ابابیل کا مکمل واقعہ

حضور نبی کریم صلی الله علیه وآله وسلم کی ولادت سے ایک سال پہلے ایک ابرھ نامی کافر بادشاھ ہاتھیوں کا لشکر لے کر بیت الله شریف کو (نعوذ بالله)گرانے نکلا تھا ، ایک جگہ مکہ کی سرزمین سے تھوڑا فاصلے پر اس نے کچھ وقت رکنے کا ارادہ کیا البتہ تمام لشکر رک گیا ہاتھی بیٹھ گئے۔

کچھ وقت کے بعد دوبارہ چلنے کا ارادہ کیا تو ہاتھی نہیں اٹھ رہے تھے بہت کوشش کے باوجود ہاتھی نہ اٹھے ۔ ادھر مکہ کے قریشوں کے سردار آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے دادا حضرت عبدالمطلب نے اعلان کردیا تھا کہ ابرھ کافر بادشاھ کا لشکر مکہ کے قریب پہنچ گیا ہے لہذا آپ بیت الله کے ارد گرد بنے مضبوط قلعوں میں چھپ جاؤ الله اپنے گھر کی حفاظت خود ہی فرمائے گا ۔

الله تعالی نے چڑیا کے تقریبا برابر چھوٹے سے پرندے بھیجے جن کا نام ابابیل تھا ان کی چونچ میں چھوٹے چھوٹے پتھر تھے ایک پتھر سے اس بادشاھ کے تین تین آدمیوں کو نشانہ بنایا جب وہ پتھر اوپر سے پھینکتے تو آدمی کو لگ نکل کر پھر ہاتھی کو لگ کر زمین میں سوراخ کردیتے اتنی اسپیڈ سے وہ پتھر گراتے ۔

الله تعالی نے اس واقعے کو سورة الفیل میں ذکر کیا ہے “کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ※ کیا اس (تمہارے رب ) نے ان کے برے ارادے کو برباد نہیں کیا تھا ※ اور ان پر ابابیل پرندے بھیجے جنہوں نے ان پر کنکریلے پتھر پھینکے※ پھر الله نے انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح بنادیا ※ (اردو ترجمہ سورة الفیل )۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: