فتنوں سے کیسے بچیں

آج کا دؤر جو کہ فتنۂ و فسادات سے بھرا پڑا ہے ایسے میں دین کو کس طرح پہچانا جا سکتا ہے ؟ اللہ سبحانہ وتعالٰی “سورة النمل” کی آیت نمبر 43 میں ارشاد فرماتے ہیں ۔ فَسۡئَلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ اِنۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کر لو ۔

معلوم ہوا کہ جب کسی بات کا علم نہ ہو کسی سکالر ، عالم، استاد سے معلوم کر لینا چاہیے ناکہ خود ہی جواب مختص کر کے عمل کرنے اور کروانے کی ترغیب دی جائے،ن جس بات کا علم نہ ہو تو اس پر فتوے بھی نہیں دینے چاہیئں، نبی کریم ﷺ کے زمانے میں بھی ایک ایسا واقعہ پیش آیا تھا،

حدیث ملاحظہ کیجئے

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نکلے، تو ہم میں سے ایک شخص کو ایک پتھر لگا، جس سے اس کا سر پھٹ گیا، پھر اسے احتلام ہو گیا تو اس نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا: کیا تم لوگ میرے لیے تیمم کی رخصت پاتے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہم تمہارے لیے تیمم کی رخصت نہیں پاتے، اس لیے کہ تم پانی پر قادر ہو، چنانچہ اس نے غسل کیا تو وہ مر گیا۔

پھر جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اس واقعہ کی خبر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے اسے مار ڈالا، اللہ ان کو مارے، جب ان کو مسئلہ معلوم نہیں تھا تو انہوں نے کیوں نہیں پوچھ لیا؟ نہ جاننے کا علاج پوچھنا ہی ہے، اسے بس اتنا کافی تھا کہ تیمم کر لیتا اور اپنے زخم پر پٹی باندھ لیتا ( یہ شک موسیٰ کو ہوا ہے ) ، پھر اس پر مسح کر لیتا اور اپنے باقی جسم کو دھو ڈالتا ۔

کتاب : سنن ابو داؤد ،
حدیث نمبر : 336

اللہ پاک ہم سب کو صحیح معنوں میں دین کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے والا بنائے، اللہ پاک تمام بیماریوں کو شفا عطا فرمائے، اللہ پاک ہم سب کو زندگی شان والی اور موت ایمان والی نصیب فرمائے، اللہ پاک ہم سب کا خاتمہ بالایمان فرمائے، آمین یا رب العالمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: