دجال سیریز حصہ نہم

“دجال کا خروج کہاں ہوگا۔اور اسکے لشکر میں موجود اصفہانی یہودی لشکر” حاضر ہے۔

گزشتہ روز کے حصہ پنجم میں “جھوٹے مسیحا دجال کے ظہور” کے بعد آج ہم بات کریں گے ” جھوٹے مسیحا دجال کا خروج کہاں سے ہوگا اور بعداز خروج کے حالات” کی۔

“ظہورِ دجال” اور “خروجِ دجال” کے بعد آج ہم بات کریں گے “مقامَ خروجِ دجال” اس کا حوالہ بھی ہم ان شاءاللہ حدیث مبارکہ سے ہی لیں گے ۔ ہم نے اکثر سُنا جس کا ذکر میں نے خود بھی کئی مرتبہ کیا کہ دجال اصفہان سے نکلے گا جہاں ستر ہزار یہودی صدیوں سے اسکے منتظر ہیں۔

حدیث نبویِ ﷺ ہے کہ” دجال شام و عراق کے درمیانی راستے سے نکلے گا اور اپنے دائیں بائیں ہر طرف فساد پھیلائے گا، اے اللہ کے بندو! (اس وقت ) ایمان پر ثابت قدم رہنا۔ ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنہ الدجال و خروج عیسیٰ ،حدیث نمبر : 4077

اس وقت شام و عراق میں جو قیامت برپا ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں افسوس کی بات یہ ہے کہ جن جنگوں کو ہم مال و دولت اور تیل کی جنگ کہہ رہے ہیں وہ اصل میں دجال کے جنگ ہے ایران شامی حکومت، دجال کی جنگ اور ایران میں بیٹھے یہودی، اسرائیل اور امریکہ کا اس جنگ میں اہم کردار آپ خود اس پہ ذرا روشنی ڈالیں تو آپکو بہت کچھ نظر آجائے اور خود کو مسلم کہنے والے ممالک کا کردار بھی عیاں ہوجائے گا جو میں یہاں تفصیل سے نہیں لکھ سکتا یا شاید فی الحال نہیں لکھنا چاہ رہا بس ایک غیر مصدقہ اشارہ کہ شام کے بشارالاسد جو مسلمانوں کے قتلِ عام کا ذمہ دار ہے اس کے خاندان کا اصفہان کے یہودیوں سے گہرا تعلق ہے.

خیر آگے بڑھتے ہیں شام و ایران کے درمیانی راستےسے نکلنے والا جھوٹا مسیحا دجال وہاں سےدوبارہ ایران کے علاقے اصفہان اور اصفہان میں ایک خاص مقام “یہودیہ” آئے گا اور اپنے لشکر سےجاملے گا جو صدیوں سے اس کے انتظار میں ہے۔ جیسا کہ ذیل میں دی گئی احادیث مبارکہ میں روایت کیا گیا ہے۔

“سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دجال اصفہان کی یہودیوں کی بستی سے ظاہر ہوگا، اس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے، انھوں نے سبز رنگ کی شالیں کندھوں پر ڈال رکھی ہوں گی”۔مسندِ احمد، جلد 12،حدیث مبارکہ 12983

حضرت انس ؓرسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اصفہان کے ستر ہزار یہودی دجال کی اطاعت کریں گے ، ان پر سیاہ چادریں ہوں گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔مشکوۃ المصابیح جلد سوئم، حدیث مبارکہ 5478 ( بعض روایتوں میں سبز رنگ کی شالیں اور بعض میں سیاہ چادریں منقول ہیں)

میرے آقائے نامدار ﷺ پہ میرے ماں باپ قربان 1400 سال پہلے فرمائی گئیں بیان کی گئیں سچائیاں آج حرف بحرف پوری ہو رہی ہیں اور دجال کے انتظار میں 77000یہودی اس وقت ایران میں موجود ہیں اور ایران میں یہودیوں کی تاریخ 3000 سال سے بھی پرانی ہے۔ان 77000 میں سے 70000 یہودی دجال کی پیروی کریں گے۔
ایران میں رہنے والے یہودی دُنیا بھر میں موجود یہودیوں کے تمام قبائل میں سے سب اہم اور افضل سمجھے جاتے ہیں جنہیں کئی بار اسرائیل میں آباد ہونے کی دعوت دی گئی لیکن انہوں نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے ایران کو ہی ترجیح دی۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ ایران میں یہودیوں کا اثر و رسوخ کتنا ہے اور اسکا پاکستان پر کیا اثر پڑتا ہے۔

ایک چھوٹی سی بات کی وضاحت جو کہ آپ سے کوئی پوچھ سکتا ہےکہ بعض مقامات پر اصفہان میں یہودیوں کی تعداد تھوڑی بتائی جاتی ہے کہ اصفہان میں 30000 سے 33000 یہودی اس وقت موجود ہیں حقیقت میں آج سے ایک عشرہ پہلے یہودیوں کی تعداد 30 ہزار سے 33 ہزار تھی جو 2014 کے آخرمیں 77000 تک پہنچی تھی جس پر ایرانی یہودیوں نے باقاعدہ جشن بھی منایا۔
یاد رکھیے کہ اسرائیل میں اس وقت اصفہان کے ایرانی یہودیوں کی تعداد 150000قریباً ہے، اسی طرح امریکہ میں رہائش پذیر ایرانی یہودیوں کی تعداد 50000سے ذیادہ ہے، یورپ اور کنیڈا میں بھی قریباً15000 ہزار ایرانی یہود رہائش پذیر ہیں۔اسکےعلاوہ ایران کےدوسرے حصوں ہمدان، اصفہان، تہران کے علاوہ شیراز میں بھی یہودی موجود ہیں اور اسرائیلی حکومت اور آرمی میں ایرانی یہودیوں کا بہت ذیادہ اثر و رسوخ ہے۔
اسرائیل کےسابق صدر”موشیہ کاتساف”بھی اصفہان کے یہود میں سے تھے، اسی طرح اسرائیل کے سابق وزیر دفاع “شاول موفاز” اور اسرائیل کے ایک مشہور خاخام (یہودی مذہبی رہنما)کا تعلق بھی اصفہان سے تھا۔

ایک اور روایت بھی آئی ہے جس میں ہے کہ
“سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مشرق کی جہت میں واقع خراسان نامی جگہ سے دجال نمودار ہوگا اور ایسے لوگ اس کی پیروی کریں گے جن کے چہرے ڈھالوں کی طرح چوڑے چپٹے ہوں گے۔”مسندِ احمد، جلد 12 حدیث مبارکہ 12979
اس روایت میں خراسان کا ذکر آیا ہےتمام روایات کا ذکر اس لیے کر رہا ہوں تاکہ دوبارہ کبھی آپکے سامنے شام و عراق، اصفہان اور خراسان سے دجال کے خروج کا ذکر ہو تو آپ ان میں الجھیں نہیں۔ اب اوپر بیان کی گئی حدیثِ مبارکہ میں جس خراسان کا ذکر آیا ہے یہ خراسان ایک ہی ہے افغانستان والا بھی ایران والا بھی اکثر لوگ ان کو دو سمجھتے ہیں.

اصل میں قدیم خراسان میں شمال مغربی افغانستان کا علاقہ شامل تھا۔ خراسان مشرق میں بدخشاں تک پھیلا ہوا تھا اور اس کی شمالی سرحد دریائے جیحوں اور خوارزم تھے۔ مختلف ادوار میں نیشاپور، مرو، ہرات اور بلخ اس کے دارالحکومت رہے۔ جبکہ مشرقی خراسان مع ہرات شہر افغانستان کی حددو میں شامل ہے۔ اس کے مشرق میں افغانستان شمال میں روس جنوب میں کرمان اور سیستان اور مغرب میں اصفہان اور جرجان واقع ہیں۔تو اس میں بھی خراسان ایران میں آتا تھا۔

آخرمیں کچھ باتیں واضح کرتا چلوں کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دجال کا خروج اصفہان میں ہو اور یہاں سے دجال اپنا لشکر لیکر شام اور عراق میں اپنی خدائی کا دعویٰ کرے۔اصفہان ایران میں ہے اور جہاں دجال کے نکلنےاپنے لشکر سے ملنے کا ذکر ہے وہ مقام یہودیہ کہلاتا ہے۔ آخری بات جہاں خراسان کا ذکر ہے زمانہِ قدیم میں ایران بھی خراسان میں شامل تھا۔

یہاں آپ دوستوں سے ایک گزارش کرتا چلوں کہ حضورپاکﷺ کی ذات مبارکہ سے متعلق لفظ پیشنگوئی استعمال نہ کیا کریں کیونکہ پیشن گوئی کا مطلب ہےکہ ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی یعنی ایک امکان کو ظاہر کیا جاتا ہے ۔

ایک ضروری وضاحت…

دوسری بات کہ چند دوستوں کی خواہش ہے کہ اس سلسلے کو یا تو اکھٹے شئیر کیاجائے اور یا اس کو مختصر کیا جائے تو میرے پیارو یہ کوئی سلسلہ نہیں ہے نہ اس تحریر کو لکھنےکا مقصد کوئی پوسٹ بنانا یا بس فی الوقتی معلومات دینا ہے میری کوشش ہے کہ جیسے یہودیوں کا بچہ بچہ اپنے مذہب، آنے والے وقتوں کے متعلق معلومات رکھتا ہے تو آپ سب کو بھی معلومات ہونی چاہیئں۔ یہ وہ معلومات ہیں کہ جیسے موت برحق ویسے دُنیا میں اور کچھ ہو نہ ہو لیکن دجال کا آنا برحق ہے تو اگرکوئی شخص اس سلسلے سے بُور ہوچکا ہے تو کسی پہ بالکل بھی زبردستی نہیں کہ وہ پڑھے لیکن یاد رکھیے کہ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں۔

ایک بات اور کے جی بالکل آپکو کتب بھی اس حوالے سے مل جائیں گی لیکن میری کوشش ہے کہ آپکو ہر ایک پوائنٹ سے ہر ایک مقام سے روشناس کراؤں تاکہ آپکے پاس ٹھوس اور واضح معلومات ہوں ۔رہی بات پوسٹ کو اکھٹا شئیر کرنے کی تو نہیں معلوم یہ کب تک چلے گا کیونکہ مجھے روز کا کام روز کرنا پڑتا ہے ہر ایک پوائنٹ پر ریسرچ کرنا پڑتی ہے۔ ان حالات میں جب یہودی کھل کر کہہ رہےہیں کہ دجال کے لیے ہم تیار ہیں تو آپکو تیار ہونا چاہیے یاد رکھیئے یہ مذاق نہیں ہےانسانی تاریخ کا سب سے بڑا فتنہ ہے جس سے ایک شخص بھی نہ بچ پائے گا۔
ان شاءاللہ کل “دجال خروج کے بعد کیا کرے گا اور دجال کی طاقت” کے متعلق بات کریں گے۔
جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: