اللہ کا نظام

ایک شخص درخت کے نیچے سویا ہوا تھا،اچانک اس نے دیکھا کے بچھو اس کی طرف آ رہا ہے، تو وہ تھوڑا پیچھے ہٹ گیا۔

بچھواس کے پاس سے ایسے گزرا جیسے وہ کسی کام جارہاہواس نے سوچا،عجیب بات ہے کہ مجھے کچھ کہے بغیر یہ آگے کیسے چلا گیا۔اس نے بچھو کا پیچھا کرنا شروع کر دیا آگے گیاتو دریا آگیا بچھو کنارے کے آگے اسے کھڑا تھا جیسے کسی کشتی کا انتظار کر رہاہو۔

تھوڑی دیر بعد ایک پانی میں تیرتا ہوا پتا آیا اور اس کے پاس آ کر رک گیابچھو اس پر سوار ہوا اور پتا آگے چل پڑااُس شخص نے چھلانگ لگائی اور اس بچھو کے پیچھے پیچھے تیرنے لگا بچھو دریا کے دوسرے کنارے پر پہنچ گیا۔

جب بچھو دریا کے دوسرے کنارے پر پہنچا تو پتا رُوکا،بچھو اتر گیاوہ شخص بھی کنارے پر آ گیا ۔بچھو چلتاہوا دور ایک آدمی کے پاس پہنچا جو سویا ہوا تھااسکے قریب جا کر رک گیادوسری طرف سانپ آ رہا تھا
جیسے ہی سانپ سوئے ہوئے شخص کو ڈسنے لگا تو بچھو نے سانپ کو ڈس لیا یوں سانپ مر گیااور بچھو آگے چلا گیا۔ وہ شخص جو بچھو کے پیچھے یہاں تک پہنچا تھا،اُس نے سوئے ہوئے آدمی کے پاؤں پڑلئے وہ جاگ گیا تو اسے کہنے لگا کہ آپ تو بہت بڑے بزرگ ہیں۔
اس نے پوچھا کیوں کیا ہوا؟پھر اس نے اسے سارا واقعہ سنایا واقعہ سننے کے بعد اس نے کہا،بھائی میں تو یہودی ہوں۔

اس شخص نے یہودی کو چھوڑا اور سر سجدے میں رکھ دیا اور کہنے لگا اے میرے مالک تو ایک بندے کو بچانے کیلئے اتنا بڑا کارخانہ چلاتا ہے
میں دن رات خوامخواہ پریشان ہوتا ہوں تو میرے بارے میں اس سے بھی بہتر کر رہا ہوگا۔
اگر ہماری آنکھیں کھول دی جائیں اللہ ہمارے ساتھ کیا معاملات کر رہا ہےاور کہاں کہاں سے ہماری مدد کر رہا ہے تو ہم کبھی سر سجدے سے بھی نا اٹھائیں.

اے بندے تو کیوں پریشان ہے تیری تقدیر میں جو لکھ دیا گیاہے۔ اُس پر راضی رہے تیرا رب بہتر فیصلہ کرنے والاہے۔
بتادو میری مصیبتوں کو میرا اللہ کتنا بڑا ہے ،جو مصیبت پہنچی ہے مجھ پراُس میں بھی میرا ہی بھلاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: