تجارت میں برکت کا اصول

حلال وحرام،مکروہ اور غیر مکروہ ، جائز اور طیب مال کے مکمل احکام قرآن وحدیث میں موجود ہیں اور شریعت کی دیگر جزئیات کی طرح اس میں بھی مکمل رہنمائی کی گئی ہے ، جولوگ نماز اور روزہ کا اہتمام کرتے ہیں؛ مگر صفائی معاملات اور جائز وناجائز کی فکر نہیں کرتے ۔

وہ کبھی اللہ کے مقرب نہیں ہوسکتے ؛ اس لیے ان کا عمل شریعت پر ناقص ہے ، افسوس ہے کہ عرصہٴ دراز سے مسلمانوں کے درمیان معاملات سے متعلق جو شرعی احکام ہیں ان کی اہمیت دلوں سے مٹ گئی ہے اور دین صرف عقائد وعبادات کانام سمجھا جانے لگا ، حلال وحرام کی فکر رفتہ رفتہ ختم ہوگئی ہے اور دن بہ دن اس سے غفلت بڑھتی جا رہی ہے ، جس کے سبب مسلمان اقتصادیات میں پیچھے ہیں اور خاطر خواہ معاشیات میں انھیں ترقی نہیں مل رہی ہے ۔

تجارت میں برکت کا اصول
الحدیث النبوی:عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ :۔۔۔۔۔فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا ، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا.

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:(خریدنے اور بیچنے والے)۔۔۔۔۔ اگر دونوں نے سچائی اختیار کی اور ہر بات صاف صاف بیان اور واضح کر دی، تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ہوتی ہے۔ لیکن اگر انہوں نے کوئی بات چھپائی یا جھوٹ بولا تو ان کی خرید و فروخت میں سے برکت مٹا دی جاتی ہے۔ صحیح البخاری:2110

تجارت کسب معاش کا بہترین طریقہ ہے ، اسے اگر جائز اور شرعی اصول کے مطابق انجام دیاجائے تو دنیوی اعتبارسے یہ تجارت نفع بخش ہوگی اور اخروی اعتبار سے بھی یہ بڑے اونچے مقام اور انتہائی اجروثواب کا موجب ہوگی ، تجارت اگرچہ دنیاکے حصول اور مالی منفعت کے لیے کی جاتی ہے ، تاہم یہ خدا کا فضل ہے کہ زاویہٴ نگاہ اگر تھوڑا ساتبدیل کردیا جائے اورتجارت کرنے والے یہ سوچ لیں کہ خداکا حکم ہے ۔

حلال روزی کی تلاش اور حلال پیسوں کے ذریعے اولاد کی پرورش ، بیوی اوروالدین کی ضروریات کی تکمیل ؛ اس لیے ماتحتوں کے حقوق ادا کرنے اور غریب ونادار افراد کی مدد کرنے کے لیے یہ کا روبار کر رہے ہیں۔ اور پھر وہ کا روبار بھی اسلامی اصول کی روشنی میں کیاجائے تو ایسی تجارت کی بڑی فضیلت آئی ہے اور ایسے افراد کو انبیاء وصلحاء کی معیت کی خو شخبری دی گئی ہے ، ایک موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” التاجر الصدوق الأمین مع النبین والصدیقین والشہداء “ (سنن الترمذي، حدیث نمبر :۱۲۵۲) ” جوتاجر تجارت کے اندر سچائی اور امانت کو اختیار کرے تو وہ قیامت کے دن انبیاء ، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا“

تجارت کرنے کے ساتھ حقوق اللہ کی ادا ئیگی کا خاص خیال رکھا جائے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ کاروبارمیں ڈوب کر خدا سے کنارہ کشی اختیار کرلی جائے ، ایسے کاروبامیں کبھی اللہ کی رحمت نازل نہیں ہو سکتی ، تجارت یقینا اچھی چیز ہے؛ مگر اس کے حدود میں رہتے ہوے یہ کیاجائے ، ضرورت سے زیادہ اس میں مشغولیت ہلاکت اور موجبِ خسارہ ہے ؛ اس لیے علماء ور اہل تحقیق نے لکھا ہے کہ جب کبھی ایسا موقع آئے کہ ایک طرف معاشی تقاضے ہوں اور درسری طرف دینی تقاضے توایک موٴمن کو چاہیے کہ معاشی تقاضے کو چھوڑکر دینی تقاضے کی طرف دوڑپڑے ، اگر ایساکیا تو دنیوی واخروی دونوں اعتبارسے وہ کا میاب ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: