کتاب انسان کے اندر کیسے گھل مل جاتی ہے

میں نے اپنے شیخ سے شکایت کی کہ: ” میں نے ایک کتاب پڑھی ہے ، لیکن مجھے اس میں سے کچھ بھی یاد نہیں رہا ۔ ” شیخ نے مجھے کھجور دے کر کہا: اسے چباؤ! پھر مجھ سے پوچھا: کیا ( یہ کھجور کھانے سے ) تم بڑے ہوگئے ہو ؟

میں نے کہا: نہیں ۔ کہنے لگے: لیکن یہ کھجور تمھارے جسم میں گُھل مِل گئ ۔ اس کا کچھ حصہ گوشت بنا ، کچھ ہڈی ، کچھ پٹھا ، کچھ کھال ، کچھ بال ، کچھ ناخن اور کچھ مسام ۔۔۔۔! تب میں نے جانا کہ: ” میں جو بھی کتاب پڑھتا ہوں وہ تقسیم ہوجاتی ہے۔ ا

س کا کچھ حصہ میری لغت مضبوط کرتا ہے ، کچھ میری معرفت بڑھاتا ہے ، کچھ اخلاق سنوارتا ہے ، کچھ میرے لکھنے ، بولنے کے اسلوب کو ترقی دیتا ہے ۔۔۔اگرچہ میں (کھجور کی طرح ) یہ سب محسوس نہیں کر پاتا۔ ”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: