دجال سیریز حصہ چہارم

جھوٹے مسیحا دجال کا ظہور

الحمدللہ دجال سیریز کے پہلے 3 حصے مکمل ہوچکےہیں جنکے لنک تحریر کے آخر میں موجود ہیں. جن میں پہلے میں احادیث مبارکہ سے دجال کا ہونا، حصہ دوم میں دجال کا شخصی خاکہ اور تیسرے میں دجال کی موجودگی کے مقام کا ذکر کیا اور آج ان شاءاللہ چوتھے حصے میں “دجال کا ظہور” کے عنوان سے شئیر کر رہا ہوں۔

بات آگے بڑھانے سے پہلے ایک بات واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اکثر ہمارے لوگ دجال کے ظہور کو دجال کے آجانے سے جوڑتے ہیں جبکہ حقیقت میں ظہور اور خروج دونوں کا مطلب الگ ہے۔ ظہور کا مطلب ہے ظاہر ہونا یعنی کسی چیز کی آمد کی علامت کا رونما ہونا جبکہ خروج کا مطلب ہے کہ کسی چیز کے ظاہر ہونے کے بعد مکمل طور پر واضح ہوکر سامنے آجانا۔ آج ہم بات کریں گے “ظہور” کی کہ دجال کے ظاہر ہونے کی علامتیں ہیں ان ظاہر ہونے کا مطلب قطعاً یہ نہیں کہ دجال آچکا ہے لیکن یہ اسکے آنے سے خروج سے پہلے کی نشانیاں ہیں۔ جو دجال کے آنے کا یا دُنیا میں دجال کے اثر و رسوخ کا پتہ دیتی ہیں۔

دجال کا ظہور کا علم صرف اللہ پاک کو ہے اور اسکے مکمل دن اور اصل وقت کا تعین صرف اللہ پاک کی ذات کو ہی ہے ان شاءاللہ اگلے حصے ” دجال کے خروج” میں آپکو دجال کے خروج کی نشانیوں سے بھی آگاہ کرونگا.

اب دجال کے خروج سے پہلے جو ظہور کا دور ہے یہ دور ہم سب کے سامنے ہے اور دجال کے ظہور کی بیان کی گئی نشانیاں ہمارے سامنے موجود ہیں۔دجال کا لفظ ہی دجل سے نکلا ہے پہلے بتا چکا ہوں کہ دجل یعنی جھوٹ دھوکہ فریب اور دجال کے خروج سے پہلے زمانہِ ظہور میں ہر طرف جھوٹ دھوکہ دہی اور مکاری کا دورا دور ہوگا۔ جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا قرار دیا جائے گا، ایماندار کو بے ایمان، دیانتدار کو بددیانت اور نیک کو بد و بد کو نیک کہا جائے گا۔ حقائق کو مسخ کیاجائے گا۔ یعنی وہی مثال ہوگی کہ سچ ابھی تسمہ باندھ رہا ہوگا اور جھوٹ پور ی دُنیا کا سفر کرچکا ہوگا قتلِ عام خونریزی ہوگی ہر طرف افراتفری کا سماں ہوگا چور بازاری لوٹ کھسوٹ عام ہوگی.

دجال کی آمد سے پہلے حق و باطل کی صف بندی ہوگی جو کہ آج کے دور میں ہم دیکھ رہےہیں کہ کیسے ہمارے اپنے لوگ اپنے مسلمان کچھ حق کی جانب چل رہے ہیں اور کچھ باطل کی جانب کھڑے ہیں۔ ہمارے پاکستان میں کچھ لوگ اپنی ریاست کے خلاف ملک و خدا دشمن قوتوں کے ساتھ کھڑے ہیں یہ ہونا تھا آخری جنگوں اور دجال کے ظہور سے قبل اللہ پاک نے چھانٹی کرنا تھی دجال کی آمد سے پہلے منافقین اور مومنین الگ الگ ہو جائیں گے اس بات کا اشارہ ہمیں آپ ﷺ کی ایک حدیث مبارکہ سے ملتا ہے۔

حضرت حُذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے آپ ﷺ نے دجال کا ذکر فرمایا کہ تم میں سے بعض کا فتنہ میرے نزدیک دجال کے فتنہ سے بڑا ہے۔ فتنہ چھوٹا ہو یا بڑا وہ دجال کے فتنے پر ہی منتج ہوگا۔ سو جو اسکے پہلے فتنوں سے بچ گیا وہ دجال کے فتنے سے بھی بچ جائے گا۔ اللہ کی قسم دجال مسلمان کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا۔ (احادیث فی الفتن والحوادث ، اص: 652)
اس حدیث مبارکہ سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ ہر ایک کو یہ فیصلہ لینا پڑے گا کہ وہ دجال کے لشکر میں ہوگا یا کہ رسول اللہﷺ کے لشکر میں۔ جیسا آج ہم دجالی دجالی کا لفظ دہراتے ہیں میری بات اسکی طرف ہی اشارہ ہے لیکن دھیان رکھیے کہ مسلمانوں سے مراد جنہیں دجال کوئی نقصان نہیں پہنچا پائے گا وہ لوگ ایمان کے مضبوط اور دجال کے خلاف ہونگے.

پاکستان کو دجال کے خلاف جنگوں میں ہر اول دستے کا سامقام حاصل ہے تو ایک بات بتاتا چلوں کہ چند سال قبل سی آئی اے نے امریکی حکومت کو یہ رپورٹ پیش کی تھی کہ ہمیں آج تک علم نہیں ہوسکا کہ دہشتگردی کی اس جنگ میں کون ہمارے ساتھ ہے اور کون ہمارے خلاف۔ ہمیں ایسی پالیسی وضع کرنی چاہیے کہ دشمن اور دوست کا تعین ہو سکے اور آج وہ سب ہمارےسامنے ہےکہ پاکستان کے ہر شعبے میں ہماری تقسیم نظر آ رہی ہے۔ پاکستان میں پاکستان کے خلاف تنظیمیں اور مذہب، ملکی سلامتی، معیشت ، صحت پہ سیاست دجالی صف بندی کا پیشِ خیمہ ہے۔

دجال کا تذکرہ بند ہوجانا اور اس کا ذکر چھوڑ کر غافل ہوجانا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دجال اس وقت تک نہیں نکلے گا جب تک لوگ اس کے تذکرہ سےغافل نہ ہوجائیں۔ یہاں تک کہ کرائمہ بھی منبروں پر اس کا تذکرہ کرنا چھوڑ دیں۔ (راوی عبداللہ ابن الامام)
آج ہمارے سامنے ہے ہمارے منبروں پہ جنت جہنم اور قیامت کا ذکر ہے مگر قیامت سے پہلے ایک فتنہِ اکبر دجال کا ذکر شاید ہی کوئی کرتا ہو. ہماری عوام دجال کے محض افسانوی باتیں سمجھتی ہے.

چشمے اور نہروں کا سوکھ جانا دجال کے قربِ ظہور کی نشانی ہوگی۔

حضرت عبداللہ ابن عمروابن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دجال کے آنے کی چند معلوم نشانیاں ہیں۔ جب چشمے نیچے چلے جائیں گےاور نہروں کا پانی نکال لیا جائے اور گھاس (سبزہ)پیلی ہوجائےاور قبیلہ مذحج اور ہمدان عراق سےقنسرین کوچ کرجائیں تو تم دجال کا انتظار کرو کہ صبح آجائے یا شام آجائے(مستدرک حاکم ج:ص 506)
آج ہمارے ہاں پانی کی قلت کس قدر تیزی سے بڑھتی جارہی ہے زیرِ زمین پانی کے ذخائر بتدریج کم ہوتے جا رہے ہیں جگہ جگہ ڈیم بنا کر پانی روکا جا رہا ہے بارشیں بے وقت ہو رہی ہیں۔ نہریں خشک ہوتی جارہی ہیں۔

پاکستان میں امریکہ کی جانب سے تحفہ شدہ ایک پودہ جسے ہم “سفیدہ” (لاچی) کہتے ہیں دریا کنارے، نہروں اور تالابوں کے کنارے بکثرت پایا جاتا ہے یہ پودہ پانی کا دشمن ہے اور پانی کو ایسےپیتا ہےکہ جیسے وہاں پانی تھا ہی نہیں۔ جن دیہاتوں میں اس پیڑ کی کثرت تھی وہاں کی زمین تیزی سے خشک ہوچکی ہے اور دن بدن پانی کی شدید قلت بلکہ عالمی قلت پیدا ہو رہی ہے اور پانی جنگوں کی وجہ بن سکتا ہے۔ پانی کی قلت دجال کی آمد کی نشانی ہے کیونکہ اسی پانی سے دجال اپنی جھوٹی خدائی کا دعویٰ کرے گا۔

دریائے فرات کا خشک ہوجانا.
دریائے فرات کا پانی خشک ہوجانا بھی دجال کی آمد کی نشانی ہے۔ دریائے فرات پر ترکی نے 13 یا 14 ڈیم بنا رکھے ہیں اور ان میں سب سے بڑا ڈیم “اتاترک ڈیم ” ہے یہ ڈیم اتنا بڑا ہے کہ اگر اس ڈیم کو مکمل بھرنا چاہیں تو دریائے فرات کو اس ڈیم میں مسلسل ایک ماہ تک گرانا ہوگا تب جا کر یہ ڈیم مکمل بھرےگا۔ اس ڈیم سے نہ صرف عراق اور شام بلکہ دیگر مسلم ممالک کے لیے بھی پانی کی شدید قلت کا باعث ہے۔

موسمیاتی تبدیلیاں اور موسموں پر کنٹرول کرنے کے کامیاب تجربات۔۔۔

دُنیا بھر میں موسموں میں بڑی تبدیلیاں آئیں گی کہیں درج حرارت شدید بڑھ جائے گا کہیں کم ہوجائے گا اور شیطانی قوتیں موسموں پر قابو پالیں گی ، کہیں قحط سالی ہوگی تو کہیں شدید بارشیں ہونگی تو کہیں بارشیں روک دی جائیں گی۔

ہارپ(ان شاءاللہ دجال کے ہتھیار کے عنوان سے اگلے حصوں میں اس پہ لکھوں گا) جیسی ٹیکنالوجیز دجال کےلیے تیار ہونگی۔ ان شاءاللہ ان ٹیکنالوجیز کے بارے بھی آپکو آگاہ کرونگا جن میں ہارپ ، ہیومن کلوننگ، ہولو گرافک ٹیکنالوجیز، سیٹیلائیٹس، اڑن طشتریاں، خلائی مخلوق وغیرہ پہ لکھنا ہے، بیلوبیم کے بارے لکھ چکا اس کے علاوہ اگر آپ لوگوں کے ذہن میں بھی سوالات ہونگے تو ان شاءاللہ اس سریز کے اختتام پر آپکے سارے سوالوں کے جواب دونگا۔

دجالی فیشن عام کیا جانا بھی دجال کے ظہور اور خروج سے پہلے ایک اہم نشانی ہے۔
دجال کے متعلق ہم نے احادیث میں پڑھا کہ وہ انتہائی ایک آنکھ والا یعنی کانا اور انتہائی بھدا بری شکل والا ہوگا ، اسکے گھنگریالے بال ہوں گے اور ظاہر ہے کہ ایسے شخص کے پاس کون جاتا ہے جو اتنا بھدا ہو اور ایک آنکھ ویسے بھی کراہت کی علامت ہے تو دجال کے ظہور سے قبل دجال سے انسیت پیدا کرنے کے لیے نوجوانوں میں ایک آنکھ کو مقبول کیا جارہا ہے جو کل تک بھدی لگتی تھی لیکن آج مسلمان نوجوانوں تک میں اسے ایک فیشن کے طور لیا جاتا ہے۔ ایک آنکھ والی ٹی شرٹ اور لوگوز استعمال کیے جاتے ہیں داڑھی کے طرح طرح کے ڈیزائن بنا کر سنت نبوی کی توہین کی جاتی ہے، گھنگریالے بال آج کے جوانوں کے فیشن بن چکے ہیں.

آج ہم خوفناک فلمیں دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں جنہیں ہم حقیقی زندگی میں نہ دیکھ پاتے لیکن دجال کی بھدی شکل سے ہمیں مانوس کرنے لیے انتہائی بدصورت شکلیں بنا کر دکھائی جاتی ہیں، بچوں کو بھیانک شکلوں والے کارٹون دکھائے جاتے ہیں جنہیں بچےانتہائی خوشی سے دیکھتے ہیں اور ان سے جلدی مانوس ہو جاتے ہیں جبکہ انکا اصل مقصد دجال کے آنے سے پہلے آپکو دجال کی بدصورتی سے مانوس کرنا ہے۔

وائرس اور بیماریوں کی بھرمار، آبادی میں کمی، فیملی پلاننگ یہ بھی دجال کے آنے سے پہلے دجال کی تیاری ہے۔

دجال کے ظہور کے اس دور میں جب یہودیوں نے اس کے لیے تیاریاں شروع کی تھی تب میرے ناقص علم کے مطابق 17 صدی عیسوی کو دجال کے ظہور کا سال کہا جاسکتا ہے۔ جب دجال کے چیلے یہودیوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی بنانا شروع کی،فری میسنری اور الومیناٹی جیسی تنظیمیں وجود میں لائے اور دجال کی آمد کے لیے راہ ہموار کرنا شروع کی ۔ یوں تو تاریخ میں ہمیں کئی طاعون اور دیگر امراض کی خبریں ملتی ہیں لیکن 1720 وہ پہلا سال تھا جب انسانی تخلیق کردہ بیماری نے کروڑوں لوگوں کی جان لی، پھر یہی بیماری 1820 میں ائی پھر 1920 میں اور اب 2020 میں یہ ہے 20 کا عدد باقاعدہ دجالیوں کی منصوبہ بندیوں سے ترتیب دیا گیا ہے.

اس کے علاوہ دُجال کی آمد سے پہلے دُنیا کی 6 سے 7 ارب کی آبادی کو ایک ارب کی آبادی تک لانے کےلیے پوری کوشش کی جارہی ہےدنیا میں کئی ممالک میں جنگیں اور پراکیسزے کے ذریعے انسانوں کے قتل کے ساتھ ساتھ اسی کے لیے طرح طرح کے وائرسز،نت نئی بیماریاں، جن میں پولیو، ایڈز، کروناوائرس وہ دیگر ایسی لاتعداد بیماریاں ہیں جو کہ یا تو انسان کی موت کا باعث بنتی ہیں اوریا پھر انسان کےتولیدی نظام کو برباد کرتی ہیں تاکہ دُنیا کی آبادی کنٹرول کی جا سکے.
اس میں ایسی بہت سی باتیں ہیں جو یہاں کہنا مناسب نہیں لیکن آج جنسی بیماریوں سے لیکر فیملی پلاننگ کے ڈراموں تک سب کچھ دجال کےخروج سے پہلے آبادی کو کم کرنےکی کوششیں ہیں۔ کوشش کرونگاکہ ایسےمشہور وائرسز جیسے پولیو، ایڈز،کروناوائرس یا دیگر بیماریاں ہیں انکی تخلیق و تاریخ آپ سے شئیرکروں۔

خاندانی نظام کی بربادی اور رشتوں میں احترام ختم کرنا۔
دجال کے آنے سے پہلے دُورِ ظہورِ دجال میں رشتوں میں احترام اور جنسی آزادی کو پروان چڑھانا بھی ایک اہم ترین جزو ہے، انکی کوشش ہےکہ دجال کے خروج سے پہلے رشتوں کے درمیان لحاظ ختم کردیا جائے، جس میں پاکستانی میڈیا دھیمےجبکہ بیرونی میڈیا مکمل طور پر کھل کر کھیل رہا ہے اور مائنڈ پروگرامنگ کے ذریعے غیر محسوس کن انداز میں یہ بات دکھائی جارہی ہےکہ بیٹی باپ بہن بھائی انکےدرمیان کوئی بھی آڑ نہیں ہونی چاہیے ہر ایک کا اپنا جسم ہے وہ جہاں جیسے استعمال کرنا چاہے اسے آزادی ہو۔
بہن بھائی ماں بیٹا باپ بیٹی اور بھائی کی بیوی، سوتیلی ماں، سوتیلی بہن، سالی سب کے لیے سب کچھ جائز ہے اور کوئی عار محسوس نہ کی جائے.

یہ چند ایک اہم ترین نشانیاں ہیں جو دجال کے خروج سے پہلے دورِ ظہور میں پوری ہورہی ہیں۔ اس سب کے پورا ہو جانے کے بعد دجال میدان میں ہوگا اور ہم اس وقت بھی یہ سوچ رہے ہونگے کہ یار یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے یہ ہم کیسی پرانی باتیں کرتے ہیں لیکن صدقے جاؤں نبیِ دوجہاں، مخبرِ صادق ﷺ کے، کہ ٹیکنالوجی آج ترتیب دی جارہی ہے انہوں نے 1400 سال پہلے ہی بتادی تھی۔
جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: