اللہ سے دوستی کرنے کا طریقہ

‏میرا دل چاہتا ہے میں سب کو اللہ سے دوستی کرنا سیکھا دوں ۔ اس سے باتیں کرنا، اس کی سننا، اپنی سنانا، سارے گلے شکوے اسے بتانا، جب یہ ہو جائے گا تو ہر مشکل آسان لگے گی آپ اپنے دن کا رات کا کچھ حصہ نکال کر اپنے رب کے ساتھ گزارا کریں زندگی خوب صورت ہوجائے گی ۔ ان شاء اللہ

جب انسان سب کچھ ہار کے اللہ کی طرف بڑھتا ہے نا تو اللہ اس سے دگنی تیزی سے اس کی جانب بڑھتا ہے۔ .پھر رفتہ رفتہ دل کی کیفیات بدلنے لگتی ہیں درد سکون میں بدلنے لگتا ہے۔ نا معلوم سی سکون کی کیفیات روح میں اترنے لگتی ہیں۔ مصلحتوں کی اور حکمتوں کی سمجھ آنے لگتی ہے۔ زندگی پھر سے محسوس ہونے لگتی ہے۔ پھر عرش سجایا جاتا ہے۔ صبر کے صلے کا تحفہ تیار کروایا جاتا ہے,۔ پھر فرشے بھی سوال کرتے ہیں کہ یا اللہ؟ یہ تیاریاں کس لیے؟ کون سا مہمان آرہا ہے؟

تو بتایا جاتا ہے “آج میرا بندہ کئی برسوں کی تھکن کے بعد, کئی ندامتوں کے بعد مجھ سے صلح کرنے آ رہا ہے” پھر وہ ہمارا انتظار کرتا ہے۔ ! پھر ہم جب اسکی بارگاہ میں پہنچتے ہیں اسکی مہمان نوازی میں جو سجدہ کرتے ہیں وہ معمول کے سجدوں سے بہت الگ ہوتا ہے,,,,,, نم آنکھیں اور سسکتے ہونٹ اس سکون کا منظر بیان کر رہے ہوتے ہیں جس کے بعد کبھی غم نہیں آتا۔ بس پھر اس نے تو تھامنا ہوتا ہی ہے اسکو تمھارے لوٹ آنے کا انتظار جو رہتا ہے. پھر صلح بھی ہو جاتی ہے اور محبت سے بھی نواز دیا جاتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: