخِي (30) اشْدُدْ بِهِ أَزْرِي (31) وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي (32) كَيْ نُسَبِّحَكَ كَثِيرًا (33) (سورة طه)
ترجمہ: اور میرے خاندان میں سے میراایک وزیر بنا دے، میرے بھائی ہارون کو، اسے میرا پشت پناہ بنا دے ، اور اسے میرے امر(رسالت)میں شریک بنادے، تاکہ ہم تیری خوب تسبیح کریں، اور تجھے کثرت سے یاد کریں۔

اسی طرح میں نے پایا کہ تسبیح جنتیوں کا ذکر ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے:
(دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ ۚ ) (سورة يونس 10)
ترجمہ : ان کے منہ سے یہ بات نکلے گی ’’سبحان اللہ ‘‘ اور ان کا باہمی سلام یہ ہوگا ’’السلام علیکم‘‘۔

تسبیح یہ فرشتوں کا بھی ذکر ہے جیسا کہ اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے:
( وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَن فِي الْأَرْضِ ۗ ) (سورۃ الشوریٰ 5)
ترجمہ : اور تمام فرشتے اپنے رب کی پاکی تعریف کے ساتھ بیان کر رہے ہیں اور زمین والوں کے لئے استغفار کر رہے ہیں۔

یقینا تسبیح بہت ہی عظیم الشان ذکر ہے اور اس کی تاثیر اور اس کا فائدہ اس قدر ہے کہ اللہ رب العزت اس کے ذریعے تقدیر کو بدل دیتا ہے جیسا کہ یونس علیہ السلام کے ساتھ پیش آیا۔

اے اللہ! ہم سب کو ان لوگوں میں سے بنا دے جو کثرت سے تیری تسبیح پڑھتے ہیں اور بکثرت تجھے یاد کرتے ہیں۔

( سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ)
اس ذکر کے اندر دو نمایاں چیزیں ہیں “تسبیح اور نفسیاتی راحت و اطمینان” ان دونوں چیزوں کے درمیان باہم کیا ربط ہے مجھے پہلے معلوم نہیں تھا لیکن ایک مرتبہ قرآن کریم کی ایک آیت میری نظر سے گزری جس نے اس راز کو میرے لئے واضح کردیا کہ پورے دن اللہ کی تسبیح پڑھنا کس طریقے سے نفسیاتی راحت و اطمینان کا سبب بنتا ہے۔ وہ آیت کریمہ یہ ہے:
(وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ۖ وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَىٰ (سورة طه 130)
ترجمہ: اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور تعریف بیان کرتا رہ ، سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے ، رات کے مختلف وقتوں میں بھی اور دن کے حصوں میں بھی تسبیح کرتا رہ بہت ممکن ہے کہ تو راضی ہو جائے ۔

اس آیت کریمہ میں غور کیجئے کہ کس طریقے سے دن کی تمام گھڑیوں میں تسبیح پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے یعنی طلوع آفتاب سے پہلے، غروب آفتاب سے پہلے، رات کے اوقات میں، دن کے شروع میں، اور دن کے آخر میں الغرض دن کا کوئی بھی حصہ باقی نہیں بچا ہے کہ جس میں تسبیح پڑھنے کا حکم نہ دیا گیا ہو۔
اور اس آیت کریمہ میں مذکور “رضا” سے دنیا و آخرت دونوں کی رضا مقصود ہے۔

سورۃ الحجر کی آخری آیات میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:
( وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ(97) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ(98)
ترجمہ: اور بلاشبہ یقینا ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ اس سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں۔ پس اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کریں اور سجدہ کرنے والوں میں شامل ہوجائیں۔

غور کیجئے اس عظیم الشّان آیت کریمہ نے کس طریقے سے اس دوا اور تریاق کی طرف رہنمائی کی ہے جو سینے کی تنگی کے لئے علاج اور دلوں کی تمام بیماریوں کے لیے شفا ہے۔

اور ایک انتہائی عجیب و غریب چیز جو ہمیں قرآن کے ذریعے سے معلوم ہوئی وہ یہ کہ ہم لوگ ایسی دنیا میں جیتے اور بستے ہیں جو دنیا ہمیشہ تسبیح کی صدا سے گونجتی ہے۔ چنانچہ آسمان کی گرج اللہ کی تسبیح کرتی ہے، پہاڑ اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں، پرندے اللہ کی تسبیح میں مصروف رہتے ہیں الغرض آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کی تسبیح میں مصروف و مگن ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ہم انسانوں کو ان ساری مخلوقات کی تسبیح و تعریف کا شعور و ادراک نہیں ہوتا۔

اے ہمارے رب! یقینا تیری ذات پاک و صاف اور لائق تعریف ہے۔

حقیقت میں آج ہم نے جانا کہ ہماری زندگی کے کتنے قیمتی لمحات یوں ہی ضائع و برباد ہوگئے۔ ہم نے انہیں تیری تسبیح و تعریف میں نہیں استعمال کیا۔

اللہ تعالی ہم سب کو کثرت سے تسبیح پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

یہ میسج اپنے دوست و احباب کے ساتھ شئیر کیجئے اور اپنے اجر و ثواب میں اضافہ کیجئے۔ آپ کی رہنمائی کی وجہ سے ان کی تسبیح کا اجر و ثواب بھی آپ کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا۔ ان شاء اللہ

اللہ کرے کہ آپ کے تمام اوقات ذکر الہی سے تر اور معطر ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: