بلکہ یوں کہیے کہ قرآن پاک کو

قبرستان میں ایسی بے تحاشہ قبریں ہیں جن کے مکین زندگی میں سوچا کرتے تھے کہ نماز اس وقت پڑھیں گے جب خشوع و خضوع کا حصول ہوگا، یا قرآن جب بھی پڑھیں گے تو سمجھ کر پڑھیں گے۔

اس آس میں وقت کو ٹالتے رہے (جو کہ اکثریت انسانوں کی فطرت ہے) یہاں تک کے آخری وقت نے آن دبوچا اور کفن میں لپیٹ کر قبر تلے دبا دئیے گئے عبادات اور فرائض کو بلیک اینڈ وائٹ میں دیکھنے کی بھیانک غلطی ہرگز نہ کیجیے

جس قدر توفیق مل رہی ہے، کر گزریے۔ خشوع و خضوع اللّٰہ سے مانگیے پر عبادات سے اس آس میں غفلت نہ برتیے کہ اس وقت کروں گا جب پرفیکشن حاصل ہوگی
زندگی تو ایک جھٹکے میں جاسکتی ہے۔۔۔۔

کوشش کیجیے کہ اپنا ٹیمپو بنائیں۔ شروع کے چند دن صرف عادت بنانے پر فوکس کیجیے۔ جتنی نماز، جتنی تلاوت کی توفیق ملے، بس کرتے جائیے۔ پرفیکشن کی آس میں صفر ہوکر نہ بیٹھیے۔ ایک بار عبادات کا ٹیمپو بن جائے تو خشوع و خضوع کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ عبادات کے بہت سے درجات ہیں۔ اپنا سفر آج، ابھی سے شروع کردیجیے اور اللّٰہ توفیق دے تو منزلیں طے کرتے جائیے

اپنے بچوں کو یوں نہ کہیے کہ قرآن پڑھو تو سمجھ کر پڑھو۔ اس سے وہ نفسیاتی طور پر، قرآن پڑھنا اس وقت تک ٹالتے رہیں گے جب تک کہ وہ سمجھ نہ سکیں اور اس ٹالنے میں کئی لوگوں کی عمر ہی تمام ہوجاتی ہے

بلکہ یوں کہیے کہ قرآن کو سمجھ کر “بھی” پڑھا کرو، یعنی قرآن سمجھ آئے نہ آئے، پڑھا ضرور کرو اور کوشش کرتے رہو کے پڑھنے کی عادت کو ڈیویلپ کرکے سمجھنا بھی شروع کرو کیونکہ، ایک بار موت کی دہلیز پار ہوگئی، تو کسی صورت واپسی نہیں۔ زندگی بہت بڑا موقع ہے، اسے کسی بھی طرح سے ضائع نہ کیجیے۔۔۔۔!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: