دجال سیریز حصہ سوم

“دجال کہاں ہوسکتا ہے” حاضر ہے.

دجال کے پہلے حصے میں ہم نے احادیث کے حوالے سے دجال کے متعلق بات کی کہ اس بات پہ مہر ثبت ہوجائے کہ دجال ہے اور آکر ہی رہے گا جو اسکے منکرین ہیں یا مذاق اڑاتے ہیں وہ گویا ارشاداتِ نبویﷺ کا ہی انکار کررہے ہیں۔ دوسرےحصے میں پڑھاکہ دجال ہے کون اسکی جسامت کیسی ہوگی اس کو پہچانا کیسےجائے گا۔

آج کے حصے میں ہم ایک اہم ترین سوال کے دجال اس وقت ہے کہاں؟یہ ایسا سوال ہے جسکی دجال کے بارے میں جاننے والے ہر شخص کو تلاش ہے. دجال کی موجودگی کے اصل مقام کے بارے میں تو اس وقت صرف اللہ پاک ہی جانتا ہے اور اس کے بعد شاید شاید تھوڑا بہت اشارۃً دجال کے چیلے واقف ہوں جو دجال کے قریب ترین شمار کیے جاتے ہیں اور دُنیا کے بدلتے حالات کے سبب مسلسل دجال سے رابطے میں رہتے ہیں اور اس مردود کو آگاہ رکھتے ہیں اور اس سے ہدایات لیتے ہیں۔ دجال حضورپاکﷺ کےوقت سے ہی دُنیا میں ہی اسی زمین پہ موجود ہے اور دُنیا کے حالات سے مکمل طور پر خبردار ہے۔

یہاں ذکر کرتا چلوں ایک بار پھر حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالٰی عنہ کا جنکی ملاقات دجال سے ہوئی تھی اور انہوں نے دجال کو ایک ویران جزیرے پر پایا تھا۔اس وقت ہماری دُنیا میں دُو مقام ایسے ہیں جو پراسراریت سے بھرپور ہیں اور وہاں عام آدمی کی رسائی ناممکن ہے۔ان دو مقامات میں ایک تو برمودہ ٹرائینگل ہے اور دوسرا جاپان کا ” ڈیول سی” “ڈریگن ٹرائینگل” یا اردو میں اسے شیطانی سمندر کہتے ہیں۔

1۔ برمودہ تکون اور جاپانی تکون میں کئی باتیں مشترک ہیں پہلی بات یہ کہ دونوں میں ہی انسان کی رسائی ممکن نہیں۔
2۔ دونوں جزیرے ویران وبیابان ہیں اور حکومتوں کی جانب سے دونوں کی جانب سفر کرنے کی اجازت نہیں۔
3۔ دونوں جزیرے کئی ہوائی سمندری اور بحری جہاز نگل گئے جن کی کوئی خبر نہیں کہ کیسے گم ہوئے؟
4۔ دونوں جریزوں میں کمپاس کام نہیں کرتا اور جانے والے جہاں اپنا راستہ کھو دیتے ہیں۔
5۔ دونوں جزیروں پہ انتہائی طاقتور میگنیٹک فیلڈ یا مقناطیسی قوت موجود ہے جو کسی بھی چیز کو اپنے اندر سمو سکتی ہے۔
6۔ دونوں جزیروں میں گم ہوجانے والے جہازوں کو پراسرار طور پر کئی دہائیوں بعد دوبارہ رونما ہوتے دیکھا گیا ہے۔
7۔ دونوں جزیروں پر اڑن طشتریان اڑتی دیکھی گئی ہیں جنہیں ہم ایلینز کی سواری بھی کہتے ہیں۔

اب ایک اہم بات جو شاید آپ نے کبھی نوٹ نہ کی ہوکہ چاہے دجال جاپان کے شیطانی سمندر میں ہو یا برمودہ تکون میں، ان دونوں جزیروں میں موجود انتہائی طاقتور مقناطیسی قوت قدرتی نہیں۔حیران ہوگئے ناں؟ چلیں بتاتا ہوں۔

جب حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ نے دجال سے ملاقات کی تھی تو حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ اس وقت عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے یعنی اگر کسی کے ذہن میں یہ آئے کہ وہ صحابی رسول اللہﷺ تھے تو شاید دجال سے بچ گئے تو نہیں ایسا نہیں تھا حضرت تمیم داری اس وقت نہ مسلمان تھے نہ اکیلے تھے بلکہ ان کے ساتھ 30 افراد تھےجو صحیح سلامت واپس لوٹ ائےتو یہ بات بالکل واضح ہےکہ ان دونوں جزیروں میں موجود مقناطیسی قوت قدرتی نہیں ہے ورنہ یہ قوت اس وقت بھی موجود ہوتی اسلیے کہا جاسکتا ہے ان دو جزیروں میں جو واقعات ہو رہے ہیں انکے پیچھےکچھ انسانی اور کچھ شیطانی قوتوں کا ہاتھ موجود ہے جو کہ نہیں چاہتے کہ دنیا یہاں کے بارے میں جانے یا اسے کھوجے.
آج یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ جب دجال اسی زمین پر موجود ہے تو ساری دُنیا اس وقت طاقتور ترین سیٹیلائٹس کی نگرانی میں ہے تو دجال کو کیوں نہیں ڈھونڈ نکالا گیا تو بات بالکل غلط ہے کہ زمین کا چپہ چپہ کا سیٹلائٹس کی پہنچ میں ہے کیونکہ ابھی ایسے کئی مقامات ہیں جن کو کھوجا نہیں جاسکا اور دوسری بات یہ بھی ہے کہ ساری ٹیکنالوجی دجالیوں کے ہاتھ میں ہے اگر انکی پہنچ دجال تک ہو بھی چکی ہے تو وہ کبھی اس کا ذکر نہیں کریں گے۔

خیر جب حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کا واقعہ مخبردوجہاں، سردار الانبیاء حضرت محمد ﷺ نے اصحابہِ کرام رضوانِ اللہِ اجمعین کے گوش گزار فرما چکے تو نبی پاکﷺ نے اپنا عصا مبارک زمین پر مارتے ہوئے فرمایا کہ یہ ہے طیبہ یہ ہے طیبہ اور دجال نہ یمن کے سمندر میں ہے نہ شام میں بلکہ دستِ مبارک کا اشارہ مشرق کی جانب کرتے ہوئے فرمایا کہ دجال مشرق میں ہےمشرق میں ہے۔

اب اگر آپ جزیرۃ العرب سےمشرق کی جانب نظر دوڑائیں تو آپکو دو مقامات ملیں گے جن ساری دُنیا اورمغرب میں بھی شیطانی مقامات، شیطانی سمندر کہا جاتا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ان دونوں مقامات کا آخری سرا امریکہ سے ہی جاملتا ہے جس کا ذکر آگے آئے گا۔

اب بات کرتے ہیں برمودہ تکون کی یہ حصہ کل قریباً تین سو جزائر پر مشتمل ہے جن میں 20 میں انسانوں کی آبادی ہے جبکہ باقی 280 جزائز مکمل طور پرسنسان وبیابان ہیں۔اس تکون کا کل رقبہ گیارہ لاکھ چالیس ہزار مربع کلومیٹر ہے یہ ایک مثلث نما تکون بحر اوقیانوس میں واقع ہے جو کہ ایک مشہور امریکی ریاست فلوریڈا سے شروع ہو کر برمودا اور پورٹوریکو سےہوتی ہوئی واپس فلوریڈا پر اختتام پذیر ہوتی ہے یوں یہ ایک مثلث کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ فلوریڈا کا مطلب ہے ”اس خدا کا شہر جس کا انتظار کیا جا رہا ہے” تو سوچیں آخر کونسا خدا؟ جی دجالیوں کا نام نہاد مسیحا جھوٹا دجال۔یہاں یہ بات ثابت ہوتی ہےکہ جاپان کے شیطانی سمندر سے برمودہ تکون تک دجال کا علاقہ ہے اور انہی علاقوں میں دجال کی موجود گی یقینی ہے۔

مصر کے ایک پروفیسر ابو داؤد عیسیٰ نے اپنی کتاب دجال اور برمودا تکون میں یہ بات لکھی ہے کہ دجال پہلے بحرالکاہل میں تھا مگر نبی پاکﷺ کے دُنیا سے پردہ پوشی فرما جانے کے بعد دجال کی زنجیریں تو ٹوٹ گئیں اور وہ شیطان سمندر سے شیطانی تکون یعنی برمودہ ٹرائینگل میں آگیا اور اپنے خروج کی تیاری میں ہے لیکن ابھی اسے خروج کی اجازت نہیں ملی۔

احادیثِ مبارکہ کے مطابق
“جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ابلیس کا تخت سمندر پر ہے ۔ وہ اپنے لشکر روانہ کرتا رہتا ہے تاکہ وہ فتنے برپا کریں ۔ اس کے نزدیک ( شیطنت کے ) درجے میں سب سے بڑا وہ ہے جو زیادہ بڑا فتنہ برپا کرے.” صحیح مسلم جلد 6 حدیث مبارکہ 7105

اس حدیث مبارکہ کے مطابق ابلیس اپنا تخت پانی یا سمندر پر لگاتا ہے اور یاد رکھیے کہ دجال شیطان کا آخری اور مخلوقِ خدا کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار ہے اور یہ دجال بھی سمندروں یا پانیوں میں ہی موجود ہے. خیر اس کی اصل اور بالکل حقیقی جگہ کا علم تو اللہ پاک ہی جانتے ہیں اور شاید کے کچھ حد تک شیطان کے اہم ترین چیلے واقف ہوسکتے ہیں مگر اس کے بارے یقین سے نہیں کہا جاسکتا ہاں ایک بات جو مکمل طور پر یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ دجال ایران میں اصفہان سے نکلے گا جہاں 70 ہزار یہودی صدیوں سے اسکے انتظار میں ہیں. واللہ علم…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: